سرد موسم نے گرم سیاست پر بھی اثر کیا، اپوزیشن لڑکھڑائی ہے

سرد موسم نے گرم سیاست پر بھی اثر کیا، اپوزیشن لڑکھڑائی ہے

  



لاہور سے چودھری خادم حسین

بارش اور برف باری کے دوسری لہر نے موسم پھر سے ٹھنڈا کر دیا لیکن اس کے اثرات سیاسی موسم پر نہیں ہوئے اور نہ ہی حکومت کرنے والوں کے لئے سکھ کی گھڑی والی بات ہوئی اگرچہ متحدہ اپوزیشن کا شیرازہ بکھر چکا تاہم خود وہ پتے ہوا دینے لگے ہیں جن پر تکیہ تھا اور وہ لوگ اسے ریت کی بوری میں سوراخ قرار دینے لگے ہیں جو گھر گھر کے نعرے لگوا رہے تھے، تاہم اقتدار کی چولیں ہلانے والے حضرت مولانا فضل الرحمن تو مایوس ہو گئے ہیں۔ لاہور آئے تو روایت کے مطابق مولانا امجد خان نے میڈیا سے بات چیت کا اہتمام کر ڈالا، وہاں مولانا نے اپنی برجستہ گفتگو ہی کا سہارا لیا اور کہا ہم تو ”حکمرانوں کا سفینہ ڈبونے نکلے تھے لیکن اپوزیشن اپنے ہی قافلے کو لے ڈوبی“ تاہم وہ مایوس بالکل نہیں ہوئے فرماتے ہیں ”ہم اب تنہا اپوزیشن اور اپنے بیانئے پر قائم ہیں اور پھر سے سڑکوں پر آنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ آغاز پنجاب سے کریں گے۔ مولانا کا یہ کہنا یوں درست ہے کہ انہوں نے تو آزادی مارچ اور اسلام آباد پشاور موڑ پردھرنا دے کر ثابت کر دیا تھا کہ وہ لوگوں کو جمع بھی کر سکتے اور ان کو نظم و ضبط کے ساتھ بٹھا بھی سکتے ہیں۔ بہرحال ان کے متحدہ اپوزیشن اتحاد میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کی اپنی مصلحتیں تھیں کہ وہ کنٹینر پر آکر بھی مارچ اور خصوصاً دھرنے میں ساتھ نہ دے پائے، حتیٰ کہ جب مسلح افواج کے سربراہوں والے بل آئے تو یہاں بھی اختلاف ہی ہوا۔ مسلم لیگ (ن) غیر مشروط اور پیپلزپارٹی شکوہ کرکے ڈھے گئی تاہم مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، اب اسے واک آؤٹ، بائیکاٹ یا غیر جانبداری کہہ لیں یہ آپ کی مرضی!

