صدر اوباما کا آخری سٹیٹ آف دی یونین خطاب

صدر اوباما کا آخری سٹیٹ آف دی یونین خطاب

امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ پاکستان،افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا خطرہ برقرار رہے گا۔ القاعدہ اور داعش امریکی عوام کے لئے براہِ راست خطرہ ہیں ہماری اولین ترجیح امریکی عوام کو تحفظ دینا ہے،مٹھی بھر دہشت گرد جن کے نزدیک انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں وہ بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، ہمیں ہر اُس سیاست کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے، جو لوگوں کو مذہب اور نسل کی بنیاد پر نشانہ بناتی ہے۔ داعش کو وہ سبق سکھائیں گے جو اس سے قبل دوسرے دہشت گردوں کو سکھایا۔ گوانتانا موبے جیل بند ہونے کے اپنے فیصلے پر قائم ہوں، انسانی حقوق کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہئے،جو کام ادھورے رہ گئے ہیں اُن کے لئے زور دیتا رہوں گا۔ صدر اوباما نے اِن خیالات کا اظہار کانگرس کے دونوں ایوانوں (سینیٹ+ ایوان نمائندگان) کے مشترکہ اجلاس میں اپنے آخری سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کیا۔

صدر اوباما کی صدارت کا یہ آخری سال ہے، اگلا سٹیٹ آف دی یونین خطاب نیا صدر کرے گا،جس کی اپنی پالیسیاں ہوں گی،اپنے خطاب میں صدر اوباما نے جن خیالات کا اظہار کیا اُن سے ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے امیدواروں برنی سینڈرس اور ہیلری کلنٹن نے اتفاق کیا ہے تاہم ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اُن کے خطاب کو تازہ ترین عالمی حالات سے مطابقت نہ رکھنے والا اور بیزار کُن قرار دیا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے گوانتاناموبے جیل کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھا جسے وہ اس وقت سے بند کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے جب وہ اپنی انتخابی مہم چلا رہے تھے، لیکن اپنی دو صدارتی مدتوں کے دوران بھی وہ اس جیل خانے کو بند کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے، اِس لحاظ سے اسے اُن کی بڑی ناکامی قرار دیا جا سکتا ہے، عین ممکن ہے کہ امریکہ کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس راہ میں رکاوٹ ہو، اِسی طرح اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے افغانستان میں امریکی فوج میں کمی کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ اپنا یہ وعدہ بھی ایفا نہ کر سکے، بلکہ حالات کے جبر نے اُنہیں افغانستان میں امریکی افواج میں اضافے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ2014ء تک تمام امریکی افواج افغانستان سے چلی جائیں گی، لیکن اب2015ء بھی ختم ہو گیا ہے اور امریکی افواج بدستور افغانستان میں موجود ہیں۔

اپنے خطاب میں امریکی صدر نے اپنی قوم کو یہ تو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان میں عدم استحکام ابھی رہے گا، لیکن اِس بات کی وضاحت ضروری نہ سمجھی کہ اس عدم استحکام میں خود امریکہ کا کتنا حصہ ہے؟ نائن الیون کے ایک ماہ بعد اوباما کے پیشرو صدر بش نے افغانستان پر بمباری شروع کر دی تھی،مسلسل فضائی حملوں کے ذریعے افغانستان کی طالبان حکومت ختم کر دی گئی، اس کے بعد امریکہ اور اتحادیوں(نیٹو) کی زمینی افواج بھی افغانستان میں داخل ہو گئیں اور حامد کرزئی کو امریکہ سے درآمد کر کے صدر بنا دیا گیا۔ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک کرزئی حکمران رہے، لیکن افغانستان میں امن کا خواب آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ کابل کے ریڈ زون میں بھی دہشت گردوں کے حملے ہوتے رہتے ہیں، گزشتہ روز ہی جلال آباد میں پاکستان کے قونصل خانے کے قریب دھماکہ ہوا ہے، جس میں سیکیورٹی گارڈوں سمیت وہ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جو ویزے کے حصول کے لئے قونصل خانے کے باہر قطار میں لگے ہوئے تھے۔

جب دارالحکومت کابل اور قریبی علاقوں میں امن و امان کی یہ حالت ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے دور دراز علاقوں کا کیا حال ہو گا۔افغان طالبان کی سرگرمیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔اگرچہ پاکستان کی کوششوں سے ان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ بحال ہونے کے امکانات واضح ہوئے ہیں تاہم ابھی تک یہ یقین نہیں کہ طالبان کے کتنے گروپ مذاکرات شروع کرنے کے لئے آمادہ ہوں گے۔ امریکہ نے اپنی افواج کی واپسی کا عمل بھی اِسی لئے سست روی کا شکار کر دیا ہے کہ اِس صورت میں افغانستان کے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ امکان بھی ہے کہ جن علاقوں میں طالبان زیادہ مضبوط ہیں وہاں سے وہ افغان نیشنل آرمی کو نکال کر خود قابض ہو جائیں ایسے میں مذاکرات کے ذریعے ہی مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکہ نے افغانستان میں توپوں کی گھن گرج کے ذریعے امن لانے کی جو کوشش کی تھی وہ ناکام ہو چکی ہے اور اب بات چیت کا آپشن آزمایا جا رہا ہے، جس میں پاکستان کا کردار اہم ہے، لیکن افغانستان کے حالات کی وجہ سے پاکستان کو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان میں اس وقت جو دہشت گردی دیکھنے میں آ رہی ہے اور جو آپریشن ضربِ عضب سے پہلے انتہاؤں کو چھو رہی تھی وہ بھی افغان حالات کا براہِ راست نتیجہ ہے، پاکستان میں جنگجوؤں کو منظم ہونے کا موقع بھی اسی وجہ سے مِلا، انہوں نے پاکستان کی سیکیورٹی تنصیبات اور سیکیورٹی فورسز کو بھی اِس لئے ٹارگٹ کیا کہ اُن کے خیال میں پاکستان نے امریکہ کو افغانستان میں حملے کے لئے سہولتیں دی تھیں۔ افغانستان میں امریکی فوجوں کی آمد سے پہلے پاکستان میں خود کش حملے نہیں ہوتے تھے، ان کا آغاز امریکہ کی آمد کے بعد ہوا۔

پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف اپنی یہ جنگ تن تنہا لڑی،کسی مُلک نے اِس میں پاکستان کی مدد نہیں کی، سیکیورٹی فورسز،رینجرز، پولیس اور دوسرے اداروں کے ارکان نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور اب تک کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کبھی تو ان قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں اور کبھی ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کر دیتے ہیں، لیکن امریکہ کو اتنا تو مان ہی لینا چاہئے کہ افغانستان میں اس وقت جو عدم استحکام ہے وہ اسی کا پیدا کردہ ہے اور پاکستان دہشت گردی کی جس آگ میں جل رہا ہے اس کا بھی بڑی حد تک ذمہ دار امریکہ ہی ہے۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں امریکہ وغیرہ سے جو امداد پاکستان کو حاصل ہوئی وہ100ارب ڈالر کے اُس نقصان کا عشرِ عشیر بھی نہیں جو اُسے اِس جنگ کی وجہ سے برداشت کرنا پڑا، صدر اوباما کا یہ عزم اپنی جگہ کہ امریکہ دہشت گردوں سے نپٹے گا انہوں نے کانگرس سے داعش کے خلاف مشرق وسطیٰ میں فوج بھیجنے کی منظوری دینے کی درخواست بھی کی ہے، جو ممکن ہے اُنہیں مل جائے، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اوباما کے جانشین کو بھی دہشت گردی کے مسئلے سے نپٹنے کے لئے تیار رہنا ہو گا۔عدم استحکام اگر پاکستان اور افغانستان میں رہے گا تو دہشت گردی کے کچھ نہ کچھ اثرات امریکہ اور مغرب پر بھی پڑتے رہیں گے۔

مزید : اداریہ