’میرے گھر کے اس فرد نے میرے ساتھ یہ شرمناک ترین کام کیا اس لئے۔۔۔‘ 12 سالہ لڑکی نے فیس بک لائیوسٹریم میں موت کو گلے لگالیا، پوری دنیا ہکا بکا رہ گئی

’میرے گھر کے اس فرد نے میرے ساتھ یہ شرمناک ترین کام کیا اس لئے۔۔۔‘ 12 سالہ ...
’میرے گھر کے اس فرد نے میرے ساتھ یہ شرمناک ترین کام کیا اس لئے۔۔۔‘ 12 سالہ لڑکی نے فیس بک لائیوسٹریم میں موت کو گلے لگالیا، پوری دنیا ہکا بکا رہ گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تبلیسی (نیوز ڈیسک)کاش کہ جنسی درندوں کو کبھی احساس ہو پائے کہ ان کے ظلم کا نشانہ بننے والوں کی روح کس طرح گھائل ہو جاتی ہے اور کیسے وہ زندگی سے ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔ اس بھیانک جرم کا نشانہ بننے والوں کو کس کرب سے  گزرنا پڑتا ہے، اس کی تازہ ترین مثال جارجیا سے تعلق رکھنے والی وہ نوعمر لڑکی ہے جسے اس کے اپنے خاندان کے ایک فرد نے درندگی کا نشانہ بنا ڈالا۔ بدنصیب لڑکی نے دلبرداشتہ ہو کر نہ صرف اپنی جان لے لی، بلکہ فیس بک پر اپنی خودکشی کی ویڈیو لائیو نشر کر کے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
اخبار میٹرو کی رپورٹ کے مطابق 12 سالہ کیٹلین نیکول ڈیوس اپنی ویڈیو کے آغاز میں بتاتی ہے کہ اس کے ایک رشتہ دار نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا جس پر وہ اس قدر رنجیدہ اور مایوس تھی کہ زندگی کا خاتمہ کرنا چاہ رہی تھی۔ یہ ویڈیو 42منٹ پر محیط ہے جس میں بیچاری لڑکی خودکشی کے اندوہناک اقدام سے پہلے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں بتاتی ہے اور کہتی ہے کہ اب اسے زندہ رہنے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔

بظاہر معصوم سی نظر آنے والی یہ بنگلہ دیشی لڑکی دراصل کون ہے، حقیقت جان کر دنیا بھر کے سکیورٹی اداروں کے ہوش اُڑگئے
فیس بک پر براہ راست نشر ہونے والی اس ویڈیو میں بالآخر وہ مناظر بھی دکھائی دیتے ہیں کہ جن کا تصور کرکے ہی انسان کانپ اٹھے۔ کمسن لڑکی نے خود پر ہونے والے ظلم کی کہانی سنانے کے بعد دنیا کو الوداع کہا اور ہزاروں انٹرنیٹ صارفین کے سامنے گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان لے لی۔

اس کی خود کشی کی ویڈیو نہ صرف براہ راست دیکھی گئی بلکہ بعدازاں انٹرنیٹ کی متعدد ویب سائٹوں پر بھی اپ لوڈ کردی گئی۔ یہ ویڈیو یوٹیوب اور فیس بک پر بھی کئی دن تک موجود رہی۔ پولیس کا کہناہے کہ انٹرنیٹ سے اس ویڈیو کو ختم کروانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے لیکن دو ہفتے گزرنے کے باوجود اب بھی یہ سینکڑوں ویب سائٹوں پر موجود ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ قانونی مشکلات کی وجہ سے ویڈیو کو ہر جگہ سے ڈیلیٹ نہیں کروایا جاسکتا البتہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ خود کشی کرنے والی لڑکی کے والدین اور اہلخانہ کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ازخود اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیں، اور انٹرنیٹ پر اسے دیکھنے یا پوسٹ کرنے سے گریز کریں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -