’چین نے خفیہ طور پر پاکستان کو یہ جدید ترین ہتھیار دے دیا ہے‘ ایسا دعویٰ منظر عام پر کہ امریکہ اور بھارت دونوں کے ہوش اُڑگئے، کونسا ہتھیار ہے؟ جان کر پاکستانیوں کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

’چین نے خفیہ طور پر پاکستان کو یہ جدید ترین ہتھیار دے دیا ہے‘ ایسا دعویٰ ...
’چین نے خفیہ طور پر پاکستان کو یہ جدید ترین ہتھیار دے دیا ہے‘ ایسا دعویٰ منظر عام پر کہ امریکہ اور بھارت دونوں کے ہوش اُڑگئے، کونسا ہتھیار ہے؟ جان کر پاکستانیوں کی خوشی کی انتہا نہ رہے گی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)چین اور پاکستان کی دوستی صرف بھارت ہی نہیں بلکہ اس کے دوست امریکا کے لئے بھی پیٹ میں درد کا سبب بنی ہوئی ہے۔ اتفاق سے آئے روز اس دوستی میں کوئی ایسی پیش رفت ہو جاتی ہے کہ ان دونوں کا درد اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اب ایک اور ایسی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس پر امریکا اور بالخصوص بھارت ضرورت سے زیادہ پریشان ہو گئے ہیں۔
یاہو نیوز کے مطابق ’سنٹر فاردی سٹڈیز آف ڈرون ایٹ بارڈ کالج‘ کی جانب سے کچھ دن قبل ایک سیٹلائٹ تصویر کے حوالے سے دعوٰی کیا گیا کہ ”یوں لگتا ہے جیسے چین نے پاکستان کو ایک بڑا جنگی ڈرون بیچ دیا ہے، اور شاید آنے والے دنوں میں ایسے مزید ڈرون پاکستان کو بیچے جانے والے ہیں۔“ سنٹر نے نومبر 2017ءکی سیٹلائٹ تصویر کے حوالے سے 5جنوری کے روز کہا تھا کہ میانوالی کی عالم ائیربیس پر ایک ’میڈیم آلٹی ٹوڈ لانگ انڈیورنس‘ ڈرون دیکھا گیا ہے اور اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ چین کا تیار کردہ ’ونگ لونگ ون‘ ڈرون ہے۔ یہ اندازہ ڈرون کے پروں کے پھیلاﺅ کی بناءپر قائم کیا گیا، جو تقریباً 14 میٹر ہے، اور یہ کہ اس کی وی ٹیل بھی ونگ لونگ ون سے مشابہہ نظر آتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ونگ لونگ ون حملے کی صلاحیت رکھنے والا میڈیم آلٹی ٹوڈ لانگ انڈیورنس ڈرون ہے جسے چینی کمپنی ایوی ایشن انڈسٹری کوآپریشن آف چائنہ نے تیار کیا ہے۔ اس کی لمبائی 9 میٹر اورپروں کا پھیلاﺅ 14میٹر ہے۔ یہ ڈرون 25000فٹ کی بلندی پر تقریباً 280کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے اور اس کی رینج 5000کلومیٹر تک ہے۔ یہ ڈرون 1150 کلوگرام وزن کے ساتھ ٹیک آف کرسکتا ہے جبکہ اس کی پے لوڈ کپیسٹی 200 کلوگرام ہے، جسے اندرونی و بیرونی ویپن سٹورز میں مساوی تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس ڈرون طیارے کو امریکہ کے مشہور ’پریڈیٹر ڈرون‘ کا چینی ورژن قرار دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈرون طیارے کی سفید رنگت، جو کہ جنگی میدان کی خاکستری رنگت کے برعکس ہے ، یا ظاہر کرتی ہے کہ یہ ٹیسٹ پلیٹ فارم ہے نہ کہ آپریشنل ائیرفریم۔