محبتوں کا سفیر عنایت خان

محبتوں کا سفیر عنایت خان
 محبتوں کا سفیر عنایت خان

  

قبر کے چوکھٹے خالی ہیں انہیں مت بھولو

جانے کب کون سی تصویر سجا دی جائے

قرآن عظیم الشان کا حکم ہے روئے زمین پر جو کچھ ہے وہ سب کچھ فنا ہونے والا ہے صرف تیرے رب کی ذات جو صاحب عظمت و احسان ہے باقی رہ جائے گی۔

ہمارے بہت ہی پیارے غمگسار ساتھی عنایت اللہ خان جن سے 26سال پہلے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ جب میری رکنیت پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس منتقل ہوئی ہمارا ایک شفیق دوست جو طارق سپرا کے نام سے جانا جاتا تھا اس نے لاء کالج ہوسٹل اولڈ کیمپس پنجاب یونیورسٹی میں ہمارے اوپر دست شفقت رکھا شہر لاہور سے تعلق رکھنے والی شیر دل شخصیت کے مالک عنایت خان نے ہمیں گلے لگایا۔ جمعیت میں ہم ان سے جونیئر تھے لیکن عنایت خان کی قربانیوں کی داستان زبان زد عام تھی۔ قتل کے جھوٹے مقدمے میں عرصہ تک پابند سلاسل رہنا اور پھر مرد آہن کی طرح غازی بن کرکامرانیوں کا سفر جاری رکھنا عنایت خان کی زندگی کا اہم پہلو تھا۔ بغیر کسی غرض کے دوستوں سے میل ملاپ رکھنا دوستوں کو گھر بلا کر باربی کیو کھلانا ، دوستوں کی غمی خوشی میں شریک ہونا ہمارے شفیق دوست کا معمول تھا۔11 جنوری کی شام کو سمن آباد کی ڈونگی گراؤنڈ میں غلغلہ برپا تھا۔ گراؤنڈ کے تمام دروازوں سے نوجوانوں اور بزرگوں کی آمد جاری تھی۔ جنازے کا وقت چھ بجے تھا ساڑھے چھ بجے تک لاہور سمیت دیگر شہروں سے عنایت خان کے چاہنے والوں کا جم غفیر جمع ہو چکا تھا۔عموماً کہا جاتا ہے امیر کے جنازے چھوٹے فقیروں کے جنازے بڑے ہوتے ہیں مگر ہمارے مربی کا جنازہ قابل رشک تھا جو روشنیاں بانٹنے والے عنایت خان کی سچائی اور اخلاص کی گواہی دے رہا تھا یقیناًہمارا بھائی دعوت دین کا سچا سپاہی عنایت خان ہمارے درمیان موجود نہیں ہے بقول محترم تحسین خالد بھائی آج جنت میں نوازخان، سہیل حنیف، طاہر جاوید شہید اپنے دیگر شہدا کے ساتھ اپنے غازی ساتھی عنایت خان کا استقبال کر رہے ہوں گے۔ ہمیشہ ساتھ چھوڑ جانے والے احباب کی خوبیوں کا تذکرہ ہی کیا جانا چاہیے ۔ اپنے مہربان سفید پوش دبنگ انسان عنایت خان سے ہمارا تعلق بھی دنیاوی الائشوں اور مفاد سے بالاتر ہی رہا۔ سید مودودی کے قافلے کے جانثار ساتھی نے اسلامی جمعیت طلبہ میں اس وقت ذمہ داری ادا کی جب ہمارے تعلیمی ادارے حکومتی مداخلت کی بھینٹ چڑھے ہوئے تھے۔ 1984ء میں طلبہ یونین پر پابندی کے بعد تعلیمی اداروں میں شروع ہونے والی تشدد کی لہر نے ہمارے قیمتی ساتھی ہم سے چھین لئے۔ پرتشدد اور اندھیرے پھیلانے والے ماحول میں دیا جلانے اور پھر اپنی مخصوص خوبصورت مسکراہٹ سے نوجوانوں کے دلوں میں گھر کرنا معمولی بات نہیں تھا۔ عنایت خان کی زندگی کا توانا سفر بھی اتار چڑھاؤ پر محیط تھا۔ دوستوں کا دوست ہونا تو فخرکی بات ہی ہے ہمارا دوست ان کا بھی دوست تھا جو ان کی بھاری بھرکم شخصیت کے بڑھتے ہوئے سحر سے ہمیشہ خوفزدہ رہے اور انہیں گھر کی چار دیواری تک محدود کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

