خارجہ سیکرٹری ملاقات موخر،آج پیرس میں قومی سلامتی کے مشیر پھر ملیں گے

خارجہ سیکرٹری ملاقات موخر،آج پیرس میں قومی سلامتی کے مشیر پھر ملیں گے

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملہ کرنے والے نان سٹیٹ ایکڑ زاپنی کوشش میں اس حد تک تو کامیاب ہیں کہ آج (جمعہ)خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان جاری مذاکرات کے لئے ہونے والی ملاقات کو موخر کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اوراب پیرس میں موجود دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان بات ہورہی ہے اورپھر تاریخ کا تعین ہوگا پاکستان کے قومی سلامتی مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ اور بھارتی قومی سلامتی کے اجیت دوول پیرس میں ہیں اوروہیں یہ ملاقات ہوگی۔بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھارتی سیکرٹری خارجہ سے طویل مذاکرات کے بعد وزیراعظم مودی سے ملاقات کرکے طے کیا کہ قومی سلامتی کے مشیروں کو بات کرلینے دی جائے اور خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات بعد میں ہوں اس کے لئے بھی نئی تاریخ کا تعین دونوں شخصیات ہی کرلیں گی البتہ اعلان بیک وقت اسلام آباد اور دہلی سے ہو گا۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

پاکستان نے تمام تر تحفظات کے باوجود بھارت کی طرف سے مہیا کی جانے والی معلومات کی روشنی میں کھلے ذہن اور دل سے تحقیق کی۔اس سلسلے میں جیش کے رہنماؤں اور کارکنوں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا اوریہ بھی یقین دلایا گیا کہ بھارت جو بھی ثبوت دے گا اس کے مطابق تحقیقات ہوں گی اس کے باوجود بھارتی رویہ محتاط ہے کہ خود نریندر مودی ان کی کابینہ کے اراکین اور بی۔جے۔ پی نے جو فضا پیدا کی تھی اس کی روشنی میں ان کو اپنی حکمت عملی میں احتیاط کرنا ہے اور یہ تاثر دینا ہے کہ ملاقات اور مذاکرا ت کے حوالے سے بھارت پر کوئی دباؤ نہیں اور پاکستان پر ہے ۔

بھارت میں صرف شیو سینا جیسی تنظیم ہی نہیں بجرنگ دل اوربعض ایسی انتہا پسند تنظیمیں اور بھی ہیں جن کی عددی حیثیت توکچھ نہیں، لیکن شرارت کی اہلیت موجود ہے۔ بجرنگ دل نے اسی ذہنیت کا مظاہرہ کیا اور دلی میں پی۔آئی۔اے آفس پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی ہے۔ویسے یہ ٹولے اتنے ہی بہادر ہیں کہ بھارتی پولیس کے دو چار ملازم بھی ان کو تتر بتر کر دیتے ہیں،تاہم حالات حاضرہ میں ان کو بھی اپنی اہمیت جتانے کا موقع ملا ہے اور پی۔آئی۔اے کے دفتر پرحملہ کر کے پست ذہنیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

پاک بھارت تعلقات کی صورت حال یہی ہے اور اس میں بھارتی ذہنیت بھی کارفرما ہے،تاجرذہن رکھتے ہوئے بھی بھارتی زعماء انصاف اور صاف دلی کی بجائے اپنی متعصب ذہنیت کے حوالے ہی سے سوچتے ہیں۔ بہرحال پٹھان کوٹ ائیر بیس کے واقع سے اب تک دونوں حکومتوں نے بہت ہی محتاط رویہ اختیار کیا ہے اس سے ہی یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ جامع مذاکرات بہرحال شروع ہوں گے اور آج نئی تاریخ طے ہوگی کل ہفتہ کو دوول دلی میں وزیر خارجہ اور پھر وزیراعظم سے ملیں گے تو تاریخ کا اعلان ہوگا ۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف دہشت گرد بھی اپنی بچی کُھچی قوت سے حملے کر کے وجود کا ثبوت دے رہے ہیں،عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ فریقن بر ا بھلا سو چیں اوروسیع تر مفاد میں نان سٹیٹ ایکڑوں کے دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلے کریں۔حالات کٹھن ضرور ہیں، لیکن لا ینحل نہیں۔پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کر کے یہ ثابت کیا کہ نیت اور ارادہ ہو تو کچھ مشکل نہیں۔اب آخری حربوں کو بھی ناکام بنا لیا جائے گا۔اسی طرح بھارتی قیادت کوبھی انسانیت کے وسیع تر مفاد میں اپنے رویے کاتعین کرنا ہوگا۔فتح وشکست فوجی ہی نہیں اخلاقی بھی ہوتی ہے اور اس سطح پر پاکستان کا پلہ بھاری ہے۔

مزید : تجزیہ