نیب قوانین میں ترمیم کس کے مفاد میں؟

نیب قوانین میں ترمیم کس کے مفاد میں؟
نیب قوانین میں ترمیم کس کے مفاد میں؟

  



ملکی اور حکومتی قوانین اور آئین میں وقتاً فوقتاً بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ترمیم و اضافہ ہوتا رہتا ہے،مگر ان تبدیلیوں کا مفاد عامہ سے مشروط ہونا ضروری ہے۔ کسی بھی قانون میں تبدیلی بڑے عمیق غور وفکر کی متقاضی ہوتی ہے،بصورت دیگر اس سے کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔اس کی حالیہ مثال آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہے،جہاں وزارتی اور حکومتی سطح پر قوانین کا جامع احاطہ نہیں کیا گیا اور طرح طرح کی افواہوں اور پیچیدگیوں نے جنم لیا، تاہم بعد ازاں اسے خوش اسلوبی سے طے کیا گیا، جس پر اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت سے اتفاق کیا، جس پر انہیں سراہا گیا۔ اب نیب کے اختیارات اور قوانین میں تبدیلی کی جارہی ہے، جس پر اپوزیشن اور حکومت کے مابین مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ حکومت اپوزیشن کے مطالبے پر نیب سے متعلق پہلا ترمیمی آرڈیننس واپس لینے پر تیار ہوگئی اور یہ بھی طے پا چکا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سینیٹ میں متعارف کردہ بل اور مسلم لیگ(ن) دور کے مسودے پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

یہ ایک خوش آئند پیشرفت ہے کہ حکومت اہم ملکی قوانین پر اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کررہی ہے،اسی طرح دیگر ملکی امور میں بھی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے ہم 2 اکتوبر 2019ء اور اس کے علاوہ بھی متعدد بار انہی کالموں میں حکومت سے یہ گزارش کرتے آئے ہیں کہ قومی امور میں حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے، جو ملکی مفاد میں ہے، کیونکہ اپوزیشن بھی منتخب ہوکر ایوان میں آئی ہے، وہ بھی ملکی و قومی امور میں اتنی ہی مخلص ہے، جتنی کہ حکومت! آج کی اپوزیشن کل ایوان اقتدار میں بھی ہوسکتی ہے اور آج کی حکومت اپوزیشن کی نشستوں پربھی نظر آسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے معرض وجود میں آنے کے بعد ”چورڈاکو،چورڈاکو“ کا بے ہنگم راگ الاپنے اور یہ ڈگڈگی بجانے میں جو وقت کا ضیاع کیا،اس کے نتیجے میں سٹاک مارکیٹ بھی بُری طرح متاثر ہوئی اور ڈالر بھی بلندی کی طرف پرواز کرتا رہا،جس سے پی ٹی آئی کا ووٹ بینک بھی روبہ زوال ہوا۔

اپوزیشن کے خلاف جو مقدمات قائم کئے گئے، ان پر خطیر رقوم خرچ ہوئیں،جس کے باعث مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا، اب حکومت نے اپوزیشن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ مل کر جو قدم اٹھائے ہیں،وہ درست سمت میں صحیح قدم ہیں،جو مفاد عامہ کی بہتری کا باعث بنیں گے۔یہ الگ بات کہ حکومتی اور اپوزیشن اراکین نیب زدہ بھی ہیں اور وہ اگر متحد بھی ہوئے تو اپنے مفاد میں …… خدارا! عوامی مفاد کو بھی نہ صرف پیش نظر رکھیں،بلکہ اسے ترجیح دیں۔ نیب کے ترمیمی بل کے حوالے سے حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل اپنے ایک اہم اجلاس میں یہ کہہ چکی ہے کہ نیب قوانین میں کئی ایسے سقم موجودہیں، جنہیں دین اسلام کے قانون جرم و سزا سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیب آرڈیننس کا جائزہ لینے کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کی بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ پر غور کیا گیا اور نیب آرڈیننس کی دفعات 14-d,15aاور 26 کو شریعت سے متصادم قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں بے گناہ کو ملزم ثابت کرنا، ہتھکڑی لگانا، الزام عائد کر کے میڈیا میں پر تشہیر کرنا، بغیر مقدمے کے طویل عرصے تک حراست میں رکھنا، سوشل میڈیاپر توہین آمیز مواد اَپ لوڈ کرنا مناسب نہیں

