مستقبل کی جنگوں کا مزاج

مستقبل کی جنگوں کا مزاج
مستقبل کی جنگوں کا مزاج

  



ایک معروف برطانوی جنرل، جے ایف سی فلر (JFC Fuller) اپنی کتاب ”کنڈکٹ آف وار“ کے پیش لفظ کا آغاز اس طرح کرتا ہے:

”جنگ لڑنا بھی پیشہ ء طب کی طرح ایک فن ہے۔ جس طرح ڈاکٹر کا کام انسانی جسم کی بیماریوں کو روکنا، ان کا علاج کرنا اور جسم کو لاحق مختلف تکالیف کو کم کرنا ہوتا ہے، اسی طرح ایک سیاسی مدبر اور ایک سولجر کا کام بھی یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان جنگوں کو روکے، ان کا علاج کرے اور ان سے پیدا ہونے والی مختلف مشکلات و تکالیف کو کم کرے جو بین الاقوامی جسم کو لاحق ہوتی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس طرف کم دھیان دیا گیا ہے اور جہاں آج کی دنیا میں پیشہ ء طب میں بہت ترقی ہو چکی ہے اور زخموں کے علاج اور اندمال (Healing) کے بے شمار طریقے سائنسی بنیادوں پر دریافت اور استوار ہو چکے ہیں، فنونِ جنگ ہنوز ابتدائی مراحل ہی میں سرگرداں ہیں بلکہ موجودہ 20ویں صدی میں تو جنگ لڑنے کا فن ایک بار پھر وحشت و بربریت اور خون آشامی کی طرف لوٹ گیا ہے۔ اگر کسی قاری کو میری اس بات میں کچھ شک ہو تو وہ 20ویں صدی کی دونوں عالمی جنگوں پر ایک نظر ڈال لے۔ اس کو معلوم ہو گا کہ یہ جنگیں علاجِ مرض کی بجائے افزائشِ مرض کا باعث ہوئی ہیں اور علاج کرنے کی کوششیں اصل مرض سے بھی زیادہ گھناؤنی ثابت ہوئی ہیں۔ ان کے نتیجے میں پوری دنیا ایک عالمگیر قتل و غارت گری کی دلدل میں دھکیل دی گئی ہے“۔

جنرل فلر کی یہ کتاب 1960ء میں شائع ہوئی تھی اور میں گزشتہ دنوں اپنے کالموں میں ایک مبسوط تبصرہ (قسط وار) اس پر لکھ چکا ہوں۔ لیکن کیا 1960ء کے بعد جنگوں کا سلسلہ ختم ہو گیا یا ان کی رفتار مدھم ہو گئی؟…… ایسا ہرگز نہیں ہوا…… اس کتاب کی اشاعت کے بعد گزشتہ صدی میں تین پاک بھارت جنگیں (1965ء،1971ء،1999ء)…… دو عرب اسرائیلی جنگیں (1967ء،1973ء)…… ویت نام وار (1964ء تا1977ء)…… ارجنٹائن کی وار (1982ء) وغیرہ برپا ہوئیں جن میں کثیر جانی نقصانات ہوئے اور فلر کی تحریر کو اثبات اور تائید ملی کہ انسان نے کسی بھی چھوٹی بڑی یا علاقائی یا عالمگیر جنگ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔

21ویں صدی کا آغاز ہوا تو بعض لوگوں نے امید باندھی کہ شائد اس نئی ہزاری میں دنیا امن کی متلاشی ہو جائے گی۔ لیکن جلد ہی نو گیارہ کا سانحہ رونما ہوا۔ اس کی ابتداء ایشیا والوں نے کی۔ طالبان ایشیائی جنگ کو براعظم امریکہ میں لے گئے۔ ان کا خیال ہو گا کہ وہ امریکہ کو دنیا کی واحد سپرپاور ہونے کا مزہ چکھائیں گے لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ امریکہ نے یورپی ممالک (ناٹو) کے ساتھ مل کر یہ جنگ ایشیا کے دل میں اتار دی۔ اقبال نے کہا تھا:

آسیا یک پیکرِ آب و گلِ است

ملتِ افغاں درآں پیکر دل است

]ایشیا گویا پانی اور مٹی کا ایک جسم ہے اور افغانستان اس جسم کا دل ہے[.

