بیرونِ ملک سیاستدانوں کی جائیدادیں

بیرونِ ملک سیاستدانوں کی جائیدادیں
بیرونِ ملک سیاستدانوں کی جائیدادیں

  

پچھلے کئی برسوں سے پاکستان کے سیاستدانوں کی کرپشن اور بیرون ممالک اثاثوں کے قصے زبان زد عام ہیں۔ یوں تو یہ سلسلہ کافی پرانا ہے لیکن اس کی باز گشت سرے محل سے شروع ہو کر علیمہ خان کے نیوجرسی میں قیمتی فلیٹوں تک پہنچی ہے۔

سب سے زیادہ واویلا پاکستان پر 3 بار حکومت کرنے والے میاں نوازشریف پر لگے پاناما کے الزامات کا ہوا ہے جس کی پاداش میں انہیں حکومت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے اور ان گنت عدالتی پیشیاں بھگتنے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھنا پڑا ہے۔

ہمارے سیاستدان اپنے اثاثے بیرون ممالک کیوں رکھتے ہیں؟ ان کی کیا مجبوری ہے کہ اپنی دولت دیار غیر میں لے جاتے ہیں اور پھر نیب اور عدالتوں کے سامنے پیشیاں بھگتنا پڑتی ہیں اور ان کے سوالات کے جوابات تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ اور پھر ان سوالوں پر کئی کئی جھوٹ بولنا پڑتے ہیں۔ پھر ان جھوٹوں کو چھپانے کے لئے مزید جھوٹ کے سہارے ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ اس گول گاوں دنیا میں اب اپنا سرمایہ دوسرے ممالک میں لے جانا یا وہاں سے پیسے کمانا کوئی معیوب بھی نہیں ہے۔

لیکن اسی زمین پر موجود 200 ممالک پر غور کیا جائے تو چند ممالک ہی ایسے ہوں گے جن کے سربراہان اور سیاستدانوں نے اپنی دولت دوسرے ممالک میں چھپا رکھی ہو اور مزید غور کیا جائے تو ایسے سیاستدان کم ہی ہوں گے زیادہ تر ڈکٹیٹر، بادشاہ اور شہزادے ہی نظر آئیں گے۔ اور اب یہ رجحان بھی بہت کم ہو گیا ہے۔ جب سے اقوام عالم نے یہ قانون متعارف کرایا ہے کہ ناجائز ذرائع سے کمائی گئی وہ دولت جو دوسرے ممالک میں چھپائی گئی ہو وہ ثبوت پیش کرنے پر متعلقہ ملک کو واپس مل سکتی ہے اس وقت سے سویٹزرلینڈ کے بنکوں میں سرمایہ آنا بند ہو چکا ہے۔ دور کیوں جائیں ہمارے ہمسائے بھارت کے سیاستدانوں کو دیکھ لیں کتنے ہیں جن کی رہائشگاہیں اور جائیدادیں بیرون ملک ہیں؟ وہ تو اپنے ملک کے اندر بھی گاڑی سے لیکر دھوتی تک اپنے ہی ملک کی بنی ہوئی استعمال کرتے ہیں۔

پھر ہمارے سیاستدان ایسا کیوں کرتے ہیں؟ بادی النظر میں اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی یہ کہ ان کی دولت ناجائز ذرائع سے کمائی گئی ہویا پھر ان کو اپنا ملک جس کے وہ خود حکمران ہوتے ہیں انتہائی غیر محفوظ لگتا ہو۔

اگر پہلی وجہ درست ہے تو پھر عوام کو سوچنا پڑے گا کہ کیا وہ اپنی امانتیں ان لوگوں کے حوالے کرتے ہیں؟ اور اگر دوسری وجہ ہے تو پھر افسوس ہے ایسے سیاستدانوں اور حکمرانوں پر جو اپنے ملک کو رہنے اور اپنے سرمائے کے لئے محفوظ نہیں سمجھتے۔

پاکستان کی تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو 80 کی دھائی شروع ہونے سے پہلے کبھی نہیں سنا تھا کہ ہمارے سیاستدانوں کے بیرون ملک اثاثے ہیں۔ حالانکہ متحدہ پاکستان اور موجودہ پاکستان کے اندر کئی جاگیردار، نواب، سردار اور سرمایہ دار سیاست کے میدان میں رہے ہیں لیکن ان کا جو بھی تھا وہ سامنے تھا اور پاکستان کے اندر تھا انہوں نے کچھ چھپایا نہ منی لانڈرنگ کی۔ پیسے کی سیاست یا سیاست میں پیسے کا استعمال 80 کی دہائی سے شروع ہوتا ہے ۔

جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں وطن عزیز کے کئی سیاستدانوں، شعراء اور دانشوروں کو جلاوطنی کا سامنا رہا اور کئی کئی برس بیرون ملک رہنا پڑا لیکن پھر بھی انہوں نے دیار غیر میں اپنی کوئی رہائش خریدی نہ اثاثے بنائے۔ لیکن اب۔۔۔۔۔ اب تو وہ سیاست دان ہی نہیں جس کے اثاثے دوبئی، لندن، سویٹزرلینڈ، فرانس اور امریکہ میں نہ ہوں۔

عوام بھی صرف انہی سیاستدانوں کو قبول کرتے اور ووٹ دیتے ہیں جن کے بارے مکمل چھان بین کے بعد یقین کر لیں کہ ان کے پاس وافر سرمایہ ہے اور وہ بھی دیار غیر میں محفوظ ہے، کیونکہ عوام کے خیال میں جو خود اپنے سرمائے کو محفوظ نہیں رکھ سکتا وہ ہمیں کیا تحفظ دے گا؟ تو پھر پاکستان میں سیاست کرنے کے لئے مال اور بیرون ملک جائیدادیں شرط ہے۔

مزید :

رائے -کالم -