دہشت گردی کی تحقیقات میں بھارت سے یک طرفہ تعاون نہیں ہونا چاہیے: سینیٹر پروفیسر ساجد میر

دہشت گردی کی تحقیقات میں بھارت سے یک طرفہ تعاون نہیں ہونا چاہیے: سینیٹر ...
دہشت گردی کی تحقیقات میں بھارت سے یک طرفہ تعاون نہیں ہونا چاہیے: سینیٹر پروفیسر ساجد میر

  

سیالکوٹ (نیوز ڈیسک ) سینیٹر پروفیسر ساجدمیر نے کہا ہے دہشت گردی کی تحقیقات میں بھارت سے یک طرفہ تعاون نہیں ہوناچاہیے،بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس کے مجرموں کے خلاف آج تک کوئی کاروائی نہیں کی۔

سیالکوٹ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر  کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی بنیاد ناانصافی ہے،ہمیں اصل محرکات کا بھی جائزہ لینا چاہیے،دہشت گردی کا چیلنج پوری دنیا کو درپیش ہے، بھارت سے زیادہ دہشت گردی کا سامناپاکستان کو ہے۔انہوں نے  کہا کہ خطے میں قیام امن کی کوششوں کے حق میں ہیں تاہم پٹھان کوٹ واقعہ کی تحقیقات میں پاکستان سرعت کا مظاہرہ کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جلال آباد کے پاکستانی قونصلیٹ میں دھماکہ بھارت کے علاوہ کون کر سکتا ہے؟یہ سب کچھ اس دھمکی کے بعد ہو رہا ہے جو بھارتی وزیر نے دی تھی کہ اب دشمن کو بھی وہی تکلیف پہنچائیں گے جو بھارت کو پٹھانکوٹ کی وجہ سے پہنچی ہے۔پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ ہم نے دھماکوں کے لئے بھارت سے کس مجرم کو مانگاہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اصل میںپٹھان کوٹ کے واقعہ کو بنیادبنا کر بھارت مذاکرات سے بھاگنے کی کوشش کررہا ہے۔ بھارت سے پوچھا جائے کہ اس نے یواین او کو دیے گئے پاکستان میں مداخلت کے ثبوتوں کا کیا جواب دیا ہے؟انہوں نے کہا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے، رینجرز کے بقول کراچی میں دہشت گردی کی تربیت بھارتی ادارہ دیتا ہے، ہم نے کچھ مجرم پکڑ رکھے ہیں۔ بھارت سے پوچھا جائے کہ ان کے خلاف کیا کاروائی کی؟

مزید : سیالکوٹ