زندگی کی کیا قیمت ہے

زندگی کی کیا قیمت ہے

  



افریقہ کے کسی علاقے میں ایک جوہری رہتا تھا۔ اُس کے پاس بہت نایاب اور قیمتی پتھر تھے۔ ایک دن اُس کے بیٹے نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا، میرے دوست کہتے ہیں کہ زندگی بہت قیمتی ہے،یہ دوبارہ نہیں ملتی۔آپ کے خیال میں زندگی کی کیا قیمت ہے؟اس چھوٹے بچے کے چہرے پر زندگی کے بارے میں کھوج واضح نظر آ رہی تھی، موت کیا ہے؟روح کیا ہے؟ زندگی کیا ہے؟یہ ایسے سوال ہیں، جن کے بارے میں جستجو انسانی فطرت کا حصہ ہے:

کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں

کہاں جاتا ہے،آتا ہے کہاں سے

لیکن اُس صراف نے جو اپنے بیٹے کو سمجھانے کا طریقہ اختیار کیا، وہ اتنا مؤثر ہے کہ مَیں اس سے متاثر ہوئے بغیر رہ نہ سکا۔باپ نے اُسے جواب میں بہت ہی خوبصورت اور اعلیٰ قسم کا ایک پتھر دیا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ بازار میں جاؤ۔ اُس کو بیچتے وقت اگر کوئی قیمت پوچھے تو منہ سے کچھ نہ بولنا اور صرف دو انگلیاں اوپر کر دینا۔بچہ بازار گیا اور کسی ایک جگہ پر پتھر اپنے سامنے رکھ کر بیٹھ گیا۔کئی لوگ آتے اور اُس پتھر کو دیکھ کر آگے چلے جاتے۔اسی طرح ایک بوڑھی عورت نے وہ پتھر دیکھا تو اُس کو بہت ہی پسند آیا۔اُس نے لڑکے سے اس کی قیمت پوچھی تو بچے نے اپنی دو انگلیاں اوپر کر دیں۔بوڑھی عورت نے کہا کہ دو ڈالر! مَیں اُس کو ضرور لوں گی۔ اُس نے پتھر لیا اور دو ڈالر اُس بچے کو دے دیئے۔بچہ بہت ہی خوش ہوا اور دوڑتا ہوا اپنے باپ کے پاس گیا اور بتایا کہ وہ پتھر بیچ آیا ہے۔ دوسرے دن پھر اُس کے باپ نے اُسی طرح کا ایک اور پتھر دیا اور کہا کہ بیٹا اب اس کو (Museum)میں لے جاؤ اور وہاں جا کر فروخت کرو۔

وہ بچہ پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ (Museum)گیا اور اُس کے دروازے پر بیٹھ گیا۔کچھ دیر کے بعد ایک شخص آیا اور اُس کو وہ پتھر بہت نایاب لگا، اُس نے بچے سے قیمت پوچھی تو بچے نے اپنا ہاتھ اوپر کیا اور دو انگلیاں دکھائیں۔ اُس شخص نے کہا کہ دو سو ڈالر،مَیں اس کو ضرور خریدوں گا۔اُس شخص نے بچے کو دو سو ڈالر دئیے اور بچہ بہت خوشی سے دوڑتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا اور اُس کو ساری بات بتائی۔تیسرے دن پھر اُس نے بچے کو ایک پتھر دیا اور ساتھ کہا کہ اس بار اس علاقے میں جاؤ جو سب سے بڑی پتھروں کی دکان ہے۔ وہاں جاکر اس کو بیچ کر آؤ۔اس بار جب بچہ اُس خاص پتھروں والی دکان کے باہر بیٹھ گیا تو جو شخص اس دکان پر آتا تو وہ اُس بچے کے پتھر کو بھی دیکھتا۔ اسی طرح ایک شخص کے دِل کو پتھر بہت اچھا لگا اور اس نے سوچا کہ وہ ہر حال میں اس پتھر کو خریدے گا۔پہلے کی طرح اُس بچے سے جب قیمت پوچھی تو اُس نے دو انگلیاں اوپر کر دیں، پھراُس شخص نے کہا کہ دو ہزار ڈالر،مَیں اس پتھر کو ضرور خرید وں گا۔ اُس نے دو ہزار ڈالر بچے کو دیئے اور بچہ بہت ہی خوش و خرم اپنے والد کے پاس آیا اور سب کچھ اُس نے اپنے باپ کو بتایا۔اُس کے باپ نے کہا کہ بیٹے اب کچھ سمجھے ہو کہ زندگی کی قیمت کیا ہے……!

زندگی کی قیمت ہی یہی ہے کہ تم اپنے آپ کو کس جگہ پر رکھتے ہو،تم کس سوسائٹی،کس طرح کے لوگوں میں اُٹھتے بیٹھتے ہو۔تم کس طرح کے کام کر کے بڑے ہوتے ہو۔بس بیٹا!اس چیز نے تمہاری زندگی کی ویلیو بنانی ہے اور یہ ثابت کرنا ہے کہ تم کتنے قیمتی انسان ہو……!شیخ سعدیؒ ایک ماہر نفسیات کی طرح چھوٹے چھوٹے جملوں میں بہت بڑے بڑے معانی کہہ جاتے ہیں۔آپؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے ایک مہربان دوست نے میرے ہاتھ پر ایک خوشبودار مٹی رکھ دی۔مَیں نے جب اُس مٹی کو سونگھا تو اُس میں سے مشک اور عنبر کی طرح خوشبو آ رہی تھی،مَیں نے اُس مٹی سے پوچھا کہ اے ناچیز مٹی!تجھ میں یہ خوشبو کیسی……؟ مٹی آگے سے کہنے لگی تجھے نہیں پتہ مَیں برسوں پھولوں کے ساتھ رہی ہوں ……! یہ ایک چھوٹی سی بات انسان کی ساری زندگی کا نچوڑ بیان کر رہی ہے……!! کوئی بھی انسان ہو یا آج آپ جہاں بھی ہوں، آپ ان تین چیزوں کا مرکب ہو، جس میں (Environment)،یعنی ماحول، (Experience)، یعنی تجربہ اور (Education)، یعنی تعلیم شامل ہیں۔ ان تینوں میں انسان کی زندگی پر جو چیز سب سے زیادہ (Impact)کرتی ہے، وہ اُس کی (Society)، یعنی انسان کے دوست ہیں۔

آپ کے دوست آپ کے ایسے ساتھی ہیں، جو آپ کی دُنیا و آخرت بگاڑ بھی سکتے ہیں اور اس کو اعلیٰ بھی بنا سکتے ہیں۔ حضرت بایزید بسطامی ؒ نے فرمایا تھا کہ کسی سے بھی دوستی کرتے ہوئے یہ ضرور دیکھ لو کہ اُس سے تم کو آخرت میں کوئی فائدہ مل سکتا ہے یا نہیں؟نہج البلاغہ میں ہے کہ مولا علیؓ نے حضرت امام حسن ؓ کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ بیٹے کبھی بھی بدکار سے دوستی نہ کرنا، کیونکہ وہ تم کو کوڑیوں کے مول بیچ ڈالے گا اور کبھی کسی کنجوس سے دوستی نہ کرنا، کیونکہ جب تم کو اُس کی ضرورت پڑے گی تو تم سے دور بھاگے گا۔ ہاں! کبھی کسی جھوٹے سے بھی دوستی نہ کرنا، کیونکہ وہ تم کو سراب کی مانند دو ر کی چیز کو قریب اور قریب کی چیز کو دور کر کے دکھائے گا۔ کبھی کسی احمق سے بھی دوستی نہ کرنا،کیونکہ جب تم کو فائدہ پہنچانا چاہے گا تو نقصان کرے گا۔ قرآن میں سورۃ التوبہ آیت نمبر 119میں اللہ پاک نے فرمایا کہ اے ایمان والوں! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو۔شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ جو تم سے کسی کی برائی بیان کرے تو سمجھ لو کہ وہ تمہاری بھی برائی کسی اور سے بیان کرے گا۔

ایک جدید تحقیق ہمیں یہ بتاتی ہے کہ آپ کی (Society) آپ کے دوست اس قدر اہمیت رکھتے ہیں کہ اگر آپ اپنے سب سے قریبی پانچ دوستوں کی (Monthly Income)کو جمع کر کے پانچ پر تقسیم کر دیں، یعنی اُس کی Average نکالیں تو آپ کی بھی Monthly Income اُس کے آ س پاس ہو گی۔نفسیات والے یہ بھی کہتے ہیں کہ…… Half of our Friends Disappear after every seven years……ہر سات سال بعد آپ کے آدھے پرانے دوست کم ہو جاتے ہیں۔ایسے ہی امام غزالی ؒ ”احیا العلوم“میں حدیث کوڈ کرتے ہیں کہ سرکار ِ دو عالمﷺ نے فرمایا کہ چاہے، جس سے مرضی دوستی کر، ایک دن جدائی ہے۔یاد رکھیں!آپ کا دوست کردار والا، ویلیو والا اور اخلاق والا ہونا چاہئے۔ایسے نہ ہو کہ آپ کو آپ کی عدم موجودگی میں ذلیل کرے اور اگر آپ کے گھر آئے تو اُس کی آنکھوں میں حیا نظر نہ آئے۔ بدقسمتی سے آج کل کے زیادہ تر چھوٹے چھوٹے(Matric Students)اور (College) کے لڑکے، سگریٹ پینا، حتیٰ کہ کئی بار (Functions)میں شراب پینا اُن کا معمول ہے۔ یہ صرف ان کی آپس کی (Society)اور (Friendship)کی وجہ سے ہوتا ہے۔اِس لئے یاد رکھیے آپ وہی ہیں، جو آپ کے دوست ہیں ……!

مزید : رائے /کالم


loading...