مسلمانوں میں انتہا پسندی کی سوچ فروغ پا رہی ہے،کتاب سے لا تعلقی پستی کا سبب بنی:جاوید احمد غامدی

مسلمانوں میں انتہا پسندی کی سوچ فروغ پا رہی ہے،کتاب سے لا تعلقی پستی کا سبب ...
مسلمانوں میں انتہا پسندی کی سوچ فروغ پا رہی ہے،کتاب سے لا تعلقی پستی کا سبب بنی:جاوید احمد غامدی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی نے کہا ہے کہ مسلمانوں میں اب انتہا پسندی کی سوچ تیزی سے فروغ پا رہی ہے،قومی ریاستیں وطنیت کی بنیاد پر قائم رہتی ہیں۔انتہا پسندوں کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہے،کتاب سے لا تعلقی ہمارے لئے پستی کا سبب بنی،ہمیں اپنے جرائم کی سزائیں مل رہی ہیں۔

امریکہ کو چین کی جنوبی بحیرہ چین کے جزائر تک رسائی کو روکنا ہوگا،نامزد امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام "جرگہ"میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم اقوام کو چاہیے کہ وہ اس بات کاجائزہ لیں کہ ہم مغرب سے کیوں پیچھے رہ گئے ہیں،پستی کے اسباب متعین کریں۔کتابوں سے لا تعلقی نے مسلمانوں کو پستی کی راہ پر دھکیل دیا ہے۔آج مسلمان خود کسی کی طرف جا رہے ہیں، ہمارے پاس کوئی طبعی علوم نہیں اور نہ ہی کوئی طاقت ہے۔ہمیں سیاسی جدوجہد کرنی چاہیے، مسائل کا حل ہر ممکن سطح پر کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو دیکھنا چاہیے کہ اللہ نے انہیں کونسی صلاحیت دی ہے اور اس کو بروئے کار لانا چاہیے۔میرا اصول یہ ہے کہ عبادت کے لائق صرف واحد اللہ ہے ،اللہ کو ماننے والی قوم اس کی پناہ میں ہوتی ہے۔اس قوم کے تمام علماءمیرے بھی علماءہیں،میرا کسی کے ساتھ کوئی تضاد نہیں ،میں سب کی یکساں عزت اور احترام کرتا ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حق پر ہونا کیا چیز ہے،جھوٹ بولنا،ذیادتی کرنایا ظلم کرنا؟حق کا اصل مطلب ہے کہ خدا کے ساتھ اس کے بتائے ہوئے سچے راستے پر چلا جائے۔مسلمانوں کے لئے اس وقت ترکی اور ملائشیا کسی حد تک رول ماڈل ملک ہیں۔یہ عامریت سے جمہوریت کی طرف کا راستہ ہے ،یہاں کچھ غلطیاں بھی ہوں گی لیکن بعد میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔افغان طالبان نے خود کو خطے تک محدود رکھا ہوا ہے ۔جاوید احمد غامدی کا کہنا تھا کہ دنیا میں تصادم مذہبی بنیاد پر پیدا کیے جا رہے ہیں جبکہ دہشتگردی کا مطلب معصوموں کا قتل عام ہے ،جہاد نہیں۔میں جہاد کا منکر نہیں ہوں لیکن ظلم کے خلاف بھی جہادشرائط پر ہی کیا جاتا ہے۔جہاد گروہوں کا کام نہیں بلکہ کسی منظم ریاست اور اقتدار کے زیر سایہ کیا جاتا ہے۔افغانستان کے جہاد میں بھی مذہب کو استعمال کیا گیا تھا ،اس کے نتائج بھی اب پوری دنیا کے سامنے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں ہندوو ں کو آباد کرنے کی کوشش جاری،انتہا پسند تنظیموں کو فری ہینڈ دیاجاتا ہے:مشال ملک

داعش پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت داعش ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے،مسلمان گمراہ ہو کر داعش میں داخل ہو رہے ہیں۔داعش میں مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے کہ خلافت ہی ان کے لئے سب سے آئیڈیل ہے،خلافت عثمانیہ کو دوبارہ سے بنایا جائے گااور یہی مسلمانوں کا مقصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب خلافت مسلمانوں کا رومانس بن چکی ہے۔مغرب کی واضح سوچ ابھی تک نو منتخب ٹرمپ کی سوچ کے مخالف ہے۔کشمیریوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آزادی لینا کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے،فیصلہ انہوں نے خود کرنا ہے کہ بھارت سے الگ ہوکر پاکستان کے ساتھ ملاپ کرنا ہے یا نہیں۔ حکمرانوں کو کشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل نکالنا چاہیے۔ فنون لطیفہ اپنی اصل شکل میں ایک نعمت ہیں،ان کا استعمال جائز اور نا جائز ہوتا ہے، لوگوں کو پرانی بات اب نئی لگتی ہے۔

جاوید احمد غامدی کا خود پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہنا تھا کہ مجھے اپنی بات کہنے کا حق ہے،مجھے دیکھنا ہے کہ مسلمانوں کے زوال کا سبب کیا ہے۔جس جگہ انسان کا رہنا مسکل ہو جائے اسے وہاں سے ہجرت کر لینی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ میرا پاکستان میں رہنا مشکل ہو گیا تھا جبکہ میرے ساتھ والوں کو بھی پریشانی ہو رہی تھی جس وجہ سے میں ملائشیا چلا گیا ، وہاں مجھے آسانی سے رہنے کی اجازت مل گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے شعور کی آنکھ مولانہ مودودی کی معیت میں کھولی تھی،جماعت اسلامی والوں کو میں اپنی برادری سمجھتا ہوں اور ان سے پیار بھی کرتا ہوں۔

مزید :

اسلام آباد -