گلے سڑے نظام نے عوام کا حق حکمرانی چھین لیا ،الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے تک انتخابی نظام درست نہیں ہوسکتا:لیاقت بلوچ

گلے سڑے نظام نے عوام کا حق حکمرانی چھین لیا ،الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے ...
گلے سڑے نظام نے عوام کا حق حکمرانی چھین لیا ،الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے تک انتخابی نظام درست نہیں ہوسکتا:لیاقت بلوچ

  


لاہور(نیوز ڈیسک)سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بوسیدہ اور گلے سڑے انتخابی نظام نے عوام سے ان کا حق حکمرانی چھین لیا ہے ،سرمایہ دار اور جاگیر دار اپنی دولت کے بل بوتے پراقتدار کے ایوانوں پر قابض ہیں،جبکہ عوام کو بنیادی ضروریات سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔پی کے 93دیر سے جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے کا اعلان نہ کرنا بدنیتی ہے۔الیکشن کمیشن کی تشکیل نو نہ ہوئی تو 2018ءکے انتخابات پر بھی کوئی اعتماد نہیں کرے گا۔انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی تجاویز پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ پانچ روزہ تربیت گاہ کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ الیکشن کمیشن بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے اور اسے اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرواسکے ،انتخابی نظام ،سیاست اور جمہوریت کو دولت مندوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔کروڑوں اور اربوں روپے خرچ کرکے انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں مگر آئین و قانون کو مذاق بنانے والوں سے باز پرس کی کسی کو جرا ت نہیں ہوتی۔الیکشن کمیشن کو جب تک بااختیار اور خود مختار ادارہ نہیں بنایا جاتا انتخابی نظام درست نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ انتخابی نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بگڑے رئیس زادے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں جہاں بیٹھ کر وہ پاکستان کی اسلامی و نظریاتی شناخت کے خلاف مکروہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ لیاقت بلوچ نے وزیر اعظم کی طرف سے اقتصادی راہداری پربلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل ہونے آل پارٹیز کانفرنس میں مغربی روٹ پر اتفاق کیا گیا تھاجس پر حکومت نے عمل درآمد نہیں کیا جس کی وجہ سے سوالات نے جنم لیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت متفقہ روٹ پر اسی وقت کام کا آغاز کردیتی تو تمام خدشات اور تحفظات خود بخود ختم ہوجاتے۔

مزید : لاہور


loading...