مری اور پہاڑوں پر برف باری، گیس نایاب، سیاحوں کو مشکلات کا سامنا! ٹریفک جام

مری اور پہاڑوں پر برف باری، گیس نایاب، سیاحوں کو مشکلات کا سامنا! ٹریفک جام

  



جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں خوب بارش برسنے کے بعد مطلع قدرے صاف ہو گیا ہے،لیکن بارش اور ملکہ کوہسار مری و دیگر پہاڑی علاقوں میں لگاتار برف باری کے باعث موسم بہت سرد ہے۔ برف باری اور سردی کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں، لیکن اس سنگدل سرد موسم میں غریب عوام حتیٰ کہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بجلی اور گیس کی آسمان سے چھوتی قیمتوں کے باعث گیزر اور ہیٹر کے استعمال سے گریزاں نظر آتے ہیں، جبکہ مری اور اس کے گرد و نواح کے بہت سے برفانی علاقوں میں لگاتار سوئی گیس دستیاب بھی نہیں ہوتی اگرچہ صاحب ثروت لوگ مری میں برف باری سے محظوظ ہونے کی خاطر بہت بھاری تعداد میں اس طرف کا رخ کر رہے ہیں۔ پورے ملک سے سیاح یہاں کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے آ رہے ہیں، لیکن ان کو ان علاقوں میں ناکافی سہولتوں کے باعث نقل و حرکت میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ برف باری کے دوران بہت سے سیاح سڑکوں پر پھنس کر رہ گئے ان برفانی علاقوں میں گھنٹوں ٹریفک جام رہی۔ ٹریفک میں پھنسی ان گاڑیوں کا ایندھن تک ختم ہو گیا۔ مری میں ہر سال اس موسم میں یہی صورت حال رہتی ہے۔ اگرچہ راولپنڈی اور مری کی انتظامیہ اس ضمن میں انتظامات کرتی ہے، لیکن یہ ناکافی ہوتے ہیں،جبکہ مری کے مقامی لوگ سرد موسم اور مہنگے ایندھن کے باعث مشکلات کا شکار رہتے ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ اس کا بدلہ مری آنے والے سیاحوں سے چکاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملک میں سیاحت کے فروغ کی خواہاں ہے، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاحوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے جاتے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں بادل چھٹ گئے ہیں اور مطلع صاف ہونے لگا ہے لیکن یہاں سیاسی مطلع صاف نہیں، بلکہ یہ خال خال ہی صاف ہوتا ہے۔ اگرچہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کو مقتدر قوتوں کی جانب سے ریلیف ملنے کے بعد اپوزیشن کی سیاست میں شور تو موجود ہے، لیکن زور کم پڑ گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانون سازی میں اپوزیشن کے تعاون سے گرما گرمی کی فضا میں قدرے کمی آئی ہے۔ اگرچہ اپوزیشن کی ان دونوں بڑی جماعتوں کے پیروکار اپنی قیادت سے کسی حد تک بد دل بھی دکھائی دے رہے ہیں،بلکہ بہت سے حلقے ہلکی پھلکی تنقید بھی کر رہے ہیں، لیکن مجموعی طور پر سیاسی درجہ حرارت میں کچھ کمی ضرور واقع ہوئی ہے، لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ اپوزیشن کی سیاست ماند پڑی تو ساتھ ہی حکومت کے اپنے اتحادی ہی اس کے لئے خطرات بننے لگے ہیں۔ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے کچھ سُکھ کا سانس ملا تو ساتھ ہی اس کے اتحادی اسے آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔ دارالحکومت میں شائد سیاسی لحاظ سے سکون بحال ہے! لیکن اگر اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی کی طرح اشتعال انگیزی کا شکار ہوئیں تو حکومت کے اتحادیوں کا حالیہ رویہ انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا تھا۔ قریں قیاس یہی ہے کہ اگر حکومت کے اتحادی اپنی قیمت میں اضافے کے لئے یہی حربہ آزماتے تو شاید انہیں منہ مانگی قیمت مل جاتی،لیکن موجودہ صورتِ حال میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ایک طرف ایم کیو ایم ”ہمیں مناؤ“ کے اچھے روایتی فارمولے کے تحت حکومت سے ناراض ہو گئی ہے۔ ایم کیو ایم کے وزیر نے استعفے دیا ہے۔ خالد مقبول صدیقی اپنے استعفیٰ پر قائم نظر آتے ہیں۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ حکومت کا ایم کیو ایم کو منانے کا مشن کامیاب نہیں ہوا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی ملاقات بھی شاید بار آور ثابت نہیں ہوئی،لیکن ایم کیو ایم نے واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ وہ ساتھ نہیں چھوڑے گی،اس کا مطلب یہی اُخذ کیا جا سکتا ہے کہ ”ہمیں مزید منایا جائے“،جبکہ جی ڈی اے بھی حکومت سے خاصی دیر سے ناراض ہے۔بلوچ رہنما اختر مینگل بھی حکومت سے خوش نہیں ہیں اور وہ خاصی دیر سے مختلف تقاریب میں حکومت سے گلے شکوے کرتے نظر آ رہے ہیں،لیکن ان کی شنوائی نہیں ہو رہی تھی۔ حتیٰ کہ پی ٹی آئی کی اہم ترین سٹرٹیجک پارٹنر مسلم لیگ(ق) بھی اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کا موقع گنوانا نہیں چاہتی۔ مسلم لیگ(ق) کے قائد چودھری شجاعت حسین بھی اپنے میٹھے اور دھیمے لہجے میں شکوے شکایت کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ(ق) کے طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بڑے صوبے کو اسلام آباد سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلانے کی کوشش ہو رہی ہے، جو ممکن نہیں ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام حکومتی اتحادی جماعتیں یکلخت ناراض نظر آ رہی ہیں۔اب یہ حکومت پر منحصر ہے کہ اپنے اتحادیوں کو کیسے مناتی ہے،لیکن اگر پہلے ہی والی اپوزیشن پارلیمینٹ میں ہوتی تو عین ممکن تھا کہ کوئی پانسہ ہی پلٹ جاتا یا پھر کم از کم ناراض اتحادیوں کو منہ مانگے دام مل جاتے،لیکن اب ایسا مشکل دکھائی دیتا ہے۔تاہم دارالحکومت کے بعض سیاسی حلقے پیشگوئی کر رہے ہیں کہ آنے والا وقت حکومت کے لئے کڑا ثابت ہو گا۔اگر حکومت موثر طرزِ حکمرانی کے ذریعے عوام کو ریلیف نہ دے سکی تو اپوزیشن جماعتیں اور ناراض حکومتی اتحادی مل کر ملک میں ایک نئی سیاسی بساط بچھا سکتے ہیں۔ اس کے لئے مارچ اور اپریل کے مہینے اہم ہو سکتے ہیں۔درحقیقت حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ اپنے اتحادیوں اور اپنے اتحادیوں سے زیادہ اپنے اندر سے خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔

دارالحکومت میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرزِ حکمرانی کے باعث اسے اپوزیشن سے زیادہ اپنے اندر سے خطرات کا سامنا ہے،جس کی وجہ سے دارالحکومت کے بعض حلقوں میں کبھی اِن ہاؤس تبدیلی اور کبھی قبل از وقت انتخابات کی باتیں بھی سنائی دیتی ہیں، جس کے اگرچہ امکانات کم ہیں، لیکن ملک میں جاری سیاسی اور معاشی بے یقینی ایسے امکانات کو ہوا دیتی رہتی ہے، ملک میں مہنگائی عروج پر ہے اپنی تاریخ کی بلند ترین جگہ پر ہے۔ عوام بھاری یوٹیلٹی بلوں اور مہنگائی سے مسلسل پس رہے ہیں۔ملکی معیشت کا پہیہ سست روی کا شکار نظر آتا ہے۔ اگرچہ حکومت معیشت کی بہتری کے حوالے سے بعض مثبت اعداد و شمار پیش کر رہی ہے،لیکن کیا یہ اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ اب حکومتی کھاتوں تک ہی محدود رہے گا یا اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے۔یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔اگرچہ لاہور ہائی کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کی سزا ختم کر کے حکومت کو ایک امتحان سے بری کر دیا ہے، لیکن کیا حکومت اب عوام کو ریلیف دینے میں یکسو ہو جائے گی، آنے والا وقت ہی بتائے گا، جبکہ خطے میں ایران اور امریکہ کے مابین آویزش کے حوالے سے پاکستان کا کردار دارالحکومت کے حلقوں میں زیر بحث ہے۔بعض سفارتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بحران میں جو کردار نبھانے کی کوشش کی ہے وہ حقیقت پسندی پر مبنی نہیں ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے سعودی عرب اور پھر امریکہ کے معاملہ پر ایران کے دورے کرتے رہے،لیکن نتیجہ یہ ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ بھارت کے دورے کر رہے ہیں۔ پاکستان کو چاہئے کہ اپنے داخلی سیاسی و معاشی استحکام پر توجہ دے اور خارجہ محاذ پر ان امور کی طرف توجہ کرے جن سے پاکستان کو معاشی ثمرات حاصل ہوں۔

مزید : ایڈیشن 1