حکمران نقصان عامہ کی پالیسی پر گامزن ہیں، میاں محمودالرشید

حکمران نقصان عامہ کی پالیسی پر گامزن ہیں، میاں محمودالرشید

لاہور(خبر نگار خصوصی) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید نے کہا کہ200ارب روپے اورنج ٹرین کی بجائے صحت، تعلیم اور بیروزگاری کے خاتمے پر خرچ کئے جاتے تو عوام خوشحال ہوتی،صوبہ ترقی کرتا لیکن بدقسمتی سے حکمران مفاد عامہ کی بجائے نقصان عامہ کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چوبرجی چوک میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔محمودالرشید نے کہا کہ نانا کی دکان پر دادا کی فاتحہ۔مال مفت دل بے رحم۔انہوں نے اورنج ٹرین منصوبے پر اپنے تحفظات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص پر تقربنا سوا لاکھ روپے کا قرض ہوگا، مہنگے قرضے لینے والی تجربہ کار حکومت کی غلطی کا خمیازہ غریب عوام بھگتے گی۔ انہوں نے کہا کہ لکشمی چوک، جین مندر، لاہور ہوٹل، میکلوڈ روڈ اور چمڑہ منڈی سمیت دیگر تجارتی علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے کروڑں روپے کے نقصان کا ازالہ کون کریگا،دیہاڑی دار طبقہ کہا ں جائیگا،جن گھرں کے چولہے ٹھندے ہونگے انکو روٹی کون دیگا،صرف جین مندر پر200خاندان بے گھر ہونگے۔یہ کیسا منصوبہ ہے جس میں لاکھوں لوگوں کو جبری طور پربے گھر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ مفاد عامہ نہیں نقصان عامہ کا ہے اور صرف مسلم لیگ ن فائدہ اٹھائے گی، عوام ہمیشہ کی طرح خسارے میں رہے گی۔ انہوں نے کہامنصوبہ ملکی اور غیر ملکی قوانین کے برعکس ہے۔25 کے قریب ثقافتی وتاریخی عمارتوں کو خطرہ لاحق ہے،گڈ گورننس کے تصور کو زبح کر دیا گیا،due procesessکو follow نہیں کیا گیا۔

محمودالرشید

مزید : صفحہ آخر