لاہور ہائیکورٹ کا نیا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کا نیا فیصلہ

  



لاہور ہائیکورٹ نے پیر کے روز سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل، سپیشل کورٹ ایکٹ میں ترامیم، کسی قانون کے ماضی سے اطلاق اور ملزم کی غیر حاضری میں ٹرائل کو غیر قانونی قرار دے کر خصوصی عدالت کی تشکیل کو کالعدم قرار دے دیا۔ خصوصی عدالت کی جانب سے سزائے موت کے فیصلے کو پرویز مشرف نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، جسٹس مظاہر نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے ان کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق خصوصی عدالت بنانے اور استغاثہ دائر کرتے وقت قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ سماعت کے دوران جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ ایمرجنسی تو آئین میں شامل ہے، اگر آمر کی بجائے موجودہ حکومت ایمرجنسی لگائے تو کیا اس پر بھی غداری کا مقدمہ چلے گا؟ کہا گیا غیر آئینی اقدام کا معاملہ جب عدالت میں آئے گا تو اس کا فیصلہ تو عدالت نے کرنا ہے۔ ایمرجنسی حالات میں آئین کی معطلی تو لائف سیونگ ڈرگ ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کسی بھی شخص کے خلاف اس عدم موجودگی میں ٹرائل غیر اسلامی، غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔ کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر کی گئی، نواز شریف نے بطور وزیراعظم اس کا حکم دیا۔ اٹارنی جنرل کے دلائل سن کر عدالت کا کہنا تھا کہ اْن کے اور ملزم کے وکیل کے دلائل ایک ہی ہیں۔

خصوصی عدالت کے اس فیصلے میں دو بنیادی نکات پر بحث کی گئی۔ پہلا یہ کہ کیا پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق تھا؟ دوسرا یہ کہ ایمرجنسی لگانے کی ذمہ داری مکمل طور پر اُن کی ہے یا ان کے ساتھ دیگر حکومتی ذمہ داران بھی اس جرم میں شامل تھے اور کیا اس معاملے میں مقدمہ قائم کرتے ہوئے اور عدالتی کاروائی کے دوران قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟

جنرل (ر) پرویز مشرف پاکستان کے واحد آمر ہیں جنہوں نے دو مرتبہ آئین توڑا۔ 12 اکتوبر کے اقدام پر تو پارلیمنٹ نے مہر لگادی تھی لیکن دوسری مرتبہ وہ اتنے خوش قسمت ثابت نہیں ہوئے۔ 3 نومبر 2007ء کو ایمرجنسی لگائی گئی تو اس کا بنیادی نشانہ عدلیہ تھی پاکستانی قوم، عدلیہ، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے ارکان اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک طویل تحریک چلی، عام انتخابات کے بعد بننے والی حکومت نے چیف جسٹس افتخار چودھری اور ان کے ساتھی ججوں کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا،پرویز مشرف کو اقتدار کے ایوانوں سے رخصت کردیا گیا۔ 31 جولائی 2009ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی کو غیر قانونی اور آئین شکنی قرار دے دیا۔ 2013ء میں نواز شریف اقتدار میں آئے تو سول حکومت نے مشرف کا تعاقب شروع کردیا۔ نومبر 2013ء میں پرویز مشرف پر 2007ء میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر مقدمہ درج کرادیا گیا۔ سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کے لیے 5ججوں کا انتخاب کیا۔ مقدمہ شروع ہونے لگا تو پرویز مشرف نے 31 جولائی 2007ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کردی۔ اسے سپریم کورٹ کے 14رکنی بنچ نے چیف جسٹس تصدق جیلانی کی زیر سربراہی سنا اور رد کردیا۔ مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا کہ ماضی میں بھی اس طرح کے غیر آئینی اقدامات اٹھائے گئے لیکن عدالتوں نے نظریہ ضرورت کے تحت ان کی اجازت دے دی۔ تاہم عدالت نے ان کا مؤقف تسلیم نہ کیا اور مشرف کی 2007ء کی ایمرجنسی کو حتمی طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا۔ 2007ء کی ایمرجنسی کو سپریم کورٹ غیر قانونی قرار دے چکی، اس معاملے میں مشرف کی نظر ثانی کی درخواست رد ہوچکی اور اب سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ کیا مخصوص حالات میں ایمرجنسی نہیں لگائی جاسکتی؟

