خیبرپختونخوا، پہاڑوں پر برفباری، سیاحوں کا رخ، راستوں کی خرابی اور لینڈ سلائیڈنگ سے مشکلات

خیبرپختونخوا، پہاڑوں پر برفباری، سیاحوں کا رخ، راستوں کی خرابی اور لینڈ ...

  



خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ بارشوں اور سردی کی شدت نے جہاں کاروبار زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے وہاں پہاڑی علاقوں نے برف کی چادر اوڑھ لی ہے اور سیاحوں کی بڑی تعداد نے سیاحتی مقامات کا رخ کیا ہے، اکثر ٹورسٹ پوائنٹس پر آمد و رفت میں مشکلات کا بھی سامنا ہے، راستے مسدود ہو چکے ہیں، بڑی تعداد میں شہری وہاں پھنسے ہوئے ہیں، گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں ہیں تو لینڈ سلائیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جہاں سیاح بارش اور برف باری سے لطف اندوز ہو رہے ہیں وہاں بعض علاقوں میں انتظامی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث انہیں مسائل بھی درپیش ہیں۔ سوات جیسے پر فضا مقام پر دریائی آلودگی نے سر اٹھا لیا ہے اس وجہ سے بھی کافی دقت پیش آ رہی ہے، بعض شاہراہیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، ویسے تو صوبائی حکومت نے معاملات درست کرنے کے بہت اعلانات کئے اور کہا جا رہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سوات نے مالم جبہ اور کالام سمیت ضلع کے دوسرے سیاحتی مقامات کی سڑکوں کی حالت ہر وقت قابل سفر رکھنے کیلئے انتظامات کئے ہوئے ہیں اور برفباری کی تازہ لہر سے لطف اندوز ہونے کیلئے ان سیاحتی مقامات کو عوام کسی بھی وقت آ سکتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ ٹورسٹ اپنی گاڑیوں کو چین (زنجیریں) لگا کر سفر کیا کریں اور برفباری کے موسم سے متعلق تمام احتیاطی تدابیر پرپیشگی عمل پیرا ہوں، جو لوگ گاڑیوں کو چین لگانے کے طریقہ کار سے واقف نہ ہوں انہیں چاہئے کہ سوات یعنی مینگورہ سے نکلتے وقت مقامی گاڑیوں کا سہارا لیں اور یہ بات یقینی بنائیں کہ ان کی گاڑیوں کو چین لگی ہوئی ہو، بغیر چین لگے گاڑیوں کو حادثات کے  امکانات ہوتے ہیں آجکل مالم جبہ اور کالام سمیت دیگر تمام پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری جاری ہے جس کی وجہ سے سیاحتی مقامات کے  حسن کو چار چاند لگے ہوئے ہیں۔ سیاحت کے فروغ سے صوبائی حکومت کی آمدن میں خاصہ اضافہ ہو سکتا ہے اس لئے انتظامیہ سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے۔ جہاں تک سوات میں آلودگی کا معاملہ ہے تو  وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سوات میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تنزلی کو کنٹرول کرنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ مقصد کے حصول کے لئے ماحول کی باضابطہ سائنٹیفیک سٹڈی کریں۔ تیز رفتار ماحولیاتی بگاڑ نہایت تشویشناک ہے، اب وقت ہے کہ اس سلسلے کو روکا جائے کیونکہ اب مزید کسی غفلت یا تاخیر کی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سوات کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی آلودگی  کے منفی اثرات کے حوالے سے لوگوں کے لئے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم شروع کی جائے۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا سمیت مساجد، حجروں اور تمام متعلقہ فورمز اور سٹیک ہولڈرز کو اس مہم میں شامل کیا جائے۔ضلع شانگلہ میں بھی موسم سرما کے چوتھی برف باری کا سلسلہ جاری ہے پہاڑوں پر برفباری کی وجہ سے مین شاہراؤں پر ڈرائیوروں کو شدید قسم کی مشکلات کا سامنا ہے، یہاں بھی سفری سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے، برف اور لینڈ سلائیڈنگ ختم کرنے کے لئے مشینری کی کمی بھی آڑے آ رہی ہے، سیاح مناسب انداز میں قدرتی مناظر اور حسن سے لطف اندوز نہیں ہو پا رہے۔ 

خیبر پختونخوا حکومت نے بھی وزیر اعظم عمران خان کے احکامات کی تقلید شروع کر دی ہے اور مرغ بانی کے شعبہ میں سرگرمی دکھائی جا رہی ہے، آئندہ چار سالوں کے دوران گھریلو مرغبانی پروگرام کے تحت صوبہ کے غریب عوام میں رعایتی قیمت پر 10لاکھ مرغیاں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے جس کیلئے صوبائی حکومت کو اب تک1لاکھ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، چار سال کا ہدف دو سال میں مکمل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیاہے، گھریلو مرغبانی پروگرام کے تحت غریب عوام کو مجوزہ فارم پر ایک مرغ، 5 دیسی مرغیوں کا یونٹ 1050روپے میں فراہم کیا جائیگا۔

خیبرپختونخواحکومت کی طرف سے ریٹائرڈ افسروں کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے کا سلسلہ بھی ہدف تنقید بن رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حاضر سروس افسران سے فائدہ اٹھانے کے بجائے مدت ملازمت پوری کر لینے والے افسروں کو دوبارہ جاب دینا قرین انصاف نہیں، چند روز قبل صوبے کے سابق سینئربیوروکریٹ انجینئرنعیم خان کومحکمہ توانائی وبرقیات کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو)کا نیاچیف ایگزیکٹو آفیسرتعینات کردیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ پانی اورتوانائی کے شعبہ جات میں اعلیٰ تعلیم ومہارت رکھنے کی وجہ سے اسلام آبادکی سطح پرپاکستان انجینئرنگ کونسل کے پانی وتوانائی کے شعبوں میں تھنک ٹینک کے ممبرکے طورپر خدمات بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔اس سلسلے میں محکمہ توانائی وبرقیات کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق انجینئرنعیم خان کو آئندہ چارسالوں کے لئے پیڈوکانیاسربراہ مقررکیا گیا ہے۔ انجینئرنعیم خان گزشتہ سال گریڈ21میں سیکرٹری آبپاشی کے عہدے پر ریٹائرڈ ہوئے تھے،وہ سیکرٹری توانائی بھی رہ چکے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض دیگر ریٹائرڈ افسروں کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے کا معاملہ بھی زیر غور ہے، اس سے موجودہ سرکاری افسران میں بد دلی پھیل رہی ہے اور وہ مناسب انداز میں خدمات انجام نہیں دے پا رہے، اس قسم کی شکایات وفاقی ایوان اقتدار تک بھی پہنچی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت اس نئی غیر اعلانیہ پالیسی پر از سر نو غور کرے کیوں کہ موجودہ صورت حال میں بیورو کریسی کے ساتھ کوئی نیا معاملہ نیک شگون نہیں ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1