کوئٹہ پھر دہشت گردی کا نشانہ!

کوئٹہ پھر دہشت گردی کا نشانہ!

آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تو توڑ دیا گیا، لیکن ان کے جو لوگ پاکستان کے مختلف شہروں میں ہیں وہ دہشت گردی کی ایسی وارداتیں کر رہے ہیں، جن کی وجہ سے شہریوں کو نقصان پہنچے اوروہ اپنی موجودگی کا ثبوت دے کر خوف و ہراس پیدا کر سکیں۔ سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں پولیو کے مرکز پر خود کش حملہ بھی دہشت گردوں کا ایسا ہی وار ہے،اس حملے میں15افراد جاں بحق اور دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے،شہداء میں13پولیس والے اور فرنٹیئر فورس کا ایک جوان شامل ہے۔اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ ساتھ جیش الاسلام نامی ایک گروپ کی طرف سے بھی قبول کی گئی ہے۔ہماری سیکیورٹی فورسز نے مسلسل جانی اور مالی نقصان کے باوجود آپریشن کو بڑی کامیابی سے آگے بڑھایا اور بڑی حد تک دہشت گردی پر قابو تو پا لیا گیا تاہم ایسی اِکا دُکا وارداتیں اب بھی ہو رہی ہیں،جس سے عام انسانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ یہ دہشت گرد اللہ کے دین ہی کے نام پر ایسی وارداتیں کرتے ہیں، ہمارے علمائے کرام نے اِس سلسلے میں بہت ہی واضح طور پر بتایا کہ مسلمان پر مسلمان کا قتل حرام ہے اور جو ایسا کرتا ہے وہ سزا کا مستحق اور اس پر قصاص واجب ہے،اس کے باوجود یہ لوگ اسلام کا نام لیتے ہیں، لیکن عمل تعلیمات کے خلاف کرتے ہیں۔دہشت گردی کا جہاں تک تعلق ہے تو اب یہ عالمی مسئلہ ہے اور اس سے دُنیا بھر میں مسلمانوں کے لئے مشکل وقت آیا اور ایسی واردات کرنے والوں کو یہ احساس تو ہونا چاہئے کہ ان کے ایسے ’’کارناموں‘‘ کی وجہ سے اسلام دشمن کتنا فائدہ اُٹھا رہے ہیں،کیا ابھی وقت نہیںآیا کہ یہ لوگ ہتھیار کی نہیں، دلیل کی بات کریں، بہتر عمل یہی ہے کہ تائب ہو جائیں۔

مزید : اداریہ


loading...