مشترکہ دشمن کو پہچاننے کا وقت

مشترکہ دشمن کو پہچاننے کا وقت
 مشترکہ دشمن کو پہچاننے کا وقت

  


اچھی بات ہے کہ اب دہشت گردی کو ایک علیحدہ حقیقت تسلیم کر کے فیصلے ہونے لگے ہیں۔ وگرنہ اس سے پہلے دہشت گردی کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا اور یہ لڑائی دہشت گردوں کو مزید مضبوط کر دیتی تھی، جس روز اسلام آباد میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں ہوا، اُسی دن کوئٹہ میں خود کش حملہ ہوا، جس میں بڑی تعداد میں پولیس کے افسر اور جوان شہید ہو گئے، اُسی دن جلال آباد میں پاکستان کے قونصلیٹ پر بھی خود کش حملے اور فائرنگ ہوئی، اُسی دن اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے میں واقع اے آر وائی کے آفس کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ گویا دہشت گردی کا ناسور اس روز ایک بڑی حقیقت کے طور پر سامنے آیا، جس روز اُس کے خلاف ایک نیا اور تازہ دم لائحہ عمل تیار کیا جا رہا تھا،اس لئے یہ سوچ لینا کہ کچھ ملنے والی کامیابیوں سے دہشت گردی پر کنٹرول کر لیا گیا ہے دانشمندانہ بات نہیں ہو گی۔ یہ ایک لامتناہی جنگ ہے، جس کے لئے حکمتِ عملی تبدیل کرتے رہنے ہی سے کام بنے گا۔

ایک مثبت تبدیلی اب تین ممالک کی قومی قیادتوں کے فیصلوں میں بھی نظر آ رہی ہے سب سے اہم بات یہی ہے اس میں بلا شبہ پہل پاکستان نے کی ہے۔ یہ ایک جرأت مندانہ اقدام تھا،جسے پاکستانی قیادت نے ممکن بنایا ہے۔اس کا لامحالہ اثر بھارتی قیادت پر بھی ہو گا۔ پاکستان نے جس طرح بھارت کی طرف سے پٹھان کوٹ ائر بیس پر حملے کے فراہم کئے جانے والے شواہد کو سنجیدگی سے لیا اور اُن کی تحقیق کرانے کے لئے اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی بھی بنائی،اُس سے کم از کم بھارتی قیادت کو یہ پیغام مل جانا چاہئے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔بھارت کی طرف سے اکثر یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا کہ پاکستان کی سیاسی حکومتیں تو ہمیشہ امن چاہتی رہی ہیں، مگر فوج کی رائے اُن کے تابع نہیں ہوتی۔ پٹھان کوٹ واقعہ میں بھی ہماری ایجنسیوں کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ہماری جمہوری اور عسکری قیادت نے ایک جگہ بیٹھ کر اس واقعہ کی تحقیق کا جو فیصلہ کیا اور جس طرح شواہد کی بنیاد پر جیش محمد کے خلاف کارروائی شروع کی،اُس سے اب بھارتی قیادت کے پاس ایسا کوئی جواز باقی نہیں رہا کہ جس کی بنیاد پر اپنے اس روایتی الزام کو دہرا سکے کہ بھارت میں دہشت گردی آئی ایس آئی کے ایماء پر ہو رہی ہے۔ پاکستان کے دانشمندانہ ردعمل نے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب اس پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لائے اور پاکستانی ایجنسیوں کو بھی اُن سے تفتیش کا موقع فراہم کرے بھارتی قیادت ایسے جرأت مندانہ اقدامات نہیں اُٹھا سکتی، مگر کم از کم ہمیں بھارت پر اخلاقی فتح ضرور حاصل ہو گئی ہے، جس کا خود بھارتی میڈیا اور حکومتی رویوں پر بھی فرق پڑا ہے۔ مثلاً بھارت کے وزیر صنعت اپنے ٹی وی پر فرما رہے تھے کہ پاکستان جو اقدامات اُٹھا رہا ہے وہ بہت اہم اور غیر روایتی ہیں۔ شاید اس لئے کہ خود پاکستان بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور بھارت سے زیادہ لوگ تو پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں۔

اگر دیر آید درست آید کے مصداق، خطے کے تینوں ممالک کی قیادتیں اس بات پر متفق ہو جاتی ہیں کہ ہم نے اپنے مشترکہ دشمن سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے تو دہشت گرد جو اس ناانصافی سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، وہ اب نہیں اُٹھا سکیں گے۔ جلال آباد میں پاکستانی سفارتی مشن کے سامنے جو دہشت گردی ہوئی، اُس کے فوراً بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو فون کیا اور اس امر کا یقین دلایا کہ دہشت گردوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان میں سول و عسکری قیادت کی طرف سے اس اعلامیے کو عمومی طور پر جرأت مندانہ قرار دیا گیا ہے کہ کسی دہشت گرد کو نہ تو پاکستان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے دی جائے گی اور نہ ہی انہیں پاکستان میں چھوڑا جائے گا۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی اس موقف کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ یہ ماضی کے اس موقف سے بالکل ہٹ کر ہے، جس میں اپنے علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی بجائے بھارت اور افغانستان کی حکومتوں پر زور دیا جاتا تھا کہ وہ وہاں سے ہونے والی در اندازی کو روکیں۔

