پاک چین اقتصادی راہداری

پاک چین اقتصادی راہداری
 پاک چین اقتصادی راہداری

  

بین الا قوامی سطح پر طے پانے والے معاہدے خفیہ نہیں رکھے جاتے،کیونکہ ان میں بہت سارے ادارے شراکت دار ہوتے ہیں، جنہیں روز مرہ معاملات سے باخبر رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔اس وقت چین ایک بڑی اقتصادی طاقت کے طور پر دُنیا کے نقشے پر نمایاں نظر آ رہا ہے۔وہ نہ صرف اندرون مُلک ترقی کی راہوں پر گامزن ہے، بلکہ بیرون مُلک بھی تجارتی گزرگاہوں کا جال بچھانا چاہتا ہے۔ شاہراہ ریشم پاک چین دوستی کی زندہ مثال ہے جسے دونوں ممالک کے انجینئرز نے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔اس وقت 46ارب ڈالر کا میگا پراجیکٹ پاک چین اقتصادی راہداری کے نام سے زیر بحث ہے۔یہ منصوبہ چین کی بین الاقوامی سرمایہ کاری کا حصہ ہے۔جب معاملات غیر شفاف ہوں تو شکوک و شبہات کا پیدا ہوتا ایک فطری عمل ہوتا ہے۔اس وقت پنجاب کے علاوہ تمام صوبے تحفظات کا شکار ہیں۔ مرکزی حکومت ان کے خدشات دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

ترقی اورمنصوبہ بندی کے وزیر جناب احسن اقبال بلوچستان کے سیاسی زعماء سے ملاقات کر کے انہیں یقین دہانی کرانے کی کوشش کر چکے ہیں کہ اصل منصوبے میں کوئی تبدیلی عمل میں نہیں لائی جائے گی، لیکن وہ لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک تو بہت ناراض نظر آتے ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ ہم اپنی شاہراہیں خود تعمیر کر لیں گے، ہمیں ترمیم شدہ منصوبہ منظور نہیں۔جماعت اسلامی بھی اس مسئلے پر احتجاجی مظاہرہ کر چکی ہے۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی دھرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔دریں حالات مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ اصل منصوبے میں ترمیم کر کے چھوٹے صوبوں کی حق تلفی نہ کرے۔ بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال صوبہ ہے۔ دوسرے صوبوں کی صنعت اور توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اس صوبے نے بہت قربانیاں دی ہیں۔افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اس کم آبادی والے صوبے کو پسماندگی کے چنگل سے آزاد نہیں کرا سکے۔گوادر جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم بندرگاہ ہے، جس کی تعمیر و ترقی سے اس علاقے کی قسمت بدل سکتی ہے۔بلوچستان لبریشن آرمی اور جنداللہ جیسی انتہا پسند تنظیمیں امن وامان کی صورت حال کو ابتر بنا رہی ہیں۔ کچھ غیر ملکی عناصر بھی علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ افلاس اورجہالت شدت پسندی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔لوگوں کی محرومیاں انہیں بغاوت پر اُکساتی ہیں۔

خیبر پختونخوا گزشتہ تیس سال سے دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔اس کی صنعت و حرفت اور کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔ ارباب اختیار کو چاہئے کہ وہ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھیں۔چھوٹے صوبے اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں۔یہ منصوبہ پاکستان کی تعمیرو ترقی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ہمیں تمام علاقائی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سطح پر سوچنا ہو گا۔بڑا بھائی چھوٹے بھائیوں کا خیال رکھے تو مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔اس سے قبل کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے کھٹائی میں پڑگیا۔46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے چین کا ایکسم بنک 11ارب ڈالر 1.6فیصد شرح سود پر قرضہ فراہم کرے گا۔باقی30ارب ڈالر کی سرمایہ کاری چین کی پرائیویٹ کمپنیاں کریں گی۔حکومت پاکستان چینی کارپوریٹ کو ترجیح دے گی۔اس سے مقامی کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔چینی کمپنیوں سے کام کے معیار کی بھی ضمانت لی جائے۔

یہ ایک طویل المدت منصوبہ ہے جو پندرہ سال کے عرصے پر محیط ہو گا۔بلوچستان اس راہداری کا گیٹ وے ہے۔اس منصوبے میں 36ارب ڈالر توانائی کی پیداوار پر خرچ ہوں گے۔ چین کے علاوہ ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے بھی قرضے کی سہولت میسر ہو گی۔ توانائی کی پیداوار کے بیشتر منصوبے خیبر پختونخوا میں مکمل ہوں گے۔توانائی کے ساتھ صنعتی علاقوں اور ڈرائی پورٹس کی تعمیر سے صوبے کے محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔اس منصوبے کے تحت پاکستان میں 2500 کلو میٹر شاہراہوں کی تعمیرومرمت کا کام شامل ہے۔ریلوے ٹریک کو بہتر بنا کر ریلوں کی رفتار160کلو میٹر فی گھنٹہ تک بڑھائی جا سکے گی۔یہ راہداری گوادر سے ژنگ جہانگ اور مغرب میں کاشغر تک ملائی جاسکے گی۔اس سے مغربی پسماندہ علاقوں میں ترقی کی رفتار تیز تر ہو گی۔علیحدگی پسندی اورشدت پسندی کا خاتمہ ہو گا۔ دراصل اس منصوبے کا مقصد جنوبی ایشیاء مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا کو ایک دھاگے میں پرونا ہے۔

2002ء میں گوادر میں بین الاقوامی ائرپورٹ پر کام شروع ہوا۔2007ء تک یہ مکمل نہ ہوسکی۔یہ منصوبہ 14000ایکڑ زمین پر زیر تعمیر ہے۔دسمبر 2017ئتک اس کی تکمیل ہو جائے گی۔اس پر اٹھنے والے سارے اخراجات تقریباً230ملین ڈالر چین ادا کرے گا۔یہ چین کی جانب سے ایک قیمتی تحفہ ہوگا۔نومبر 2015ء میں گواودر میں فری ٹریڈ ایریاکی تعمیر کے لئے 2282ایکڑ زمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کو 43سالہ لیز پر حوالے کی گئی ہے۔اس کے علاوہ گوادر سٹی میں کوئلہ سے 300میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ نصب کیا جائے گا۔300بستر کا ہسپتال بھی گوادر شہر میں تعمیر ہوگا۔ستمبر 2015ء میں پاک چائنہ ٹیکنیکل اینڈووکیشنل انسٹی ٹیوٹ آف گوادر کا افتتاح کیا گیا، جو مارچ 2016ء تک مکمل ہو جائے گا:

پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ

مزید : کالم