مذہب کی جبری تبدیلی کو بھی خلاف اسلام قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیب قانون ایک ہی ملک کے شہریوں میں سنگین قسم کے امتیاز پر مبنی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلوں سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو نیب اس وقت حرکت میں آتا ہے، جب اربوں اور کروڑوں کی کرپشن کے شواہد جمع ہو جاتے ہیں، حالانکہ مالی معاملات کے غلط استعمال کا سد ِباب ابتدا سے ہی ضروری ہے۔ وطن ِ عزیز میں نیب کے علاوہ بھی کرپشن کے سد ِ باب اور لوٹی ہوئی رقوم کی واپسی کے لئے دیگر ادارے بھی موجود ہیں، جن میں ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور پولیس خاص طور پر قابل ِ ذکر ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق نیب سمیت سال گزشتہ میں ان اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سامنے آتا ہے کہ ایف آئی اے پانچ فیصد، اینٹی کرپشن دو فیصد، پولیس دوفیصد،جبکہ نیب کی کارکردگی78فیصد رہی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا نیب قوانین میں ترامیم کے بعد اس کی کارکردگی پر تو اثر نہیں پڑے گا، کہیں ایسا نہ ہوکہ اس کی کارکردگی بھی دیگر انسداد کرپشن کے اداروں کی نچلی سطح تک نہ آجائے۔ حالیہ ترامیم کے مطابق نیب، جس کو پہلے یہ اختیار تھا کہ وہ دس کروڑ روپے کی کرپشن پر کارروائی کرنے کی مجاز تھی،اسے بڑھا کر پچاس کروڑ تک کیا جارہا ہے۔ بیورو کریٹس کے خلاف نیب اس وقت تک کارروائی نہیں کرسکتی، جب تک ان پرکرپشن ثابت نہ ہوجائے۔ نیب تاجروں کے خلاف کارروائی نہیں کرسکے گا۔ تاجروں اور منی لانڈرنگ کے کیسز فیڈرل بورڈ آف ریونیو دیکھے گا، جبکہ ڈیوٹی اور کسٹم کے معاملات کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاجروں کو توشکوہ ہی ایف بی آر سے ہے، جس کا مظاہرہ گزشتہ دِنوں خریدار کے شناختی کارڈ اور ٹیکس کے حوالے سے تاجروں کی طرف سے دیکھنے میں آیا تھا،انہوں نے اس سلسلے میں ہڑتالیں بھی کی تھیں،جبکہ نیب صرف سیاست دانوں اور بڑے بڑے لوگوں کی کرپشن کو دیکھے گا۔

جہاں تک ٹیکس کی وصولی کا معاملہ ہے تو عام آدمی تو یوٹیلٹی بل سے لے کر روزمرہ کی اشیائے ضرورت کی خریداری پر بھی ٹیکس ادا کررہا ہے۔یہ بڑے لوگ ہی ہوتے ہیں، جو محکمے کے ملازمین سے سازباز کرکے ٹیکس میں ہیرا پھیری کرتے ہیں۔ یہ بجا ہے کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ٹیکس اہداف میں اضافہ ضروری ہے، مگر یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے لئے ایسے اقدامات کئے جائیں، جن سے ایک طرف ٹیکس چوری کا سد ِ باب ممکن ہو، دوسرے عام آدمی اس سے متاثر نہ ہو کہ ایک طرف اسے مہنگائی کی عفریت کا سامنا ہے تو دوسری طرف ہر چیز پر ٹیکس نے اسے پریشان کر رکھا ہے۔ عام آدمی کو ٹیکس سے ریلیف دینے کے لئے حکومت کو اپنی آمدنی کے دیگر ذرائع پیدا کرنے چاہئیں۔ جہاں تک نیب کے اختیارات میں ترامیم کا تعلق ہے تو اس پر بھی حکومت کو چاہئے کہ وہ پوری طرح عرق ریزی سے کام لے کر ترامیم کرے، ایسا نہ ہو کہ بعد میں ان ترامیم میں بھی ترمیم کرنے کی ضرورت پڑ جائے۔

مزید : رائے /کالم


loading...