لارڈ میکالے1857ء سے 2020ء تک پاکستا ن کی تعلیمی پالیسی

لارڈ میکالے1857ء سے 2020ء تک پاکستا ن کی تعلیمی پالیسی

  



دُنیا بھر کے تمام مذاہب کی بنیاد انسانیت کے درس سے شروع ہوتی ہے اور سینکڑوں ادارے انسانیت کی بھلائی کے لئے اپنی اپنی بساط کے مطابق کرداراداکررہے ہیں،اسی طرح ان تمام اداروں کو تمام ممالک میں ٹیکس اور دیگر حکومتی چارجز سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، اگر ہم بات کر یں ان اداروں کی تو ان میں مختلف قسم کے ادارے آپ کو ملیں گے، کچھ بھوک اور افلاس کو مٹانے کے لئے کوشاں ہیں،چندنے نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ سینکڑوں اقسام کے تعلیمی ادارے، سرکاری،غیر سرکاری، انگلش میڈیم، اردو میڈیم، مشنری سکولز، کالج، کمیونٹی سکولز اور کالجز، دینی مدارس، کیڈٹ سکولز اور کالجز موجود ہیں۔ جب ہم نظام تعلیم کے موجودہ ڈھانچے کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ بات واضح طور پر موجود ہونی چاہئے کہ یہ ڈھانچہ استعماری دور حکومت میں لارڈ میکالے کی تیار کردہ تعلیمی پالیسی کی بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا۔ اس کے بنیادی مقاصد یہ تھے کہ انتظامی مشینری کے لئے کلرکوں سے لے کر آئی سی ایس (موجودہ سی ایس ایس) افسروں تک تاج برطانیہ کے وفادار اور سستے ملازمین کی کھیپ تیار کرنا، مغربی تہذیب اور افکار و نظریات کا غلبہ بپا کرنا، معاشرتی زندگی کا مربوط ڈھانچہ توڑ کر اس کی متحدہ قوت کو پارہ پارہ کرنا۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے تعلیمی نظام کا پورا ڈھانچہ تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دینی مدارس مخصوص حالات میں ایک خاص مقصد کے لئے معرض وجود میں آئے۔ اسے سمجھنے کے لئے تاریخی پس منظر کو جاننا بہت ضروری ہے۔ برصغیر کی تاریخ کا یہ افسوسناک باب ہے کہ 1857ء کے انقلاب کی ناکامی کے بعد جب انگریزوں کا تسلط قائم ہو گیا تو علماء کی ایک بڑی تعداد کو حکومت وقت نے قتل کر دیا، بعض کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور جو بچ گئے، انہیں گرفتار کر کے کالا پانی مالٹا اور جزیرہ انڈیمان بھیج دیا گیا۔ دہلی اور آس پاس کے معزز خاندان تباہ ہو گئے۔

اگر بات کی جائے موجودہ صورتِ حال کی اور ضروریات زندگی کا جائزہ لیا جائے توان میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل تعلیم ہے اور دُنیا بھر کی طرح وطن عزیز میں بھی تعلیم ایک بہترین کاروبار ہے، جبکہ اس شعبے میں بھی بہت سے ادارے اپنا کردار اداکررہے ہیں،بچوں کی مفت تعلیم کے لئے مخیر حضرات سے معاشی قوت اکٹھی کرکے غریب اور نادار بچوں کا مستقبل روشن کرنے کے لئے اپنے حصے کا دیا جلا رہے ہیں۔ یہاں آپ کی توجہ ایک ایسے ادارے کی جانب مبذول کروانا ضروری سمجھتا ہوں کہ دُنیا بھر کی طرح ملک پاکستان میں مسیحی اقلیت سے تعلق رکھنے والے مشنری ادارے، جن کی بنیاد بھی مخیر حضرات کی جانب سے رکھی گئی اور ان کے سربراہان بھی ایسے لوگوں کو مقررکیاگیا، جن کا دنیاداری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،ان اداروں کے قیام کا مقصد محض غریب مسیحی بچوں کے لئے بہتر اور مفت تعلیم فراہم کرنا تھا، لیکن یہاں ایک بات افسوس کے ساتھ آپ کے گوش گزار کرتا چلوں تاکہ میری تحریر کی وجہ قارئین کو باآسانی سمجھ میں آ سکے……چند سال قبل میری ملاقات ایک خوددارمسیحی بھائی سے ہوئی،جو راولپنڈی کا کرایہ دار رہائشی ہے اور پیشے کے اعتبار سے ٹیکسی ڈرائیورہے،اس کا نام یہاں لکھنا ضروری سمجھتا ہوں تو جناب لوگ اسے آصف برنارڈ کے نام سے جانتے ہیں۔ سوشل میڈ یا پر انہوں نے ایک فیس بک پیج بنارکھا ہے، جو کہ پیرنٹس ویلفیئر ایجوکیشن سوسائٹی کے نام سے ہے، اس سماجی رابطے کے صفحہ کو دیکھنے کے بعد جب مَیں نے آصف برنارڈ سے رابطہ کیا اور اس پرکی گئی پوسٹوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ملنے کی خواہش کی تو وہ جلد راضی ہو گیا اور اگلے ہی روز ملنے کا وعدہ کیا۔ اس شخص سے ملاقات ہوئی تو مَیں نے اپنے صحافتی انداز میں سوال کیا کہ آپ اتنی سخت باتیں اپنے مذہبی رہنماؤں کے بارے میں کیوں لکھتے ہیں، تو اس شخص نے بارعب انداز میں کہا کہ سزااور جزا قدرت کے ہاتھ میں ہے، مَیں اپنے بچوں کے لئے رزق کمانے کے لئے محنت کرتا ہوں اور کسی مذہبی رہنما کے عیبوں پرپردہ ڈالنا گناہ کبیرہ سمجھتاہوں۔

