معاشرتی،سماجی رویے اور ہمارا مستقبل 

معاشرتی،سماجی رویے اور ہمارا مستقبل 
معاشرتی،سماجی رویے اور ہمارا مستقبل 

  

وطن عزیز یوں تو بے شمار مسائل میں جکڑا ہوا ہے۔سیاسی انتظامی مسائل سے لے کر سماجی رویوں تک ہر جگہ انتشار اور افراتفری موجود ہے۔ ارباب اقتدار کی پہنچ فقط چند ایک بڑے قومی نوعیت کے مسائل تک ہے۔ مگر وہاں بھی ناقص نظام العمل ،اور آئینی قانونی پیچیدگیوں کے باعث مقتدر حلقے بے بس اور مجبور دکھائی دیتے ہیں۔

کرپشن کی ہوشربا داستانیں جو گزشتہ چند سالوں سے سنائی جاتی رہیں اب وہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ انجام مثبت کی بجائے منفی نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔کرپٹ مافیا نئی حکومت جو کرپشن مٹاؤ کا نعرہ لے کر آئی تھی کے مقابل طاقتور اور قوی دکھائی دے رہا ہے۔موجودہ حکمران بھی بیبس ہو کر مک مکا کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ریاستی مشینری کا سارا فوکس انہی مسائل کے گرد گھوم رہا ہے۔جبکہ ہمارے معاشرتی اور سماجی ڈھانچے میں اس سے بھی زیادہ خطرناک وائرس در آئے ہیں جن کا سدباب کیئے بغیر معاشرتی امن برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہے۔اس وقت پاکستانی جوائنٹ فیملی سسٹم ٹوٹ پھوٹ کا شکارہے۔نکاح و طلاق کے مسائل تاریخ کی بلندترین سطح پر ہیں ،معاشرتی اخلاقیات کا شیرازہ منتشر ہو چکا ہے ،رشتوں کی تمیز مٹ رہی ہے۔تہذیب اور ثقافت دم توڑ رہی ہے ،غمی اور خوشی کا تصور بدل رہا ہے۔ایثار ،قربانی اور خلوص جو کسی قوم کا خاصہ رہا ہے دم توڑ رہے ہیں۔جنسی حیوانگی ہم جنس پرستی سے ہوتی ہوئی اب معصوم پھول اور کلیوں تک آ پہنچی ہے۔ بدفعلی ،بداخلاقی ،اب کوئی خاص جرم نہیں رہا ،ظلم کی انتہا تو یہ کہ اب معصوم بچوں ،بچیوں سے جنسی درندگی کے بعد قتل جیسے شدید جرم سے بھی نہیں چونکا جا رہا ،دین سے بیزاری بڑھتی جا رہی ہے۔ایسے بیشمار المیے منہ کھولے ہمارے معاشرے کو ہڑپ کرنے جا رہے ہیں۔مگر صد افسوس کہ ہمارے حکمران، ان مسائل کے حل سے مکمل طور پر بے بہرہ ہیں۔

کسی بھی سطح پر کوئی معاشرتی ،سماجی ،اور اخلاقی اصلاح کا کوئی ادارہ سرے سے موجود ہی نہیں اگر کوئی ہے بھی تو وہ ورکنگ حالت میں موجود نہیں۔ہم سرکاری سطح پر میڈیا جو ٹی۔وی سکرین کے ذریعے ہر گھر میں موجود ہے، سے اپنی معاشرتی اصلاح احوال کا کام لے سکتے ہیں۔جبکہ ریاست ان مسائل کا حل شاید اپنی ذمہ داری سمجھتی ہی نہیں ہے۔ایسے حالات میں اگر ہم کسی خوشگوار تبدیلی کا خواب دیکھ رہے ہیں تو یہ ہم خود اپنے ساتھ بھی اور اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں۔کوئی سمجھے یا نہ سمجھے آج وقت ہے کہ ہم کسی عمرانی معاہدہ کے تحت اپنے معاشرے کی از سر نو تعمیر و تکمیل پر توجہ دیں ،موجود نظام بدلے بغیر ہم اپنی نسلوں کو تباہی سے نہیں بچا پائیں گے۔اللہ نہ کرے اس نظام میں ہم اپنی تہذیب ،اپنی ثقافت ،اپنی تاریخ ،اخلاقیات ،تو گنوا ہی بیٹھے اگر یہی حالت برقرار رہی تو ہم دین و ایمان کی جو رمق باقی بچی ہے اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

۔

نوٹ: یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے ۔

مزید :

بلاگ -