بھارت میں داعش کا نیٹ ورک، شام کے نائب وزیراعظم کی دہلی آکر شکایت

بھارت میں داعش کا نیٹ ورک، شام کے نائب وزیراعظم کی دہلی آکر شکایت

تجزیہ: آفتاب احمد خان

بھارت سے داعش کی صفوں میں شامل ہونے کیلئے شام جانے والے چار افراد کی وہاں گرفتاری سے ثابت ہوگیا ہے کہ اس تنظیم کا نیٹ ورک بھارت میں موجود ہے۔ شام کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ولید المعلم نے بھارتی حکومت پر واضح کیا کہ اس معاملے سے شام کا کوئی تعلق نہیں۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

چار بھارتی شہری داعش سے مل کر لڑنے کی غرض سے شام پہنچے تو اس تنظیم کے زیر قبضہ علاقے تک پہنچنے ہی پکڑے گئے جو اس وقت دمشق جیل میں ہیں۔ شامی حکومت کی خواہش ہے کہ بھارتی حکومت ان افراد کی ذمہ داری لے اور انہیں واپس قبول کرے۔ شام نے اپنے نائب وزیراعظم کو (جو وزیر خارجہ بھی ہیں) بھارت بھیج کر اصرار کیا کہ وہ اپنے ہاں موجود داعش نیٹ ورک کے بارے میں معلومات مہیا کرے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اس سے پہلے بھی کئی بھارتی باشندے عراق اور شام میں برسر پیکار داعش کے سپاہیوں میں شامل ہیں۔ ان میں سے تئیس کی تصدیق ہوچکی ہے اور چار لڑتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بھارتی حکومت کا اس معاملے پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ بھارت سے جنگجوؤں کو عراق اور شام جانے سے روکا جاسکے۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور مشیر قومی سلامتی اجیت دوول نے ولید الملم کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ بھارت شام کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہے مگر شامی نائب وزیراعظم کی طرف سے ان پر واضح کردیا گیا کہ شام اپنے معاملات میں بھارت کی فوجی یا سفارتی مداخلت نہیں چاہتا۔ یہ شام کی بھارت کے بارے میں رائے اچھی نہ ہونے کا اظہار ہے کیونکہ شام کی درخواست پر روس کی فضائیہ وہاں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہی ہے جبکہ اس طرح کے مسائل کے حل میں سفارتی کوششوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ شام کی طرف سے فوجی یا سیاسی تعاون قبول نہ کیا جانا بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مزید : تجزیہ