انقرہ،پولیس ہید کوارٹر پر خود کش کار بم حملہ خاتون اور بچے سمیت 5ہلاک،36زخمی

انقرہ،پولیس ہید کوارٹر پر خود کش کار بم حملہ خاتون اور بچے سمیت 5ہلاک،36زخمی

انقرہ(مانٹیرنگ ڈیسک )ترکی کے جنوب مشرقی صوبے دیارباقر کے شہر چنار کے پولیس ہیڈکوارٹر پر کار بم دھماکے کے نتیجے میں خاتون اور بچے سمیت 5 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوگئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک حکام کا کہنا ہے کہ بم دھماکہ صوبہ دیار باقر کے ضلع سینارکے پولیس ہیڈکواٹر کے داخلی دروازے کے باہر ہوا جس سے ہیڈکوارٹرکی عمارت گرگئی اور قریبی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 5 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے۔دیار بارقر صوبے کے جینار ضلعے میں ہونے والے اس حادثے کی جگہ امدادی اہلکار ملبے کے نیچے تلاش اور تحقیقات کے کاموں میں مصروف ہیں۔حکام نے اس حملے کا الزام کردستان کی ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے جنگجوؤں پر عائد کی ہے جو کہ کردوں کی اکثریت والے صوبے میں زیادہ سرگرم ہیں۔تاہم ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ترکی کی میڈیا کے مطابق پولیس کی عمارت کے دروازے پر بم دھماکہ کیا گیا جبکہ دھماکے میں آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔اس کے بعد مبینہ طور پر حملہ آوروں نے ہیڈ کوارٹر پر راکٹ داغے۔حالیہ مہینوں کے دوران دیار باقر میں کرد علیحدگی پسندوں اور ترکی فوج کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔گذشتہ سال دیار باقر شہر کے ساتھ جنوب مشرقی علاقے کے بہت سے حصوں میں سکیورٹی کریک ڈ اؤن کے نتیجے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔اس کے بعد ایک بم دھماکے میں 16 فوجی مارے گئے تھے اور پھر ایک دوسرے حملے میں 14 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے اور یہ دونوں واقعات مشرق میں رونما ہوئے تھے۔خیال رہے کہ جولائی میں کردوں اور ترکی کی فوج کے درمیان جنگ بندی ختم ہو گئی اور اس کے بعد سے ترکی کے طیاروں نے کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو شمالی عراق میں نشانہ بنایا ہے اور اس کے علاوہ بہت سے علاقوں میں زمینی کارروائی بھی کی ہے۔ہر چند کہ دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی اتحاد میں ترکی بھی شامل ہے تاہم انقرہ پر کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے جبکہ کرد خود بھی دولت اسلامیہ کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...