2001ء میں بش جونیئر، صدرِ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد جنگوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور یمن سے ہوتا ہوا آج ایران تک آ پہنچا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد آگے کیا ہو گا؟…… ایران اور امریکہ کے درمیان عسکری قوت کا ہرگز کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن آج کے امریکی دانشور اب اپنے قائدین سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا جنگ کا مقصد قیامِ امن ہے؟ بظاہر تو ہر عسکری جارح یہی عذر لاتا ہے کہ وہ دوسرے ملک پر اس لئے لشکر کشی کر رہا ہے کہ امن قائم ہو۔ لیکن کیا آج کا کوئی جارح/ حملہ آور یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ اس غرض سے جنگ میں کودا ہے کہ ”فاتح“ قرار پائے اور دنیا کو امن و سکون کی طرف لے جائے؟

سوال یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی جنرل کو مار کر کیا حاصل کیا ہے؟ آج کے امریکی تجزیہ نگار لکھ رہے ہیں کہ ٹرمپ نے اس جوہری معاہدے سے نکل کر خود کو (اور ساتھ دنیا بھر کو) ایک سخت مشکل میں ڈال دیا ہے جو سابق صدر اوباما نے ایران کے ساتھ کیا تھا۔ ٹرمپ نے یہ عزم تو ٹویٹ کر دیا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے ایران جوہری قوت نہیں بن سکتا لیکن کیا ایران نے اپنا جوہری پروگرام پھر سے شروع نہیں کر دیا؟ جب ایرانی سنٹری فیوج یورینیم کو کرٹیکل حد تک افزودگی کی طرف لے جائیں گے تو کیا امریکہ، ایران پر حملہ کر دے گا؟ کیا ایسی یلغار (Invasion) ممکن بھی ہے؟ ایسی کئی آوازیں امریکی کانگریس سے اٹھ رہی ہیں کہ اس کے صدر کو یک طرفہ کسی ایسے جارحانہ ایکشن لینے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے، جس سے نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا کو خطرہ لاحق ہو جائے۔ ٹیکنالوجی تو دن بدن روبہ ترقی ہے لیکن انسان اس کی بدولت روبہ تنزل ہے۔ انسانی تنازعات کا حل ماضی میں تو شائد جنگ کی شکل میں مضمر تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ ایران مشرق وسطیٰ کا وہ پہلا ملک بن رہا ہے جو عسکری اعتبار سے کمزور ہوتے ہوئے بھی امریکہ کو بے پناہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے میزائل اگر اربیل اور الاسد پر گر سکتے ہیں تو امریکی طیارہ بردار جہازوں پر کیوں نہیں؟ اگر ایسا ہو جائے تو امریکی آپشنز کیا ہوں گی؟

امریکہ نے جب نوگیارہ کے بعد افغانستان پر حملہ کر دیا تھا تو دیکھتے ہی دیکھتے طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ افغان طالبان کے پاس تو کوئی جدید فوج تھی ہی نہیں۔ چونکہ یہ ایک مقفل بہ زمین ملک تھا اس لئے بحریہ بھی نہیں تھی، فضائیہ بھی بس برائے نام تھی اور گراؤنڈ فورسز کا حال بھی یہی تھا اس لئے امریکہ افغانستان کو چھوڑ کر 2003ء میں عراق پر حملہ آور ہوا اور آن کی آن میں صدام حسین کی وار مشین کو بھی روند ڈالا۔ پھر اس نے لیبیا اور شام کا رخ تو کیا لیکن ایران کی طرف ”متوجہ“ نہ ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ ایران کی آبادی، عراق سے تین گنا زیادہ تھی۔ آج بھی عراق ایران آبادی کا تناسب یہی ہے۔ دوسرے ایران کی جغرافیائی ٹیرین، عراق کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور دشوار گزار ہے۔ اس نے شام، لبنان اور یمن میں بھی اپنی پراکسی افواج بنا رکھی ہیں اور ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ یورپ اور لاطینی امریکہ میں بھی اس کے کئی خوابیدہ سیل موجود ہیں۔ علاوہ ازیں جیسا کہ پہلے دو کالموں میں لکھ چکا ہوں اس کی سائبر اہلیت بھی مسلمہ ہے۔