جب مَیں نے بڑھتے ہوئے تجسس کے ساتھ مشنری سکولوں کے بارے میں سوال کیا تواس نے جواب دیا کہ ہمارے آباؤ اجدادنے ان اداروں کی بنیاد غریب عوام کی فلاح وبہبود کی خاطر رکھی اور دُنیا سے لاتعلق مذہبی رہنماؤں کو سربراہ مقررکیا تاکہ غریب بچے بھی علم کے نور سے اپنے مستقبل کو روشن کرسکیں، لیکن پچھلے کئی سال سے گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ مشنری سکولوں میں غریب مسیحی کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔ جب وہ فیس لے کر نہیں جاتا تو اسے کلاس میں کھڑاکرکے غریب اور بے بس ہونے کا احساس دلایا جاتاہے، اگر پھر بھی بچہ فیس جمع نہ کرواسکے تو اسے کلاس روم سے نکال دیا جاتا ہے، یہی نہیں اگر بچے کے ماں باپ جاکر التجا کریں تو بد تمیزی کی جاتی ہے۔ بعدازاں آخری حربہ استعمال کرتے ہوئے بچے کوسالانہ امتحانات میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جاتی،جس سے بچے احساس کمتری کا شکار ہو کر بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں، جب اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے آصف برنارڈ کی آنکھیں نم ہوئیں تو مَیں نے دلاسہ دینے کی کوشش کی، لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی، کپکپاتی آوازمیں اس نے کہا کہ علم کے حصول سے محروم ہونے کی وجہ سے میری قوم کے بچوں کے ہاتھ میں صرف جھاڑودیا جاناہے، مَیں نے اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کی غرض سے پوچھا کہ بتائیں مَیں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو اس نے دوبارہ مضبوط آواز میں جواب دیا کہ اگر آپ میری مددکرنا چاہئے

ہیں تو اس طرح کے بے حس اداروں کی انتظامیہ کے خلاف میری آواز بلند کریں، کیونکہ جہاں پر بھی مذہب کے نام پر لوٹ مار کی جائے گی، مَیں اس کے خلاف ہر محاذ پر آپ کو اگلی صفوں میں ملوں گا۔بات یہاں پر ختم نہیں ہو جاتی، نہ جانے کتنے آصف برنارڈ اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والے خیراتی اداروں کی جانب سے ظلم کا دُکھ لئے زندگی بسر کررہے ہیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ انصاف کے نعرے پر قائم ہونے والی تحریک انصاف کی یہ حکومت ایسے تعلیمی ادارے جو کہ خود کو فلاحی ادارے ظاہر کرکے لاکھوں روپے ٹیکس کی مدمیں بچا رہے ہیں، ان کی جانب بھی احتساب کی چھلنی کو چلاکر نیک عمل شروع کیا جائے تاکہ غریب اور نادارلوگوں کے نام پر عوام اور حکومت کو چونا لگانے والوں کی دوکانداری بند کی جائے اور آصف برنارڈ جیسے لوگوں کی دادرسی ہو سکے۔

مزید : رائے /کالم


loading...