کراچی پولیس انسداد دہشت گردی عدالتوں کا حکم ماننے سے انکاری

کراچی پولیس انسداد دہشت گردی عدالتوں کا حکم ماننے سے انکاری

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی کی انسداد دہشت گردی کورٹس ہیں جو تیزی سے مقدمات کی سماعت کیلئے قائم کی گئی ہیں لیکن ان عدالتوں میں اس وقت2026مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ خصوصی عدالتیں1400 دہشت گردوں کو مفرور یا اشتہاری قرار دے چکی ہیں لیکن پولیس نے گرفتاری کے بجائے 200 سنگین مقدمات کے کئی ماہ سے چالان پیش نہیں کئے جس کی وجہ سے مقدمات کا بوجھ مذید بڑھ گیا ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس امیر ہانی مسلم نے چالان پیش نہ کرنے پر آئی جی سندھ پر برہمی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی کورٹس کے ججز کا اجلاس ہوا جس میں آئی جی سندھ، ڈی آئی جی پولیس اور 20 ایس ایس پیز شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ججز نے چالان پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ جو افسر بروقت چالان پیش نہیں کرے گا اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔پولیس چالان پیش کرنے اور تفتیش میں مستقل بنیادوں پر تاخیر اور نااہلی کا مظاہرہ کرے گی تو نہ صرف دہشت گردوں کو فائدہ ہو گا اور انسداد دہشتگردی عدالتوں کے قیام کا مقصد بھی ضائع ہو جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول