ایک نیا جھگڑا

ایک نیا جھگڑا
 ایک نیا جھگڑا

  

ایک اور جھگڑا کھڑا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ہے۔ کراچی، حیدرآباد جیسے بڑے شہروں کے بلدیاتی اداروں میں ایم کیو ایم کے امیدواروں نے اکثریت حاصل کر لی ہے، جس کے سبب ان اداروں کے معاملات ایم کیو ایم کو ہی چلانے ہیں۔ انتخابات کو گزرے وقت ہوا لیکن الیکشن کمیشن اب تک محفوظ نشستوں پر انتخابات کرانے کا پروگرام جاری نہیں کر سکا ہے البتہ جمعرات کے روز سندھ بھر میں منتخب نمائندوں کی حلف برداری کی تقاریب منعقد ہوئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے بھی کمیشن سے استدعا نہیں کی کہ محفوظ نشستوں پر انتخابات کرادئے جائیں تاکہ بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخابات عمل میں آسکیں اور منتخب نمائندے ان اداروں کا کاروبار چلا سکیں۔ بلدیاتی اداروں کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے، بلکہ سیاسی جماعتوں کو تو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہ ادارے صوبائی حکومت کی طرف آنے والے جھٹکوں کو برداشت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے صوبائی حکومت محفوظ رہتی ہیں، لیکن سب کی اپنی اپنی منطق ہے۔

اس منطق بازی نے بھرم بھی ادھیڑ دیا ہے۔ پیپلز پارٹی ہو یا کوئی اور سیاسی جماعت، ان کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ تمام اختیارات صوبائی اور وفاقی حکومتیں ہی استعمال کریں، حالانکہ سب ہی صوبائی خود مختاری کے دعوے دار ہیں۔ جب صوبائی خود مختاری کا سودا ذہنوں میں سمایا ہوا ہے تو شہروں کے بلدیاتی اداروں کو بھی خود مختاری دی جائے۔ جنرل مشرف کے ضلعی حکومتوں کے نظام میں یہ خامی تلاش کی گئی کہ صوبائی حکومتوں کو نظر انداز کر دیا گیا تھا ۔ انگریز نے جو بلدیاتی نظام نافذ کیا تھا اس نظام کے تحت تو بلدیاتی اداروں کو گلی کی صفائی سے لے کر اپنے علاقوں میں لائبریریوں کے قیام ، پرائمری تعلیم اور بنیادی صحت کی ذمہ داریاں تک دی گئی تھیں۔ یہ انگریز کا نظام ہی تھا،جس میں جھگڑوں اور اختلافات کو نمٹانے کا طریقہ کار طے کیا گیا تھا تاکہ لوگ عدالتوں اور وکلاء کے چکر لگانے سے محفوظ رہ سکیں۔ ان کا پیسہ اور وقت بچ سکے۔

پاکستان میں مختلف ادوار میں ان اداروں کی اہمیت اور افادیت کو سیاست کے حوالے سے خوب خوب استعمال کیا گیا جسے سیاسی جماعتوں نے ناپسند کیا اور انہوں نے بلدیاتی اداروں کی افادیت کو سمجھتے ہوئے بھی نہیں سمجھا اور اختیارات کو صوبائی حکومت کے تابع رکھ کر استعمال کرنا مناسب سمجھا۔ حالیہ انتخابات بھی سپریم کورٹ کی بار بار مداخلت اور با لآخر سخت ہدایت کے بعد بادل نخواستہ کرائے گئے۔ ایک کے بعد دوسرا رخنہ ڈالا گیا۔ ایک کے بعد دوسرا قانون بنایا گیا۔ سندھ میں جس طرح کا نظام نافذ کیا گیا اس میں اتنی بھول بھلیاں ڈال دی گئی ہیں کہ شہروں میں بلدیاتی ادارے کچھ اور ہیں، دیہی علاقوں میں بلدیاتی ادارے کچھ اور ہیں۔ ضلع کونسل کے الیکٹورل کالج کی ہیئت کچھ اور ہے حالانکہ ایک ہی نظام رکھا جاسکتا تھا جو سب کی سمجھ آتا اور جس پر آسانی سے عمل کیا اور کرایا جاسکتا تھا۔ بہر حال حکومت میں موجود لوگوں کو عقل شائد زیادہ مل جاتی ہے اِسی لئے وہ آسان سے آسان معاملہ اور چیز کو بھی مشکل بنا دیتے ہیں۔ پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

ایک جانب تو بلدیاتی اداروں کا باضابطہ قیام بلاوجہ تاخیر کا شکار ہے دوسرا یہ کہ اختیارات خصوصاً مالی اختیارات کے معاملات بھی گنجلک ہیں۔ کسی بھی منتخب نمائندے کو محکمہ بلدیات کے سیکشن افیسر کی خوشامد ہی کرنا ہوگی اگر اسے اپنی تجاویز اور منصوبوں کی منظوری حاصل کرنا ہے۔ موجودہ بلدیاتی قوانین ان ہی قوانین کا چربہ ہیں، جو جنرل ضیاء الحق کے دور میں نافذ کئے گئے تھے۔ اس زمانے میں بھی میئر اور متخب نمائندے رویا کرتے تھے کہ منظوری کے لئے بھیجے گئے ان کے منصوبوں کو سیکرٹریٹ کی طاقوں میں رکھ دیا جاتا ہے اور انہیں بار بار یاد دہانی کرانی پڑتی ہے۔ مشرف کے دور کے نظام میں انہیں یہ شکایات نہیں تھیں۔ اسی دور میں قائم علی شاہ کی صاحبزادی نفیسہ شاہ اور آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی ناظمہ رہی تھیں۔ اگر ضیاء کے دور کے قوانین ہوتے تو وہ لوگ اپنی ایک بھی تر قیاتی اسکیم پر عمل نہیں کرا پاتیں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے نمائند ے کسی بھی ایسے بلدیاتی نظام کے مخالف نظر آتے ہیں،جس میں ان اداروں کے نمائندے اپنے منصوبوں پر عمل در آمد کراسکیں کیوں کہ اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی ذہن بنائے بیٹھے ہیں کہ ترقیاتی کام کرانا ان کی ہی ذمہ داری ہے۔ پیپلز پارٹی کے نمائندے تو اس منطق کو قبول کر سکتے ہیں، لیکن ایم کیو ایم کے نمائندے اس کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے اور یہیں سے نیا جھگڑا کھڑا ہو گا۔ مکمل اختیارات دینا ہوں گے ورنہ تصادم کی کیفیت برقرار رہے گی۔ یہ کیفیت توانائیوں کو ضائع کرنے کے سوا کچھ اور نہیں دیتی۔ کیوں نہ اس کیفیت کو پیدا کرنے کی بنیادی وجہ کو ہی حل کر لیا جائے۔

مزید : کالم