14 سال سے کم عمربچوں سے مشقت قانوناً جرم ہے،راجہ اشفاق سرور

14 سال سے کم عمربچوں سے مشقت قانوناً جرم ہے،راجہ اشفاق سرور

لاہور( اپنے نامہ نگار سے ) وزیر محنت وانسانی وسائل پنجاب راجہ اشفاق سرور نے کہا کہ 14 سال سے کم عمربچوں سے مشقت قانوناً جرم ہے حکومت پنجاب نے اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں کی مشقت کی ممانعت کے قانون2016ء کا اطلاق کر دیا ہے۔خلاف ورزی کی صورت میں بھٹہ مالک سمیت تمام ذمہ داران کو قید،جرمانے اور بھٹہ بندش کی سزا کا سامنا کرنا ہو گاان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز محکمانہ اجلاس میں متعلقہ افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔وزیر محنت راجہ اشفاق سرور نے کہا کہ وزیراعلی محمد شہباز شریف نے بھٹہ مزدورں کے بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لئے خصوصی پیکج متعارف کروایا ہے جس کے تحت بھٹہ مزدورں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کروائیں ۔ سکول داخل ہونے والے بچوں کو ایک ہزار روپے فی کس ماہانہ خصوصی وظیفہ،مفت کتابیں ،سٹیشنری،یونیفارم اور ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی دی جائے گی۔اجلاس کوبتایا گیا کہ محکمہ محنت وانسانی وسائل پنجاب نے بھٹوں پر بچوں سے مشقت کی ممانعت کے آرڈی ننس کی حتمی منظوری کے بعد خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت ایکشن کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت محکمہ کی طرف سے ڈسٹرکٹ لیبر کمیٹیوں کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ لیبر کمیٹیوں میں ڈی سی اوز،ڈی پی اوز،اسسٹنٹ کمشنرز،ایس ڈی پی اوز اور سپیشل برانچ کے افراد بھی شامل ہوں گے۔ ڈی سی اوز اورڈی پی اوز کمیٹیوں کے سربراہ ہوں گے جو ہفتے میں دو بھٹہ خشت کا معائنہ کرنے کے پابند ہوں گے،کمیٹی میں شامل اسسٹنٹ کمشنرز اور سب ڈویژنل پولیس آفیسرز روزانہ کی بنیاد پر بھٹوں کا معائنہ کیا کریں گے جبکہ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی اس عمل میں کمیٹی کو معاونت فراہم کریں گے۔مذکورہ آرڈیننس کی خلاف ورزی کی صورت میں بھٹہ سیل جبکہ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو چھ ماہ قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔۔

مزید : میٹروپولیٹن 1