بانڈڈ لیبر ایکٹ 2016ء منظور:بھٹوں پر آج سے چھاپوں کا عمل شروع

بانڈڈ لیبر ایکٹ 2016ء منظور:بھٹوں پر آج سے چھاپوں کا عمل شروع

لاہور( اپنے نامہ نگار سے) صوبے بھر میں بچوں سے جبری مشقت کی ممانعت اور جرم قرار دے دیا گیا ہے اور بالخصوص اینٹوں کے بھٹوں پر 14 سال سے کم عمر کے بچوں سے جبری مشقت پر کم ازکم 50 ہزار جرمانہ سات دن قیداور اس کے بعد 5 لاکھ تک جرمانہ اور 6ماہ تک قید ہو گی ۔ وزیر اعلیٰ نے باقاعدہ بانڈڈ لیبر ایکٹ 2016ء کی منظوری دے دی ۔ لاہور سمیت صوبے بھر میں آج سے ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز چھاپے ماریں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف جاری مہم کو باقاعدہ قانون سازی کے تحت بانڈڈ لیبر ایکٹ 2016ء کا اطلاق کر دیاگیا ہے جس کی وزیر اعلیٰ پنجاب نے باقاعدہ گزشتہ روز منظوری دے دی ہے جس کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت کو جرم قرار دے دیا گیا ہے اور بالخصوص اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں سے مشقت کو ممانعت قار دے دیا گیا ہے۔ بانڈڈ لیبر ایکٹ 2016ء کا آج سے نفاذ کر دیا گیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لئے ڈی سی اوز اور ڈی پی اوز کو لاہور سمیت صوبے بھر میں اینٹوں کے بھٹوں پر چھاپے مارنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

چھاپے شروع

مزید : صفحہ آخر