ٹریفک جام: پریس کلب کو دور منتقل کر دیں

ٹریفک جام: پریس کلب کو دور منتقل کر دیں
 ٹریفک جام: پریس کلب کو دور منتقل کر دیں

  

گزشتہ روز ایک دوست سے ملاقات کے لئے ایجرٹن روڈ جانے کا اتفاق ہوا،صاحبزادہ دفتر چھوڑنے آیا، راستے میں پٹرول لیتے ہوئے کچھ وقت صرف ہوا، اب صورت حال یہ بنی کہ دفتر میں بیٹھ کر کام شروع کیا جاتا تو وقت گزرتے پتہ نہیں لگتا تھا۔ یوں کام بھی ادھورا رہتا اور مقررہ مقام تک جانے میں تاخیر بھی ہو جاتی،اس لئے بہتر جانا کہ واپس ہی آ کر لکھنا شروع کیا جائے، چنانچہ صاحبزادے سے کہا کہ وہ ہمیں پریس کلب اتار دے کہ تھوڑا وقت وہاں گزار کر اگلی منزل تک چلے جائیں گے۔ پریس کلب کے باہر ٹریفک رینگ کر چل رہی تھی کہ باہر کوئی مظاہرہ ہونے والا تھا، برخوردار کو تو نکل جانے کا موقع مل گیا اور ہمیں کلب میں کچھ وقت گزارنا پڑا، جب دوست سے ملاقات کے لئے جانے لگے تو پریس کلب کے باہر مظاہرہ شروع ہو چکا تھا۔ یہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے حوالے سے تھا۔ پاکستان ہائیڈرو الیکٹرک لیبر یونین کے لوگ آئے ہوئے تھے اور قیادت برادر محترم خورشید احمد نے کی تھی،مظاہرین نے سڑک روکی تو اردگرد ٹریفک کا پورا نظام معطل ہو گیا اور گاڑی والے حضرات پیچھے مڑنے کے چکر میں مزید پھنس گئے تھے۔یوں ٹریفک جام ہو گیا، ہم یہ منظر دیکھتے ہوئے ایجرٹن روڈ کی طرف بڑھ گئے کہ پیدل ہونے کی وجہ سے راستہ مل ہی رہا تھا،اپنے دوست کے دفتر پہنچے تو وہ غیر حاضر تھے، تھوڑی دیر بعد ان کے ساتھ فون پر رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ وہ ٹریفک ہی میں پھنسے ہوئے ہیں اور راستہ ملنے پر ہی آئیں گے، چنانچہ ان کو کافی تاخیر ہو گئی۔

اپنے دفتر پہنچتے ہی وہ ہمارے مہربان شکوہ کرنے لگے کہ پریس کلب کی وجہ سے احتجاج کرنے والوں کو یہ سہولت تو مل گئی کہ یہاں احتجاج کریں تو ان کو کوریج مل جائے گی، لیکن اس احتجاج اور مظاہروں کی وجہ سے ٹریفک جام ہو جاتی ہے ، چونکہ دن میں کئی مظاہرے ہوتے ہیں اس لئے کئی بار یہ سب کچھ ہوتا اور دہرایا جاتا ہے وہ ہم صحافیوں سے خفا تھے کہ ہم اپنی سہولت کے لئے مظاہروں کو رکنے نہیں دیتے، لیکن ٹریفک جام کی وجہ سے شہریوں کی آمدو رفت میں شدید دشواری ہوتی ہے اردگرد کئی تعلیمی ادارے ہیں۔ طلباء کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا، اور اس کا واحد حل یہی ہے کہ پریس کلب ہی یہاں سے کھلی جگہ منتقل کر دیا جائے یا پھر مظاہروں کو قطعی ممنوع قرار دے دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے کاروبار بھی بہت بُری طرح متاثر ہوئے ہیں، ہمیں ان سے اختلاف کی جرأت نہ ہوئی تاہم یہ ضرور کہا کہ غلام حیدر وائیں کی مہربانی سے یہ پریس کلب بنا، آج کے دور میں صرف اسے منتقل کرنے کے لئے تو کوئی جگہ نہیں دی جائے گی۔ اِس لئے ٹریفک ہی کے نظام کو درست کرنا ہو گا۔

