بہار ِ ندامت

بہار ِ ندامت
بہار ِ ندامت

  



مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بارے میں حق تو یہ ہے کہ حقیقت کو ہمیشہ الجھایا اور تلخ حقائق کو چھپایا گیا۔پاکستان کو کس نے توڑا یا قائداعظمؒ کا ملک کیوں ٹوٹا؟ سطحی جذباتیت کے دائروں میں نام نہاد دانشوروں کا جواب، بلکہ دعویٰ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے …… یہ موضوع گویا میٹھا پکوان ہے، جو برسوں سے قلم فروش برادری کے دستر خوان پر دھرا پڑا ہے۔ جب اور جتنا جی چاہا نگل لیا،جیسے اور جہاں ضرورت پڑی اُگل دیا …… سقوط ڈھاکہ تاریخ اسلام میں سقوطِ بغداد و غرناطہ اور سلطنت ِ عثمانیہ و حکومت ِ مغلیہ کی بربادی کی طرز کا ایک واقعہ تھا،جسے یار لوگوں نے محض حادثہ بنا کر رکھ دیا اور تاریخی سانحہ کا حقیقی منظر نامہ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔اب واقعاتی بازار میں فقط افسانوں کا ہی کاروبار ہوتا چلا آ رہا ہے! …… حقیقت مگر یہ ہے کہ پاکستان میں حکمرانوں نے اسلام کو ہمیشہ سیاسی و نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا…… اختیار اور وسائل پر خود قابض رہے اور چاہا کہ عوام کو صرف عقیدے کی غذا پر زندہ رکھا جائے۔وسائل اگر منصفانہ اور مساویانہ انداز میں تقسیم ہوتے تو ملک دو لخت ہونے سے یقینا بچ سکتا تھا۔کسی نے اس پس منظر میں کہا تھا کہ ”یہاں زمینیں تو تقسیم نہیں ہوتیں،لیکن ملک تقسیم ہو جاتے ہیں“…… مشرقی پاکستان کو آزادی کے ثمرات اور معاشی سہولتوں سے محروم رکھنے والا ایک مخصوص طبقہ تھا،لیکن اُدھر کے لوگوں نے اس کا ذمہ دار اِدھر کے عوام کو جانا،حالانکہ مغربی پاکستان کے باشندے خود ابھی تک ظلم کی چکی تلے پس رہے ہیں۔

مشرقی حصے کے لوگوں کو یہ کسی نے نہیں بتایا کہ نوکرشاہی کے کارندوں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور وڈیروں کا کوئی مذہب، کوئی وطن، کوئی صوبہ اور کوئی زبان نہیں ہوتی۔یہ صرف منافق ہوتے ہیں اور ظلم ان کا شعار! بے اصولی،اصول اور بے ایمانی ہی ایسے لوگوں کا ایمان! اسی طرز بود و باش اور مفاد پرستی کے جھکڑ نے قائداعظمؒ کا دایاں بازو کاٹ دیا اور ان حالات و علل کا ابھی تک حساب نہیں لگایا گیا،سلسلہء ستم اب بھی جاری ہے۔ خاکم بدہن! آئندہ بھی جانے کس وقت کیا ہو جائے …… ذوالفقار علی بھٹو پر ابھی تک الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ پاکستان توڑنے کے حقیقتاً ذمہ دار ہیں۔شیخ مجیب الرحمن،پاکستان نہیں توڑنا چاہتے تھے، مطلب؟ تاریخ کے اس مرحلے پر ذوالفقار علی بھٹو کا ظہور،سانحہئ سقوطِ ڈھاکہ کا سبب بنا، نہیں تو علیحدگی کا عمل رک اور حادثہ ٹل جاتا۔شاید ہم تاریخی جبریت کا شعور ہی نہیں رکھتے، حالانکہ تاریخ علت و معلول کا ایک سفر ہے۔اپنی نوع کی حلقہ در حلقہ زنجیر! کڑی سے کڑی ملی ہوئی! …… ذوالفقار علی بھٹو نے14 مارچ1971ء کو نشتر پارک، کراچی میں ایک تاریخی خطاب کیا۔ قریباً پچاسی منٹ دورانیہ کی اس روایت شکن تقریر میں سرے سے ایسی کوئی بات ہی مذکور نہیں تھی، جو خالی از متن سرخی روزنامہ ”آزاد“ کے ایڈیٹر عباس اطہر لے اڑے۔انہوں نے اس خطاب کو من چاہا رخ دے کر ایک خاص مفہوم دے ڈالااور اسے بھٹو کے ازلی دشمن آج تک کسی الہامی کتاب کا نوشتہ سمجھتے چلے آئے ہیں۔ ”اُدھر تم اِدھر ہم“ …… بھٹو نے انتقالِ اقتدار کا فارمولا پیش کر دیا،دونوں بازوؤں میں اکثریتی پارٹیوں کو اقتدار سونپ دیا جائے!

پاکستانی قوم کا المیہ یہ ہے کہ اس کی رسائی کبھی تلخ سچائی تک نہیں ہو پاتی اور من گھڑت قصے کہانیوں کو ہی درجہ ئ ثقاہت حاصل ہو جاتا رہا ہے۔ اسی قبیل کے الزامات میں سے ایک ”قرارداد پولینڈ“ بھی ہے، جسے مبینہ طور پر بھٹو نے پھاڑ ڈالا اور سقوطِ ڈھاکہ پر مہر ثبت کر دی۔خوب!آج تک ان سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کا طریق کار کیا ہے؟عجب اور غضب ہے کہ جب پولینڈ کی قرارداد پر اجلاس طلب ہوا تو سیکرٹری جنرل نے مجوزہ قرارداد کا مسودہ بھٹو کو تھما دیا کہ وہ اسے نمائشی جوش جذبات سے پھاڑ ڈالیں۔ اے کاش!الزام کی گرد اڑانے والے کبھی قواعد ہی کا مطالعہ کر لیتے …… پاکستانی قوم کا مزاج نیچے سے اوپر تک ایک عجیب سے سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔

مقامی سطح پر تھانوں میں ایک نہ ایک خطرناک اشتہاری ملزم تراش کر رکھا جاتا ہے کہ جب کسی واردات کا کھوج نہ لگے یا نہ لگانا ہو، اس کے کھاتے میں ڈال دیا کرتے ہیں۔ ملکی سطح پر پولیس کا سیاسی سلوک ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ روا رکھا گیا ہے، ہر خامی اور ناکامی، بس ایک اسی کے نام پر …… گناہ کسی کا بھی، گنہگار بھٹو!!یہ کالم ”ہاں! یہ بھٹو ہے“ کتاب سے ماخوذ ہے، جسے بلا خوفِ تردید غیر متعصبانہ، متوازن یا معتدل قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ کتاب بجائے خود کالم نگار کی تحقیق و جستجو کا نتیجہ ہے۔

]نوٹ: فاضل کالم نگار نے جس سرخی کو کراچی کے جلسہ والی تقریر سے منسلک کیا ہے، وہ تقریر کراچی نہیں، لاہور میں اسمبلی سے باہر فیصل چوک میں ہوئی تھی۔(ادارہ)[

مزید : رائے /کالم