سوشل میڈیا کی آزادی

سوشل میڈیا کی آزادی
 سوشل میڈیا کی آزادی

  


یہ سائرن پاکستان کے زیر اہتمام سوشل میڈیا کے ایکٹیویٹس کی سائبر کرائم کے حوالے سے مجوزہ قانون پر ایک کانفرنس تھی اور مجھے یہ تاثر مل رہا تھا کہ ہم پاکستانیوں کوسوشل میڈیا پرایسی شتر بے مہار آزادی درکار ہے جو کسی قانون اور ضابطے کی پابند نہ ہو۔ ایک سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا سیل کی انچار ج بی بی نے تو قانون سازی کا معاملہ ہی کھوہ کھاتے ڈال دیا،کہا، موجودہ حکومت ایک غیر آئینی الیکشن کمیشن کے ذریعے بنی ہے ،لہٰذا اس کا بنایا ہوا کوئی بھی قانون آئینی نہیں ہو سکتا، انہوں نے اس امر کا بھی خیال نہیں کیا کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججوں کا کمیشن اس معاملے کو طے کر چکا ہے۔ ایک دوسری سیاسی جماعت کی میڈیا سیل کی انچارج طرح دار بی بی کاموقف تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی کے آئینی حق کا معاملہ ہے، لہذا حکومت کو کوئی حق نہیں کہ وہ ان پر پابندیاں لگائے۔ سب سے زیادہ گالم گلوچ کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے والدین نے ان کی تربیت بہت ا چھی کر رکھی ہے۔ کچھ ’ماہرین‘نے بھی مجھے حیران کیا، وہ کہہ رہے تھے کہ حکومت قومی، سیاسی اورمذہبی بنیادوں پر مبہم تحفظات کا اظہار کر رہی ہے، حکمرانوں میں برداشت کی کمی ہے اور وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی اٹھنے والی جرات مندانہ آوازوں سے خوفزدہ ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ان کے کارٹون بنیں۔پاکستان کا ایک جمہوری آئین موجود ہے اور اسے سعودی عرب نہیں بنایا جا سکتا۔ عمومی رائے تھی کہ حکومت بدنیت ہے اور اس کی طرف سے انٹرنیٹ استعمال کئے جانے کے ڈیٹا تک رسائی سو فیصد اپنی آمریت قائم کرنے کے لئے ہے۔

اکرم چودھری صاحب اپنے سیاسی وژن اور سماجی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہترین مباحثوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیاپرانوشہ رحمان کی وزارت اور کیپٹن صفدر کی سٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے پابندیوں کا مجوزہ مسودہ قانون مہینوں سے زیر بحث ہے۔میں خدشے کی نفی نہیں کر سکتا کہ حکومتیں سائبر کرائم کے قانون سمیت کسی بھی قانون کا غلط استعمال کر سکتی ہیں۔ اس قانون پر بعض اعتراضات واقعی آئینی اور جمہوری حوالوں سے حقیقی نوعیت کے ہیں مگر یہ کہنا غلط ہو گاکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے کروڑوں صارفین کے لئے کوئی قانون اور کوئی ضابطہ ہی نہیں ہونا چاہئے۔ جہاں تک قانون کے استعمال میں حکومتوں کے بدنیت ہونے کی بحث ہے تو پھر قتل اور ڈکیتی جیسے معاملات پر بھی قانون نہیں ہونا چاہئے کہ حکومتیں اپنے مخالفین کو قتل کے جھوٹے مقدمات میں ملوث کر دیں گی ،یہاں سابق وزیراعظم تک کوعدالت کے ذریعے قتل کروایا جا چکا ہے،سیاسی مخالفین کو بھینس اور سائیکل چوری جیسے گھٹیا مقدمات میں بھی ملوث کیا جاتا رہا ہے تو اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ چوری کے خلاف قانون ہی ختم کر دیا جائے۔ قانون کا غلط استعمال روکنے کے لئے اس وقت سول سوسائٹی،آزاد میڈیا اور عدالتیں موجود ہیں۔ یہ بھی کہا گیاکہ قانون کی بعض دفعات قومی، مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر مبہم ہیں ، سوشل میڈیا پر کسی کو بھی اسی طرح اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہئے جیسی آزادی کی ضمانت ہمارا آئین دیتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آئین ابھی بھی افواج پاکستان اور عدالتی فیصلوں سمیت بہت سارے معاملات پر آزادانہ رائے دہی سے روکتا ہے اور یہ پابندی عین منصفانہ ہے۔مجھے یہاں آزادی کی معروف ترین تعریف دہرانے دیجئے کہ آپ کی آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے یعنی آپ میری ذات بارے اظہار خیال کے لئے اپنی آزادی کے حق کا استعمال نہیں کر سکتے تو پھر آپ کو ایسے کارٹون بنانے کا حق کیسے دیا جا سکتا ہے جس میں میری تضحیک ہو۔ کیا آپ اجازت دیں گے کہ دوسرے آپ کے اور آپ کے پیاروں کے قابل اعتراض کارٹون بنا کے شئیر کریں۔ یوں بھی کارٹون حالات، واقعات اورمسائل پر طنز تو ہوسکتے ہیں مگر شخصیات کی تضحیک اور ناقابل قبول نقشہ کشی نہیں، اگر آپ اس اصول کو تسلیم نہیں کریں گے تو چارلی ایبڈوکے خلاف آپ کا کیس ختم ہو جائے گا۔یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر سوشل میڈیا پرخارجہ معاملات اور مذہبی امور پرمخالفانہ پوسٹس سے روکا جائے تو اسے بھی اظہار رائے کی آزادی کے منافی تصور کیا جانا چاہیے۔ جواب صرف اتنا ہے کہ ہر وہ شخص جو چاہے میٹرک یا انٹر میں فیل ہو چکا ہو، گھر والے اس پر اس حد تک اعتبار نہ کریں کہ اس سے اچھے آلواور میٹھا دہی ہی منگوا لیں، لیکن اگروہ بشیعہ ہے تو سعودی عرب کے خلاف اور اگرسُنی ہے تو ایران کے خلاف قابل اعتراض پوسٹس کرتا رہے، اس کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ ایک مولوی اپنے محدود فرقہ وارانہ علم کی بنیاد پر دوسروں کو کافر قرار دیتا رہے اور ریاست خاموش رہے، اب اظہار رائے کی اس تباہ کن عیاشی کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔

گمان یہ ہے کہ حکومت اپنے اداروں کوسوشل میڈیا تک رسائی دینا چاہتی ہے جس کے یقینی طور پر غلط ہی مقاصد ہوں گے۔ ہم سوشل میڈیا کو مٹھی بھر سیاسی اور سماجی ایکٹویٹس کے حوالے سے ہی کیوں دیکھتے ہیں، یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ اس پر کروڑوں عام پاکستانی بھی موجود ہیں جن کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں۔ یہاں ان کے ساتھ مالیاتی فراڈ کئے جاتے ہیں،عام گھریلو لڑکیوں کی تصویریں چوری کرکے ان کے قابل اعتراض پروفائل بنائے جاتے ہیں ۔ جب یہی عام ،مجبور اور بے بس لوگ ایف آئی اے کے پاس اپنی شکایت لے کر جاتے ہیں تووہاں سے جواب ملتا ہے کہ ایسا کوئی قانون ہی نہیں، جس کے تحت وہ فیس بک، ٹوئٹر یا گوگل سے ڈیٹا لے سکیں۔ یہ ادارے کہتے ہیں کہ اس حوالے سے پاکستان میں نہ تو کوئی قانون موجود ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد پر ان کے ساتھ کوئی معاہدہ، جن بچوں یا بچیوں کی عزت خراب ہوئی ہوتی ہے، وہ روتے دھوتے ہی رہ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے میری قوم کی اس وقت عالمی برادری میں شہرت بہت خراب ہے۔ ہم دہشت گردوں کی حمایت کرتے، انہیں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس انتہا پسندی کو روکنے اور نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور عمل درآمد کے لئے بھی اس قانون کی اشد ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایسا ڈیٹا استعمال ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں جو قابل اعتراض ہو۔

دو باتیں اہم رہیں ایک یہ کہ حکومت کی نیت غلط ہے اور دوسرے یہ کہ حکمرانوں میں برداشت کم ہے۔ نیت کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا جاسکتا، اس کی گواہی اس کااستعمال ہی دے سکتا ہے۔ اگر حکومت ایک قانون اس لئے بنا رہی ہے کہ مخالفین کوجکڑ سکے تو اس کی مخالفت کرنے والوں کی نیت بھی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ جھوٹ کابازار گرم کئے رکھیں، کارٹون بناتے ، الزام لگاتے اورگالیاں بکتے رہیں اوران کے گریبان تک کسی کا ہاتھ نہ پہنچ سکے۔آپ عامر لیاقت حسین کی اینکرنگ ، مقبولیت اور نکتہ نظر سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر ان کی والدہ بارے بدکلامی کریں، اس کی کبھی اجازت نہیں دی جا سکتی، ماں عامر لیاقت کی ہو، نواز شریف کی ہو، آصف علی زرداری کی ہو یا عمران خان کی،سب کی عزت اور مرتبہ ایک ہی ہے۔ دوسرا سوال برداشت کاہے تومیں بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی سب سے بُری سمجھی جانے والی سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی میں سب سے زیادہ برداشت موجود ہے اورسوشل میڈیا پر پاکستان کی دوسری سب سے بری قرار پانے والی جماعت مسلم لیگ (ن) میں دوسرے درجے پر سب سے زیادہ برداشت ہے ، فرشتہ ہونے کے دعوے دار سب سے زیادہ کم برداشت رکھتے اور سب سے زیادہ بدکلامی کرتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کن روایات اور حوالوں کی بنیاد پر سوشل میڈیا کو پاکستانیوں کی حقیقی آواز سمجھاجاتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پیپلزپارٹی کوپاکستان بھر میں ایک نشست نہ ملتی، ایم کیو ایم کبھی آپریشن کے دوران الیکشن نہ جیتتی اور مسلم لیگ نون کی لینڈ سلائیڈ وکٹری کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ آزادی کا خیال خوش آئند ہے، مگر دنیا بھر میں ذمہ داریوں کے تعین کے بغیر آزادی کاتصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔پہاڑ پر چڑھنے کے لئے راستے کے گرد لگی ہوئی باڑھ اگر آپ کو بری لگتی ہے تو لگتی رہے ، وہ یقینی طور پر راستے میں رکاوٹ نہیں ہوتی، وہ کسی حادثے کے بغیر منزل تک پہنچنے کو یقینی بناتی ہے۔

مزید : کالم


loading...