شاید اب یہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بھارت اور افغانستان انٹیلی جنس شیئرنگ کا ایک مشترکہ نظام وضع کریں،جس کا تعلق صرف دہشت گردی کے خاتمے سے ہو، کیونکہ ان ممالک کی آپس میں نااتفاقی اور رابطہ کے فقدان کی وجہ سے دہشت گرد فائدہ اٹھاتے اور اپنا وار کر جاتے ہیں اُن پر کوئی الزام نہیںآتا،البتہ خاص طور پاک بھارت کے درمیان الزامات اور لفظوں کی ایک نئی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ پٹھان کوٹ کا جو واقعہ ہوا، اس پر شروع کے گھنٹوں میں بھارت کی طرف سے وہی روایتی الزامات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا کہ اس میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے،مگر جلد ہی بھارتی حکومت کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ شواہد کے بغیر اور قبل از وقت ہے،اِس لئے بعد میں اس الزام کو دہرانے کی بجائے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے الزامات کی بجائے پاکستان کو شواہد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔غالباً یہ بات دہشت گردوں کی قیادت کرنے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گی کہ دونوں ممالک اس واقعہ کو ماضی کے برعکس اس طرح دیکھیں گے کہ اصل حقائق سامنے آ جائیں گے۔عرصہ دراز سے تو ہر واقعہ کے بعد یہی ہوتا رہا ہے کہ دونوں طرف سے الزامات کی توپیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف سے آئی ایس آئی کی گردان ہوتی ہے تو دوسری طرف ’’را‘‘ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کھینچا تانی میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی اصلی حقائق سامنے آتے ہیں۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ پٹھان کوٹ کا واقعہ پاک بھارت کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش ہے۔ یقیناًیہ سازش ہو سکتی ہے،مگر سوال یہ ہے کہ سازش کس نے کی ہے۔پاکستان کی طرف سے اس سازش کا اس لئے کوئی امکان نہیں کہ عسکری و سول قیادت نے اتفاق رائے سے اس فیصلے کی منظوری دی ہے کہ بھارت سے قومی مفاد میں مذاکرات ہونے چاہئیں۔ اب جبکہ بھارت نے پٹھان کوٹ واقعہ کے شواہد فراہم کئے ہیں۔اُن پر تحقیق اور کارروائی کا فیصلہ بھی عسکری و سول قیادت نے مل کر کیا ہے،اِس لئے اب بھارت کی کم از کم یہ غلط فہمی دور ہو جانی چاہئے کہ پاکستان میں عسکری اور سول قیادت کی سوچ میں کوئی فرق ہے۔ پاکستان میں بعض حلقے حکومت کے بھارتی شواہد پر کارروائی کے فیصلے کو عاجلانہ قرار دے رہے ہیں۔ کچھ کے نزدیک یہ بھارت کو دُنیا میں مزید پروپیگنڈہ کرنے کا موقع دینے کے مترادف ہے کہ پاکستان اُس کے خلاف دراندازی میں ملوث ہے۔میرا خیال ہے یہ اعتراضات درست نہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف گزشتہ ڈیڑھ دو برس میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، اُن کی وجہ سے دُنیا کی نظر میں ہمارا مقام بڑھا ہے اور دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کرنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان کی پہچان بنی ہے، اس لئے اگر ہم نے بھارت کو پٹھان کوٹ واقعہ کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرنے کی جو پیشکش کی ہے دُنیا اُسے ایک مثبت عمل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ بھارت کے ساتھ اس قسم کا سلوک روا رکھ کے ہم اپنے کشمیر پر دیرینہ موقف کو نقصان پہنچائیں گے تو اس میں کوئی وزن نظر نہیں آتا، کیونکہ جن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، جن میں کچھ بھارتی حلقے بھی ملوث ہو سکتے ہیں،وہ تو ہونے ہی کشمیر اور پانی جیسے دیرینہ مسائل پر ہیں، اس لئے اس کاز کو بھلا کیسے نقصان پہنچ سکتا ہے؟ اس بار یہ تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف تینوں ممالک ایک ہو جائیں اور باقی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ اب یہاں یہ سوال ضرور اُٹھے گا کہ کیا پاکستان کی طرح بھارت بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُسی خلوص اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا،جیسا ہم کر رہے ہیں تو اس کا اصل جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا،تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر بھارت نے اس بار بھی بغل میں چھری اور مُنہ میں رام رام کا رویہ رکھا تو وہ کسی اور کے لئے نہیں، بلکہ خود دہشت گردوں کے لئے تر نوالہ بن جائے گا۔

مزید : کالم


loading...