پریس کلب کے باہر مظاہروں کا سلسلہ اپنی جگہ، لیکن صرف یہیں مظاہرے نہیں ہوتے، آبادی کے دباؤ کی وجہ سے اب یہ طریقہ ہو گیا کہ احتجاج کے لئے ٹائر جلائے جاتے ہیں، جس سے انسانی جان کو بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا اور ٹریفک بھی بند ہو جاتی ہے۔ یہ سب ہر روز ہوتا ہے کہ لوگوں کے مسائل زیادہ ہیں جن کو حل نہیں کیا جا رہا۔ہمارے شہر کے چیف ٹریفک پولیس آفیسر اچھے افسروں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن وہ تاحال اس ٹریفک جام کا کوئی حل تلاش نہیں کر سکے۔یوں تو وہ کئی نئے نئے کام سوچتے اور ان کو شروع بھی کرا دیتے ہیں، لیکن ٹریفک جام ہونے کا سلسلہ روکا جائے۔ یہ ان کے ذہن رسا میں ابھی تک نہیں آیا۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ نابینا افراد نے کلمہ چوک پہنچ کر دھرنا دیا اور میٹرو بس کی آمدورفت روک دی، اس کے ساتھ ہی فیروز پور روڈ کی بھی ٹریفک بلاک ہو گئی۔ یہ سلسلہ دو روز تک جاری رہا،آنے جانے والے محنت کشوں، طلباء اور گھروں والوں کو شدید پریشانی ہوئی، اُدھر کلمہ چوک، اِدھر پریس کلب اور مال روڈ کی ٹریفک بھی احتجاج کے لئے رکی پڑی تھی، یوں سارا شہر ہی پریشانی میں مبتلا تھا۔

اب یہ تماشہ ہر روز ہوتا ہے،انتظامیہ کی طرف سے معقول سدباب بھی نہیں کیا جاتا ورنہ مظاہرین سے بات کر کے ٹریفک رواں رکھی جا سکتی ہے، لیکن یہ بھی نہیں ہوتا کہ مظاہرین کے خیال میں لوگوں کو تکلیف ہو گی تو ان کی سُنی جائے گی۔ یہ تو مظاہروں کی صورت حال ہے، لیکن یہاں تو معمول کے دِنوں میں بھی ٹریفک جام کے منظر نظر آتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک وارڈنز پر ہے،کہ خراب سگنل درست نہیں کئے جاتے اور سڑکوں کی مرمت نہیں ہوتی۔ بعض سڑکوں کی ڈیزائننگ میں بھی فرق ہے اور بائیں مڑنے کے لئے بنائی گئی سلپ روڈز ناکافی ہیں۔ ادھر ہمارے ٹریفک وارڈنز بھائیوں کا کام ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا نہیں، چالان کرنا ہے۔ یہ حضرات چوراہوں سے آگے کھڑے ہوتے ہیں اور شہریوں کو ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کا موقع مہیا کرتے ہیں تاکہ یہ ان کو روک کر چالان کر سکیں۔ اگر یہ حضرات چوک میں ہوں اور ٹریفک کے بہاؤ کو درست رکھیں تو کئی مسائل حل ہو جاتے ہیں، لیکن بوجوہ ایسا نہیں کیا جا رہا، ڈی ٹی او صاحب سے بات ہو تو وہ اب سب کوتاہیوں سے انکار کر دیتے ہیں، حالانکہ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس مل کر مظاہرین سے ٹریفک کے لئے راسہ لے سکتے ہیں اور وارڈن حضرات ٹریفک کے بہاؤ کے لئے محنت کریں تو یہ بھی درست ہو سکتا ہے۔ یوں بھی ٹریفک پولیس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو ٹریفک قواعد کی پابندی کا عادی بنائیں۔

مزید : کالم