چھپ چھپ کر انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے والوں کیلئے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، ماہرین نے بڑی شرمندگی کے بارے میں خبردار کردیا

چھپ چھپ کر انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے والوں کیلئے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، ...
چھپ چھپ کر انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے والوں کیلئے انتہائی تشویشناک خبر آگئی، ماہرین نے بڑی شرمندگی کے بارے میں خبردار کردیا

  

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) فحش فلموں کے بارے میں دانشمندانہ حکمت عملی یقینا یہی ہے کہ ان سے مکمل اجتناب کیا جائے کیونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انہیں دیکھنے کا کوئی بھی ’خفیہ طریقہ‘ دراصل خفیہ نہیں ہے اور یہ حرکت کرنے والوں کا پول سب کے سامنے کسی بھی وقت کھل سکتا ہے۔

اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کے مطابق گوگل کروم براﺅزر کا خفیہ فیچر ’انکاگنیٹو‘ (incognito) استعمال کرنے والوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ ویب سائٹوں کو خفیہ رہ کر دیکھنے کے لئے تیار کیا گیا یہ فیچر بری طرح ناکام ہورہا ہے اور قابل اعتراض مواد دیکھنے والوں کو سخت شرمندہ کررہا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے انجینئرنگ کے طالبعلم ایوان اینڈرسن کا کہنا ہے کہ انہیں اس مسئلے کا علم پہلی دفعہ اس وقت ہوا جب انہوں نے اپنے کمپیوٹر پر ایک گیم کھولی لیکن اس کی بجائے ایک فحش ویب سائٹ خود بخود سکرین پر ظاہر ہوگئی، جسے وہ کچھ گھنٹے پہلے دیکھ چکے تھے۔ اینڈرسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ڈیٹا سٹور کرنے والی ایک مخصوص چپ (Nvidia Chip) میں یہ خامی ہے کہ جب نئی ایپلی کیشن کھولی جاتی ہے تو یہ پرانی ایپلی کیشن کا ڈیٹا مکمل طور پر صاف نہیں کرپاتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات پچھلی ونڈو کے مناظر خود بخود نئی کھولی گئی ونڈو میں نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔

مزید جانئے: سب سے زیادہ فحش فلمیں کس ملک میں دیکھی جاتی ہیں، فہرست میں ممالک کے نام دیکھ کر آپ کا منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا

اینڈرسن کا کہنا ہے کہ اگر آپ ایسے کمپیوٹر کو استعمال کرتے ہیں کہ جسے کوئی اور بھی استعمال کرسکتا ہے اور آپ گوگل کروم کے ’انکاگنیٹو‘ فیچر کے زریعے خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ آپ کی دیکھی ہوئی ویب سائٹیں بعد میں کسی کے بھی سامنے خود بخود کھل سکتی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گوگل کو اس مسئلے کی اطلاع کئے جانے کے باوجود اسے حل نہیں کیا گیا کیونکہ شاید گوگل نے کروم براﺅزر کے ’انکاگنیٹو‘ موڈ کو ایک ہی کمپیوٹر استعمال کرنے والے صارفین کو ایک دوسرے کی جاسوسی سے محفوظ کرنے کی نیت سے بنایا ہی نہیں تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس