جنرل پرویزمشرف اور ڈاکٹر عاصم حسین: انصاف کے دو پلڑے

جنرل پرویزمشرف اور ڈاکٹر عاصم حسین: انصاف کے دو پلڑے
 جنرل پرویزمشرف اور ڈاکٹر عاصم حسین: انصاف کے دو پلڑے

  


ڈاکٹر عاصم حسین بھی وہی حربے استعمال کر رہے ہیں جو بڑے لوگ قانون سے بچنے کے لئے کرتے ہیں۔بڑے لوگ جونہی گرفتار ہوتے ہیں، اُن کی رنگین اور سنگین بیماریاں بڑھ جاتی ہیں اور وہ ہسپتال میں داخل ہو جاتے ہیں۔ غریب غرباء اپنی تمام تر بیماریوں کے باوجود حوالات کی سیلن زدہ کوٹھڑیوں کے ٹھنڈے فرش پر بغیر دوا دارو کے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں یا زندگی بھر کے لئے طرح طرح کے روگ لگا لیتے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی ایک نہیں چل رہی، انہیں ہسپتال والوں نے بھی کوئی رعایت نہیں دی،انہیں گرفتار کرنے والے بھی انہیں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔۔۔یہ تو کہا نہیں جاسکتا کہ ڈاکٹر عاصم حسین معصوم ہیں، انہوں نے کچھ کیا نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی اپنے پکڑے جانے والوں کے لئے یہ دعویٰ کبھی نہیں کرتی کہ انہوں نے کرپشن نہیں کی،البتہ انہیں یہ شکایت رہتی ہے کہ انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔وہ میرٹ پر اپنا مقدمہ لڑنے کی بجائے اسے سیاسی سٹنٹ بنا کر مخالفین کو اس پر مطعون کرتے ہیں کہ اُن پر ہاتھ کیوں ڈالا جاتا ہے؟ وہ چاہتے ہیں کہ میثاقِ جمہوریت کی دہائی دے کر یا باہمی اتفاق برائے تحفظ جمہوریت کی آڑ میں اپنی ہر کرپشن کو چھپا سکیں۔وہ بھی اس طرح نہیں کہ اُن کی کرپشن خواہ خفیہ ہو خواہ کھلم کھلی اُس سے تعرض نہیں ہونا چاہتے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم نواز شریف سے سخت احتجاج کیا ہے اور انہیں طعنے دیئے ہیں کہ وہ دوبارہ انتقامی سیاست کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بات بھی کوئی ناقابلِ فہم نہیں ہے کہ انتقامی سیاست کے دور کو پیچھے چھوڑنے اور آئندہ ایسی سیاست نہ کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ایک دوسرے کی کرپشن پر بھی خاموشی اختیار کی جائے۔ آصف علی زرداری یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ خود انہو ں نے بھی انتقامی سیاست کو دفن کر دینے کے باوجود میاں محمد نواز شریف سے کچھ وعدے اور معاہدے کئے اور پھر اُن سے مُکر گئے اور یہ جملہ کہا کہ ’’وعدے یا معاہدے کوئی حدیث تو ہوتے نہیں‘‘۔ کرپشن تو بڑی بات ہے ، یہ پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہے۔انہوں نے تو محض پنجاب کی حکومت سے مسلم لیگ (ن) کو محروم کرنے کے لئے گورنر راج لگا دیا تھا اور مسلم لیگ(ن) کی برتری ختم کرنے کے لئے تمام تر حربے استعمال کر ڈالے تھے۔ آصف علی زرداری اگر سمجھتے ہیں کہ اُن کی پارٹی کے جن لوگوں کو کرپشن کے الزامات میں پکڑا جا رہا ہے، انہوں نے کرپشن نہیں کی تو پھر انہیں قانون پر بھروسہ ہونا چاہئے اور اُن لوگوں کی قانونی مدد کرنی چاہئے۔ طعنوں سے یہ کام نہیں ہونے والا:

