پٹوار کلچر کا خاتمہ ایک خواب،80فیصد سے زائد پٹوار خانے ریونیو ملازمین کی تحریروں کے محتاج

پٹوار کلچر کا خاتمہ ایک خواب،80فیصد سے زائد پٹوار خانے ریونیو ملازمین کی ...

لاہور (عامر بٹ سے)بورڈ آف ریونیو کا شعبہ پی ایم یو پنجاب کے عوام کو پٹوارکلچر سے نجات دلانے میں ناکام ہو گیا،کئی سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک پٹوارخانوں میں ہاتھ سے لکھی تحریروں پر اکتفا کیا جارہا ہے ،پنجاب کے 80فیصد سے زائد پٹوارخانے ابھی تک فرد اور انتقال کے اندراج کے وقت پٹواریوں اور تحصیلداروں کی قلمی تحریروں کے محتاج ہیں ،مزید معلوم ہوا ہے کہ پنجا ب میں لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرتے وقت اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ پنجاب کے عوام کو پٹواریوں اور تحصیلداروں کے ہاتھوں سے لکھی تحریروں اور فیصلوں سے نجات دلائی جائے گی کیونکہ لینڈ مافیا پٹوارخانوں کے عملہ کی ملی بھگت سے ان تحریروں اور فیصلوں میں اپنی مرضی کی تبدیلی اور ٹمپرنگ کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں مصروف ہے ان قلمی تحریروں اور فیصلہ جات کو بدعنوانی کی پہلی سیڑھی قرار دیتے ہوئے ریونیو نظام سے اس کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کا ایک اور دعویٰ غلط ثابت ہو گیا ہے۔روزنا مہ پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے ایک سروے کے دوران شہری امجدعلی،کاشف بٹ،عمر گوندل،علی حمزہ نے کہا کہ ورلڈ بینک، بورڈ آف ریونیو اور پنجاب حکومت کے سیاسی اور حکومتی نمائندوں کے سامنے بڑے بڑے دعوے کرنے والے پراجیکٹ مینجمنٹ ادارے کی انتظامیہ کئی سال گزر جانے کے بعد بھی پٹوار سسٹم سے مینوئل طریقے سے ہاتھ سے لکھی گئی تحریروں کا خاتمہ نہیں کر پائی۔ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ انتظامیہ نے اپنے جاری کردہ کتابچے میں یہ واضح تحریر کیا تھا کہ ہاتھ سے لکھے ہوئے ریکارڈ اور نظام میں عدم تحفظ کی کمزوری چند عناصر کو اس سے ناجائز فائدہ اٹھوانے اور بدعنوانی کا موقع فراہم کرتی ہے جس کے باعث بہت سے بااثر افراد اپنے بے جا اثرو رسوخ کے ذریعے اپنی مرضی کے فوائد حاصل کرنے اور ریکارڈ میں بدعنوانی کی بنیاد رکھتے ہوئے تبدیلی کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔شہری محمد الیاس،راشدمحمود،تصدیق حسین نے کہا کہ سالہا سے سال سے ابھی تک پٹوارخانوں میں پٹواریوں اور تحصیلدار وں کی ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریروں کے بغیر فردوں اور انتقال کا اندراج ممکن نہیں ہو سکا اپنے وعدوں اور عوامی امنگوں پر پورا نہ اترنے کے باعث شعبہ پی ایم یو بذات خود محکمہ بورڈ آف ریونیو کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے ۔شہری عباس حسین،تصور حسین اور تمیم اقبال نے کہا پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ انتظامیہ نے قلمی تحریر کو بدعنوانی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کئی سال قبل اس کی نشاندہی کی تھی۔اب پی ایم یو نے ورلڈ بینک انتظامیہ کو کاغذی کارروائیوں سے بہلا کر اس پراجیکٹ میں 6ماہ کا اور ٹائم لے لیا ہے لیکن سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر ان 6ماہ میں بھی یہ پراجیکٹ مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا ۔دوسر ی طرف بورڈ آف ریونیو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں کے 80فیصد سے زائد موضع جات کو کمپیوٹرائز ڈ کر دیا گیا ہے جبکہ باقی 20فیصد کو بھی جلد مکمل کرلیا جائے گا،اربن موضع جات کو کمپوٹرائزڈ کرنے کی ذمہ داری اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ہے جس پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے،قلمی تحریروں کے حوالے سے بھی کام کیا نہایت تیزی سے کیا جارہا ہے،فرد اور انتقالات کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے ،جس سے لوگ استفادہ حاصل کررہے ہیں جبکہ گرداوری رپورٹ ،نشاندہی وغیرہ کو بھی 2016میں مکمل کمپوٹرائزڈ کرکے مینول تحریروں سے نجات دلا دی جائے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...