دوسری جانب سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست رد ہوجانے کے بعد پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ چلتا رہا۔ فروری 2014ء میں پرویز مشرف 22 سماعتوں پر عدم پیشی کے بعد خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ 30 مارچ 2014ء کو ان پر فرد جرم عائد کردی گئی۔ اس کے بعد وہ بیمار ہوگئے اور علاج کے لیے باہر جانے کی طویل جدوجہد شروع ہوئی۔ بالآخر 18 مارچ 2016ء کو انہیں علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت ملی، انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ واپس آکر مقدمے کا سامنا کریں گے۔ متعدد نوٹسز کے بعد بھی وہ پیش نہ ہوئے تو مئی 2016ء میں خصوصی عدالت نے انہیں مفرور قرار دے دیا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کی سماعت سے معذرت کے بعد اپریل 2018ء میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے تشکیل نو کر دی کیس چلتا رہا، مشرف عدالت کے سامنے پیش نہ ہوئے۔ تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اس مقدمے میں حکومت کی دلچسپی ختم ہوگئی بلکہ یہی نہیں، اس مقدمے کو مزید طول دینے کی کوششیں بھی شروع کردی گئیں۔ اکتوبر 2019ء میں تحریک انصاف کی حکومت نے ن لیگ کی جانب سے مقرر کردہ پوری پراسیکیوشن ٹیم برطرف کردی۔ بالآخر 17 دسمبر 2019ء کو اس مقدمے کا فیصلہ سنادیا گیا۔ اس تفصیل کے بعد یہ کہنا تعجب کی بات ہے کہ مقدمہ ملزم کی غیر موجودگی میں چلایا گیا لہٰذا انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے ملزم پرویز مشرف کو عدالتوں کی جانب سے بار بار موقع فراہم کیا گیا لیکن انہوں نے عدالت میں مقدمہ لڑنے میں خاص دلچسپی ظاہر نہ کی۔ ان کے وکلاء نے دلائل دینے کی بجائے تاخیری حربے اپنائے۔ مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ 6 برس گزرنے، کئی درجن پیشیوں اور فیصلہ آنے کے بعد اس خصوصی عدالت کا قیام ہی غیر قانونی قرار پایا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ واقعی غیر قانونی تھی تو اتنے برس ہمارے نظام میں کسی کی توجہ اس بات کی طرف نہ گئی؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کردہ عدالت کو ہائیکورٹ غیر قانونی قرار دے سکتی ہے؟

ان تمام سوالات کا جواب سپریم کورٹ ہی سے مل سکتا ہے لیکن دلچسپ بات ہے کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ لے کر کون جائے گا؟ ہائیکورٹ کی کارروائی سے یہ تو واضح ہے کہ اس معاملے میں حکومت اور پرویز مشرف کا مؤقف ایک ہوگیا ہے۔ لہٰذا جب مدعی ہی کو مقدمے میں دلچسپی نہیں تو اعلیٰ عدلیہ کے پاس فریاد کون لے کر جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں اس مقدمے کا آغاز کیا گیا تھا، اگر ن لیگ کو پرویز مشرف کے کے مستقبل سے دلچسپی ہوتی تو وہ ہائیکورٹ میں ہی فریق بننے کی درخواست دے دیتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ قوی امکان ہے مسلم لیگ (ن) اب اس معاملے میں کسی عدالت کا رْخ نہیں کرے گی۔ پرویز مشرف غداری کیس جس طرح ہماری عدالتوں میں چلا اور جو فیصلے کیے گئے ان سے کئی نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ کم از کم مستقبل قریب میں تو ان سوالات کے جوابات ملنے کی توقع نہیں۔لیکن یہ جوابات بہرحال ملنا چاہئیں، وکلا تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اداروں کو اس حوالے سے اپنا کردار اداکرنا ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...