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالب

ترے نا مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

ڈاکٹر عاصم حسین کرپشن کے مجرم ہیں یا نہیں؟ اس کا فیصلہ تو عدالتیں کریں گی۔ اُن کی تمام تر بیماریاں محض حیلے بہانے ہیں۔ انہیں تسلیم نہ کرنا یا کرنا بھی ایک قانونی عمل ہے۔ با حیثیت لوگ قانون کی ان کمزوریوں سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور قانون کے تحت مراعات حاصل کرتے رہے ہیں، لیکن ایک اور حوالے سے اگر اس معاملے کو دیکھا جائے تو ڈاکٹر عاصم حسین مظلوم دکھائی دینے لگتے ہیں۔اُن کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اگرچہ وہ قانون کے مطابق درست ہے، لیکن برابری اور انصاف کے پلڑے برابر رکھنے کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔کرپشن ایک بھاری جرم ہے،آئین شکنی بھی ایک سنگین ترین جرم ہے۔جنرل پرویزمشرف نے دو بار آئین توڑا، لیکن عدالت نے اُنہیں ایک بار آئین توڑنے پر ’’مجرم‘‘ ٹھہرایا۔ قانون کو اپنے لئے باسہولت بنانے کے لئے دیگر باحیثیت لوگوں والے حربے جنرل پرویز مشرف نے بھی استعمال کئے۔ یہ عین وہی حربے تھے جو جنرل پرویز مشرف کے لئے کامیاب ثابت ہوئے، لیکن ڈاکٹر عاصم حسین کے کام نہیں آ رہے۔ مشرف کی تمام تر بیماریاں مقدمے کے آغاز کے بعد ہی اُبھر کر سامنے آ گئیں اور یہ وہی حربہ تھا جو صاحبِ حیثیت لوگ استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ حربہ ڈاکٹر عاصم حسین کے معاملے میں ناکام ہو گیا،جبکہ جنرل پرویز مشرف کے معاملے میں کامیاب ہی نہیں،بہت کامیاب رہا کہ انہیں عدالت لے جانے کی بجائے امراض قلب کے ادارے میں لے جایاگیا۔ جب تک ان کے ادارے نے خود انہیں وہاں سے جانے نہیں دیا، قانون اور انصاف بے بسی کی تصویر بنے رہے۔

اس وقت بھی ایک مجرم کو دکھایا جا رہا ہے کہ قانون کے اہلکاراسے دھکیل دھکیل کر عدالت یا عدالت سے باہر لے جا رہے ہیں ،اُن کے ہاتھ میں ہتھکڑیاں ہیں،اس کے بال اُلجھے ہوئے ہیں اور لباس شکن آلود ہے۔ دوسرا مجرم ٹی وی پر آتا ہے قوم کو نصیحتیں کرتا ہے۔ سو بار ایمرجنسی لگانے کی بڑھکیں لگاتا ہے، حکومت کو مشورے دیتا ہے۔ اپنے جرائم کو اپنے کارنامے بنا کر پیش کرتا ہے اور قانون اور انصاف کے سینے پر مونگ دَلتا ہے۔پہلے مجھے اس بات کا دُکھ ہوتا تھا کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون اور انصاف ہے۔ مَیں اور میرے جیسے پاکستانی جب یہ دیکھتے تھے کہ غریب آدمی پولیس کے جوتے کھا کر اور خون تھوک تھوک کر حوالات اور جیل میں جان ہار جاتا ہے تو دوسری طرف مراعات یافتہ طبقے کے افراد گرفتاری کے بعد اپنے ساتھ اپنی سہولت کا سامان لے کر ہسپتال میں داخل ہوجاتے ہیں۔ غریب اور امیر میں تو اس قسم کا تفاوت ظلم ہونے کے باوجود قابل ِ فہم تھا، لیکن ایک ہی حیثیت کے ملزموں یا مجرموں میں اس قدر فرق۔۔۔ اس پر کیا کہا جائے۔ ایان علی بھی ہمارے انصاف اور قانون کا مذاق اڑا سکتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف بھی ہمارے انصاف اور قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم بھی ہمارے انصاف اور قانون کا مضحکہ اڑا سکتا تھا۔اگر یہ پیپلزپارٹی کا دور ہوتا۔اگر سوچا جائے تو یہ مذاق اڑایا بھی جا چکا ہے کہ قانون،انصاف اور انسدادِ رشوت ستانی کرپشن وغیرہ کے اداروں کو ڈاکٹر عاصم کے جرائم پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں بالکل نظر نہیں آئے، جو ادارے انہیں اب امراء کے حربے اور حیلے استعمال کرنے میں مانع ہو رہے ہیں، پیپلزپارٹی کے دور میں خاموشی کی بُکل مارے اس دور کے خاتمے کا انتظار کرتے رہے۔کیا قانون اور انصاف قرار دے سکتے ہیں، جس میں قانون کے دونوں پلڑے یکساں نہیں اور یہ غیر متوازن پلڑے ہمارے قانون اور انصاف کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

مزید : کالم


loading...