یہ سال ترقی کا سال ہے، وزیراعظم کا فرمان بجا، مہنگائی نے تو چیخیں نکلوا دیں!

 یہ سال ترقی کا سال ہے، وزیراعظم کا فرمان بجا، مہنگائی نے تو چیخیں نکلوا ...

  



ملتان سے شوکت اشفاق

تحریک انصاف کے حکومتی ذمہ داران سمیت وزیر اعظم عمران خان نے متعدد مرتبہ یہ بات دہرائی تھی کہ 2019ء معاشی معاملات کو سلجھانے کاتھا مگر 2020ء عوام کیلئے خوشخبریوں کا سال ہوگا مگر آثار یہ بتا رہے ہیں کہ موجودہ سال بھی مزید مہنگائی اور معاشی بدحالی کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ملک کے اندر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اور عام آدمی کی آمدنی سے زیادہ اضافے سے مہنگائی کا ایسا طوفان آیا جو سنبھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے اور حالت یہ ہے کہ عام استعمال کی  اشیاء میں سو فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوچکا ہے حتی کہ اپنی پیداوار جس میں سبزیاں،دالیں اور گندم اہم ہیں،اتنی مہنگی ہوچکی ہیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔وفاقی حکومت اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں جبکہ صوبائی حکومت اس طرف کان ہی نہیں دھر رہی،دعویٰ گڈ گورننس کا کیا جارہا ہے لیکن جرائم خصوصا چوری چکاری اور ڈکیتیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے عوام کو سہولت فراہم کرنے کی بجائے اضلاع کی پولیس شکایت کنندہ کو ہی مشکوک بنا دیتی ہے مگر خیر ہو وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے گڈ گورننس لانے کا سندیسہ دے رہے ہیں۔ملتان کے انتہائی مختصر ذاتی دورے میں جہاں انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے بند راستوں کو کھلوانے کے احکامات جاری کئے جس کے آس پاس ان کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کے گھرہیں اور رات بھی وہی قیام کیا اور کوئی قابل ذکر یا ضرورت کا کوئی کام سرانجام نہیں دیا حالانکہ جنوبی پنجاب سے تعلق کی وجہ سے ملتان سے ایک مضبوط رابطہ ہونا چاہیے تھا مگر اپنے ڈیڑھ سالہ دور اقتدار میں ابھی تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کرسکے،برسوں سے رکے ہوئے منصوبے بھی جوں کے توں ہیں اور محض توجہ مانگتے ہیں جو ندارد ہے۔دورے کی جو پریس ریلیز جاری کی گئی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے پی ٹی آئی کے کارکنوں سے ملاقات کی ہے مگر وہ کارکن کون تھے اس بارے میں پریس ریلیز کے الفاظ خاموش ہیں البتہ یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ پرانی روایات کا خاتمہ کرکے تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے،شاہ خرچیوں کی بجائے کفایت شعاری کو اپنایا گیا ہے،سماج کو تبدیل کررہے ہیں جو وقت لے گا اور دیر پا ہوگا۔اب یہ کتنا وقت لے گا اس پر راوی خاموش ہے لیکن دوسری طرف وزیر اعلیٰ نے پنجاب میں نمبرداری نظام کو فعال بنانے کے فیصلے کا عندیہ دیا ہے جو اہم اور وقت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ نظام موجود تو تھا لیکن فعال نہیں تھا۔مگر اب اس کو فعال کرنے کی منظوری دی گئی ہے اور پنتالیس ہزار کے قریب نمبرداروں کو چودہ اہم ذمہ داریاں سونپی جارہی ہیں،یوں یہ نظام حکومتی اقدامات میں موثر شراکت دار کے طور پر کام کرے گا جس میں سرکاری واجبات کی وصولی اور تکمیل ریکارڈ بھی ممکن ہوسکے گا۔سرکاری املاک کی مانیٹرنگ اور ان کو پہنچنے والے نقصان کی رپورٹ بھی دینے کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی،ضلع کلکٹر کے احکامات اور فصلوں کی گردواری میں معاؤنت کریں گے،سرکاری سمنوں کی تعمیل،جدید کاشتکاری اور بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے سمیت سرکاری کھال یا نہروں میں شگاف،پانی چوری کی اطلاع بھی ان کے فرائض میں شامل ہوگی۔اگر دیکھا جائے تو یہ بہت اچھی بات ہے اور یہ نظام اسی طرح چلایا جاتا ہے تو بہتری کی امید کی جاسکتی ہے لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا سرکاری مشینری ایسے نظام کو چلنے دے گی جو ان کے اختیارات کو کم کردے۔اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔

سینئر سیاستدان لیگی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے حال ہی میں ہونے والی متفقہ ترمیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ وہ اس طرح سے ہونے والی ترمیم پر سیاست سے دستبردار ہونا چاہتے تھے لیکن دل اور دوستوں نے ہتھیار نہ پھینکنے کا مشورہ دیا،دکھی دل کے ساتھ کہہ رہا ہوں کے پارٹی کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوں لہذا میاں نواز شریف سے پوچھوں گا کہ یہ سب کچھ کیسے اور کیوں ہوا حالانکہ سویلین بالا دستی کی جنگ میاں نواز شریف نے ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ لڑی اب سوچ رہا ہوں کہ جن بڑوں نے یہ فیصلہ کیا ان کے خلاف بغاوت کردوں،مگر اب بھی سویلین بالا دستی کی جنگ ختم بھی ہوجائے مگر میں یہ جنگ لڑتا رہوں گا اور ہتھیار نہیں پھینکوں گا،پارلیمنٹ،عوام،جمہوریت اور فوج کیلئے آخری سانس تک لڑتا رہوں گا۔سینئر سیاستدان نے ممکنہ دعویٰ کیا کہ محض پانچ ماہ بعد عمران خان کی حکومت نہیں رہے گی کیونکہ اس حکومت نے عوام کو اتنا مایوس کیا ہے کہ اب ملک میں مارشل لاء کی بھی ضرورت نہیں رہی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت رہی ہے،البتہ عوام کو یہ شعور آچکا ہے کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی کو تسلیم کئے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

دوسری طرف پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے کہ آزادی کے حصول تک کشمیریوں کی پشت پر چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے اور انہیں کسی محاذ پر تنہا نہیں چھوڑیں گے کیونکہ کشمیریوں سے اہل پاکستان کا رشتہ تاریخی،مذہبی اور جغرافیائی بندھن سے بندھا ہوا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت کمزور نہیں کرسکتی کشمیر میں جاری بھارتی فوج کے مظالم کا پردہ چاک کرتے رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پاکستان کی کوششوں سے او آئی سی کے وزراء خارجہ کا اجلاس جلد اسلام آباد میں منعقد کرایا جارہا ہے انہوں نے یورپین یونین کے سفارت کاروں کی طرف سے بھارتی حکومت کی سرپرستی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے سے انکار کو ایک اہم سفارتی اور سیاسی کامیابی قرار دیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ عالمی برادری اب بھارتی چالوں اور منفی حربوں کا شکار ہونے والی نہیں رہی۔ادھر انسداد رشوت ستانی کے محکمہ نے اختیارات کا ناجائز استعمال،کوٹیشن ورک کے نام جعلی اور بوگس بھی تیار کرکے کروڑوں کی ادائیگیاں کرنے،کمشن طے کرکے منظور نظر کمپنیوں کو ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے دے کرکمشن وصول کرنے،سرکاری رقوم خرد برد اور غیر معیاری کاموں کی ادائیگیوں،کمرشل بلڈنگز کے غیر قانونی نقشے پاس کرنے اور اشتہارات کی مد میں کروڑوں روپے گھپلے کرنے کے الزام ہیں۔سابق مئیر ملتان چوہدری نوید الحق سمیت چودہ سرکاری عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے اب انتظار کریں کہ گرفتاریاں کب ہوتی ہیں یا پھر یہ بھی ماضی کے مقدمات کی طرح انسداد رشوت ستانی کے دفاتر کی بھول بھلیوں میں گم ہوجائے گا۔

مزید : ایڈیشن 1