موسم اور سیاست کا تعلق بھی چولی دامن کا سا ہو گیا کہ موجودہ حکومت کے خلاف ہمارے مولانا تو اول روز ہی سے تحریک کے موڈ میں تھے بلکہ انتخابی عمل کے بعد اسمبلیوں میں حلف کے مخالف تھے لیکن پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے ساتھ نہ دیا اور پھر سبھی نے حلف لیا، خود مولانا کے صاحبزادے بھی شامل ہیں، اگرچہ مولانا خود ہار گئے اور پھر کئی بار تجویز آئی وہ نہ مانے اور کسی بھی نشست پر ضمنی انتخاب میں حصہ نہ لیا۔ حالانکہ ان کو چیلنج بھی کیا گیا اور ان کی جماعت کے منتخب حضرات نے نشست خالی کرنے کی بھی پیشکش کی لیکن وہ خود کو مائل نہ کر سکے ایک تو انہوں نے انتخابات کو تسلیم نہیں کیا تھا دوسرے شاید یہ بھی یقین سا تھا کہ ضمنی انتخاب میں بھی ان کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ورنہ کیا برا تھا کہ وہ پہلے ہی قومی انتخابات میں نہ ہارتے، بہرحال وہ ہمت نہیں ہارے اور اب بھی تیاریاں کر رہے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ اب ان سے منحرف ہونے والی جماعتیں بھی مکمل تعاون پر مجبور ہوں گی کہ بارش کا پہلا قطرہ آیا تو برسات بھی ہو گی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جو محاذ آرائی شروع ہوئی وہ اب بھی جاری ہے، تاہم جنگ کے جو بادل منڈلا رہے تھے وہ ہلکے پڑ گئے ہیں، لیکن لفظی گولہ باری جاری ہے۔ اس حوالے سے کراچی میں امریکہ کے خلاف ایک بڑی ریلی نکالی گئی تو اتوار کے روز لاہور میں بھی بڑا مظاہرہ کیا گیا۔ اتحاد امت کے زیر اہتمام اس ریلی کا اہتمام ہوا جو فیصل چوک سے شروع ہو کر امریکی قونصلیٹ تک آئی۔ تاہم پولیس نے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے اور قونصلیٹ جانے والے تمام راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیاگیا تھا اس سے ٹریفک بھی مفلوج ہوئی اور لوگوں کو آنے جانے میں پریشانی کا سامنا ہوا، حتیٰ کہ پریس کلب بھی ایک روز کے لئے بند کر دی گئی، بہرحال انتظامی حوالے سے بہتر ہی رہا کہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔

سرد مغربی ہواؤں نے اس مرتبہ زیادہ وسیع رقبے کا رخ کیا۔ پہاڑوں پر تیز برف باری ہوئی تو لاہور میں بھی بارش ہوئی جو اس وسیع منظر ہی کا حصہ تھا جو میدانی علاقوں میں دور دور تک دکھائی دیا اور سندھ سے پنجاب اور بلوچستان تک بھی بارشیں ہوئیں۔ لاہور میں بہتر ہوتا موسم پھر سے سرد ہو گیا اور دہرے کپڑے پھر سے پہن لئے گئے۔ محکمہ موسمیات کی اطلاع ہے کہ یہ سلسلہ 21جنوری تک برقرار رہے گا۔ مطلب یہ کہ موسم سخت سرد ہو گا، اگرچہ بارش کا سلسلہ گزشتہ روز رک سا گیا تھا۔

لاہور میں ایک این جی او نے ”تھنک فیسٹ“ کے نام سے ایک سہ روزہ مذاکرے کا بھی اہتمام کیا جو الحمرا میں ہوا اور اس میں تمام قابل ذکر جماعتوں کے رہنما بھی شریک ہوئے اور اپنی اپنی آمدکا اظہار کیا۔ ان دانشور حضرات نے ملک کو درپیش مسائل اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بھی بات کی اور بھارت میں جاری احتجاج کا بھی ذکر کیا۔ بھارتی دانشور مانی شنکر نے بھی بھارتی جنتا پارٹی کے شہریت بل کو متعصبانہ اور یک طرفہ کارروائی قرار دے کر کہا کہ یہ امتیازی ہے۔ وزراء اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اپنے اپنے موقف کے مطابق بات کی تاہم اس پلیٹ فارم پر سبھی پارلیمنٹ کی بالادستی اور مفاہمت کی بات کررہے تھے اور جمہوریت کی روح کے مطابق عمل پر زور دے رہے تھے۔

مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر اور قومی اسمبلی کے رکن رانا ثناء اللہ جب سے ضمانت پر رہا ہوئے بتدریج فارم کا مظاہرہ کررہے ہیں، اب ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) اور نوازشریف کے بیانیہ میں خلائی مخلوق کا جو ذکر کیا گیا اس سے مراد آرمی چیف یا فوجی ادارہ نہیں تھا، ان کا گلہ تھا کہ بابے رحمتے نے ان کو سال بھر ٹکنے نہیں دیا، مراد مسلم لیگ (ن) تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوازشریف اب بھی اپنے بیانئے پر قائم ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1