متحدہ کے کنوینر کا وزارت چھوڑنے کا اعلان، بانی کی سیاست کا پرتو!

متحدہ کے کنوینر کا وزارت چھوڑنے کا اعلان، بانی کی سیاست کا پرتو!

  



ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے تہلکہ خیز اعلان کے بعد کراچی کی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی سیاست پر یہ خبر چھاگئی کہ متحدہ کے کنوینر خالد مقبول صدیقی وفاقی وزارت سے مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی پارٹی وفاقی حکومت کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوگی، لیکن ان پر دباؤ ہے اور وہ مزید مرکزی کابینہ کا حصہ نہیں رہ سکتے۔

ایم کیو ایم کے طرز سیاست کو مدنظر رکھا جائے تو ایسے کئی واقعات ان کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں۔ خالد مقبول صدیقی کے بیان کے بعد ایسا لگا کہ بانی ایم کیو ایم سے علیحدگی کے بعد بھی ایم کیو ایم نے ان کے طرز سیاست کو خیرباد نہیں کہا بلکہ نئی بوتل میں پرانی شراب کے مصداق والی بات دکھائی دی۔ یہ بات حیران کن تھی کہ صرف وہ مستعفی ہونے کا اعلان کررہے تھے باقی معاملات جوں کے توں رہیں گے اور دیگر اراکین بھی اپنی پوزیشن پر موجود رہیں گے۔

موجودہ حکومت کے سولہ سترہ ماہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بڑی واضح دکھائی دیتی ہے کہ کراچی کا ووٹر ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے مایوس ہوچکا ہے، انہیں اپنی قسمت کا ستارہ غروب ہی دکھائی دیتا ہے۔ خالد مقبول صدیقی اگر یہ کہتے ہیں کہ ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے تو وہ درست کہہ رہے ہیں۔ ایسا ہی دباؤ تحریک انصاف پر بھی رہا ہے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وفاقی وزراء جن کا تعلق کراچی شہر سے ہے، سب سیاسی طور پر دباؤ میں ہیں۔ایسی صورتحال میں پیپلز پارٹی دونوں جماعتوں کو ناکام کرنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ایسا دکھائی دیتا ہے کہ صوبائی حکومت اور خاص طور پر پیپلز پارٹی کی سیاست جو 18ویں ترمیم کے سائے میں ہورہی ہے، وہ کراچی کے ووٹر کراچی کا سیاسی مینڈیٹ رکھنے والی جماعتوں سے متنفر کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہوگئی ہے۔

ایم کیو ایم کے میئر وسیم اختر نے شروع میں توپوں کا رُخ صوبائی حکومت اور خاص طور پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب کررکھا تھا۔ انہوں نے اختیارات نہ ہونے کا رونا بہت رویا، پھر وسائل نہ ہونے کی بات بڑی دیر تک دہراتے رہے، اب انہوں نے اپنی ہوائی فائرنگ کا رُخ وفاقی حکومت کی جانب کردیا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایم کیو ایم والے اپنی ناکامی یا کراچی کے مسائل کے حل نہ ہونے کاقصوروار کسے سمجھتے ہیں۔ اگر سیاسی بارگیننگ کی بات ہے تو پھر یہ تصور کیا جائے گا کہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزارتوں کی پیشکش کے بعد ایم کیو ایم اپنی مراعات میں اضافہ کیلئے زور لگارہی ہے۔ اگر واقعی وفاقی حکومت کمزور ہوگئی ہے تو کیا تحریک انصاف کی حکومت کا سورج غروب ہوجائے گا۔ آئندہ چھ ماہ تک تو ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ لیکن یہ بھی حقیقت دکھائی دیتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے قریبی رفقاء دن بدن غیر مقبول ہورہے ہیں۔ ایک غیر مقبول جماعت آخر کب تک اپنی حکومت برقرار رکھ سکے گی۔ یہ سوال آئندہ چند مہینوں میں سراٹھائے گا۔

سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی ماہرین ایم کیو ایم کے اس اعلان پر اسی انداز کا تبصرہ کررہے ہیں کہ ایم کیو ایم اپنی ماضی کی روایات کے مطابق ہی ایسا کررہی ہے اور آخر کار یہ پھر اسی تنخواہ پر نہ سہی بلکہ کچھ مراعات کے بعد مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہوجائیں گے۔ایم کیو ایم کراچی کے نام پر اعلان کردہ رقم اور پروجیکٹس کا ذکر تو کررہی ہے، لیکن وہ اس میں کس حد تک سنجیدہ ہے، اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔ کراچی کے مسائل سے اگر چہ ہر کوئی واقف ہے اور وہ کس طرح حل ہونگے، اس کا بھی ادراک سب کو ہے لیکن مسائل کو حل کرنے کا کریڈٹ کس کو ملنا چاہیے، اس پر جھگڑا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت یہ نہیں چاہتی کہ دوسری پارٹی عوام کی نظروں میں مقبول ہوجائے، گذشتہ بیس سالوں کے دوران کراچی میں جو ترقیاتی کام ہوئے ابھی تک عوام کی کثیر تعداد اس کا کریڈٹ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو دیتی ہے۔ سابق میئر نعمت اللہ خان اور سابق میئر مصطفی کمال بھی داد تحسین کے حقدار قرار پاتے ہیں، لیکن اس وقت وسائل مہیا کرنے میں جنرل پرویز مشرف ہی نمایاں تھے۔ اس کے بعد سے شہر کراچی کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔کراچی کے باشعور عوام اپنی مدد آپ کے تحت بہت سے کام کررہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں محض سیاست چمکانے کے لیے دعویٰ کرتی ہیں۔ حقیقت میں کراچی شہر کو 80 فیصد تک پرائیویٹ سیکٹر چلا رہا ہے۔ حکومت ادارے ہر طرح سے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔اگر کوئی سیاسی جماعت یہ دعویٰ کرے کہ اسے کراچی کے عوام کے مسائل حل کرنے میں لچسپی ہے تو اس سے بڑا سفید جھوٹ اور کوئی نہیں۔ اگر یہ لوگ سنجیدہ ہیں تو اہل کر اچی کے مسئلے کو حل کریں اور مل کر کریڈٹ لیں، لیکن اس حوالے سے کوئی ایک صفحہ پر نہیں۔ سب کو اپنے مفادات زیادہ عزیز ہیں، کراچی کے وسائل پرہر کوئی حق جتارہا ہے، اور انہیں زیراستعمال بھی لارہا ہے۔لیکن مسائل کو حل کرنے میں مخلص دکھائی نہیں دیتے۔

اگر پرائیویٹ سیکٹر کو زیادہ منظم کرلیا جائے تو مسائل جلد حل ہونے میں مدد مل سکتی ہے اور کئی پریشر گروپس جو سیاسی بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی دم توڑ جائیں گے۔ شہر کراچی کے عوام کا سیاسی شعور جیسے تیسے بیدار ہورہا ہے، وہ معاملات اپنے انداز سے حل کرتے جارہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں لاتعلق ہوتی جارہی ہیں۔ یہ سیاسی شعور ایک بڑی سیاسی بیداری کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1