صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کافیصلہ

صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ ترجیحی بنیادوں پر ...
صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کافیصلہ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اقتصادی راہداری منصوبے بارے اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مغربی روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر اڑھائی سال میں مکمل کیا جائے گا ،15جولائی 2018تک مغربی روٹ مکمل کر لیا جائے گا۔ کہا گیا ضرورٹ پڑی تو مغربی روٹ کے لئے فنڈز بڑھادیئے جائینگے ۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایکسپرس وے کو چھ رویہ کرنے کی گنجائش ہو گی ،مغربی روٹ پہلے مرحلے میںچار رویہ بعد میں چھ رویہ کر دی جائے گی ۔راہداری منصوبے پر کمیٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے ،وزیر اعطم نواز شریف کمیٹی کے سربراہ ہونگے ۔گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کمیٹی کے ممبران ہونگے ۔

اعلامیہ میں کہا گیا کمیٹی کے لئے وزارت منصوبہ بندی و تری میں ایک سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے ،پارلیمانی کمیٹی کے رکن بھی کمیٹی کے ممبر ہونگے ۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ انڈسٹریل پارکس کی جگہ کا تعین صوبوں کی مشاورت سے کیاجائے گا ،اقتصادی اہداری پر سیاسی جماعتوں ، خیبر پختونخوا نے تحفظات سے آگاہ کیا،اعلی سطح کمیٹی کے ذریعے تحفظات دور کرنے میں آسانی ہو گی ۔اعلامیہ میں کہا گیا موٹروے کے لئے زمین کا حصول صوبوں کی ذمہ داری ہو گی ، زمین کی خریداری کے لئے فنڈز وفاقی حکومت ادا کرے گی ۔ مغربی روٹ شاہراہ کی توسیع ، زمین کا حصول کے پی کے کی ذمہ داری ہو گی ۔مزید کہا گیا کہ موجودہ مالی میں مغربی روٹ کے لئے 40ارب روپے مختص کئے گئے ۔

اب تک نیوز کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ راہداری میں آنے والے تمام اقتصادی زونز کے قیام کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیا جائےگا، جبکہ منصوبے سے متعلق تمام وزرائے اعلٰی پر مشتمل اسٹیئرنگ کمیٹی بنائی جائے گی۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق تمام پارلیمانی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کے دوران تمام جماعتوں نے وزیراعظم کو اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، جبکہ اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کی حمایت کا مکمل اعلان بھی کیا۔ترجمان وزیراعظم کے مطابق اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ منصوبے سے متعلق تمام وزرائے اعلٰی پر مشتمل اسٹیئر نگ کمیٹی بنے گی۔ جو تین ماہ بعد اجلاس میں منصوبے پر کام کا جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ تمام اقتصادی زونز کا فیصلہ صوبوں کی مشاورت سے کیاجائے گا اورمغربی روٹ کی تیز ترین بنیادوں پر تکمیل کی جائے گی۔ جس کی نگرانی وزیراعظم خود کریں گے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ راہداری منصوبے سے پاکستان سپر پاور بن سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماء شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہتے ہیں، وفاق کو بھی اپنا رویہ تبدل کرنا ہوگا۔ مسلم لیگ ق کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ پاکستان چین اقتصادی راہداری خوشحالی اور ترقی کی ضامن ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے کا کہنا تھا کہ چین کی طرح پاکستان کوبھی پسماندہ علاقوں کی ترقی پر زور دینا چاہیے۔

مزید : قومی /اہم خبریں