عنایت خان مرحوم ان کے لئے بھی مینارہ نور بنا اور بڑی رکاوٹوں کے باوجود جو جماعت اسلامی کارکن بنا اور جوان جذبوں کے ساتھ ہزاروں طلبہ کے دلوں پر حکومت کرتا رہا عنایت خان نے گردوں کی بیماری میں اچانک مبتلا ہونے کے بعد بھی جوان مردی کے ساتھ استقامت دکھائی اور اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھا۔ اللہ جزائے خیر دے عنایت خان طاہر جاوید شہید کے جانثار دوست میاں آفتاب رحیم کو جس نے مشکل ترین حالات میں بھی عنایت خان کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ دوسال سے ڈائیلسز جاری تھے۔ گھر میں فاقوں کی نوبت آ گئی تھی ان حالات میں بھی میاں آفتاب رحیم صاحب مایوس نہیں ہوئے اور اپنے قائد اور پیارے عنایت خان کے کڈنی ٹرانسپلانٹ کرانے کے عزم سے نکل کھڑے ہوئے میاں آفتاب رحیم سچے جذبوں کا امین ہے۔ وقت نے ساتھ نہیں دیا ورنہ میاں آفتاب رحیم عنایت خان کے گردے تبدیل کرنے کا مشکل ٹاسک بھی حاصل کر لیتا۔ کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ البتہ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے توجہ کے ضمن میں عرض کرنی ہے۔ ہماری سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی خواہش رہی ہے زمانہ طالب علمی میں ہمارے لئے کام کرنے والے عملی زندگی میں بھی ہمارا حصہ بن جائیں اور ہمارے دست بازو بنیں اس کے لئے احباب کی نشستیں کروانا اس موقع پر پرانی یادیں تازہ کرنا بھی خوبصورت روایت یا خوبصورت مشغلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر ہماری سیاسی مذہبی جماعتیں بالعموم اور جماعت اسلامی اور اس کی برادر تنظیمیں بالخصوص جنہوں نے پوری امت مسلمہ میں بے کس مجبور مظلوم افراد کی خدمت اور مدد کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ان کی نظر ایسے مظلوم خاندانوں کی تلاش میں رہتی ہے جن کے گھروں کے چولہے نہیں جل رہے جو سیلاب کی نذر ہو گئے یا ان کے گھروں کو زلزلے نے تباہ کر دیا ان کی مدد کے لئے کنویں لگاتے ہیں گھر بناتے ہیں خوراک فراہم کرتے ہیں کپڑے فراہم کرتے ہیں کاش خدمت کے ادارے اپنے کارکنان اپنے ممبران اپنے ارکان کے دلوں پر بھی دستک دیں ان سے بھی میل جول بڑھا کر ان کے اندرونی حالات کا بھی جائزہ لینے کی کوشش کریں۔ان سے بھی پوچھا جائے آپ کے بچے کتنے ہیں کس کس کلاس میں پڑھتے ہیں کاروبار کیا کر رہے ہیں ملازمت کرتے ہیں، گھر اپنا ہے یا کرائے کا ہے گھریلو حالات کیسے ہیں؟

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ہماری سیاسی، مذہبی جماعتوں کے ٹھاٹ باٹ اپنی جگہ اندرونی زبوں حالی کا یہ حال ہے۔ جھنڈا دہلی کے قلعے کے اوپر لگانے کا عزم ہے مگر ان کے ساتھ کام کرنے والے اپنے ساتھی بھوکے سوتے ہیں ان کے بچے سکول نہیں جا رہے ۔ افسوس کے ساتھ عرض کرنا ہے بظاہرمسکراتے چہروں پر نہ جایا جائے مشکل ترین حالات شروع ہو چکے ہیں دنیا بھر کو تبدیل کرنے سے پہلے اپنے گھر یعنی اپنے کارکنان ارکان کے دلوں پر دستک دی جائے ان کی حالت زار بدلی جائے پھر خاندان بدلیں گے معاشرہ بدلے گا اور پورا پاکستان بدلے گاورنہ بہت سے قیمتی ساتھی عنایت اللہ خان اور طارق سپرا کی طرح سفید پوشی کا بھرم اپنے ساتھ لئے ہوئے ہمارا ساتھ چھوڑتے چلے جائیں گے ان کے بچے معاشرتی ناسور کے رحم کرم پر جیتے اور مرتے رہیں گے۔یہ گلا دور کیا جا سکتا ہے اگر دوسروں کی مثالیں دینے کی بجائے آج ہی اپنے گردونواح دائیں بائیں بیٹھنے والوں سے ایسا تعلق بنا لیا جائے وہ کھل کر دل کی گھر کی بات آپ سے کر سکیں۔

کاش ایسا ہو جائے،یہ خواہش خواہش نہ رہ جائے۔ اللہ ہمارے اندر اخلاص پیدا کر دے اور ہمارے رفیق کار مجاہد ساتھی عنایت خان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عنایت فرما دے۔ آمین

مزید : کالم