اندریں حالات امریکہ اگر ایران پر آل آؤٹ وار مسلط کرتا ہے تو افغانستان کی طرح شائد حملہ آور امریکی افواج کا پلڑا بھاری ہو جائے لیکن ایران کے پاس روس اور چین کی طرح کی ہائی برڈ وار مسلط کرنے کی جو اہلیت ہے اس کے سبب ایران کوئی ایسا ترنوالہ نہیں ہو گا جس کو امریکہ آسانی سے نگل سکے گا۔ ایران کی بحریہ اس قابل ہے کہ بظاہر عظیم امریکی بحریہ کو عظیم نہیں رہنے دے گی اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے نتائج عالمگیر ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ دو عشروں میں امریکی افواج نے یہ اندازہ بھی کر لیا ہے کہ افغانستان اور عراق میں اس کی سہ گانہ افواج نے کوئی بڑا تیر نہیں مار لیا۔ ویسے تو امریکی افواج کی قوت اور ان کی تباہ کن حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر موازنہ کریں تو امریکہ کے بعد دنیا کی 9بڑی عسکری قوتیں مل کر بھی امریکی افواج کی قوتِ ضرب کے برابر نہیں ہو سکتیں۔ تاہم یہ موازنہ کنونشنل فورسز کا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا نان کنونشنل (ہائی برڈ) فورسز کی طرف جا رہی ہے۔ امریکی ٹینک، طیارے، توپیں اور جنگی بحری جہاز گویا ایک بہت بڑا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس ہے لیکن مستقبل کی فورسز تو نان کنونشنل فورسز ہیں۔ مصنوعی ذہانت، ڈرونوں اور روبوٹ سولجروں کا میدانِ جنگ اور سائبر وار فیئر کے لرزہ خیز امکانات سب کے سب امریکہ کی کنونشنل فورسز کو محض متروک فورسز بنا سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ جنگ و جدال گزشتہ دو عشروں کو ایک ایسا دورانیہ سمجھتے ہیں کہ جس نے جنگ کی نیچر تبدیل کرکے رکھ دی ہے۔

کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا پاک فوج میں یہ بیانیہ عام دہرایا جاتا تھا کہ ہمیں عالمی قوتوں کی عسکری اہلیت کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں تو یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارا فوری دشمن کون ہے۔ مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو انڈیا سے مقابلہ کرنا ہے اور اسی مقابلے کی تیاریاں کرنی ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا پاکستان کا دشمن صرف انڈیا ہی نہیں دوسری عالمی قوتیں بھی ہیں جن میں امریکہ اور یورپ کی افواج (NATO) ایک عرصے تک پیش پیش رہیں۔پاکستان 1971ء میں دو نیم ہوا اور انڈیا سمجھ رہا تھا کہ باقی آدھے پاکستان نے مہان بھارت کا کیا بگاڑ لینا ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقت باعث حیرت نہیں کہ اس ”آدھے پاکستان“ نے نہ صرف پورے انڈیا کا مقابلہ کیا ہے بلکہ انڈیا کے عالمی بہی خواہوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ پاکستان ایک ایسی پھانس ہے جو ان کے اپنے حلق میں اٹک کے رہ گئی ہے؟ گزشتہ دو عشروں نے اس بات کا فیصلہ بھی کر دیا ہے کہ جنگ کا وہ مزاج جو 20ویں صدی تک ایک مروجہ کلچر کا پیروکار تھا، 21ویں صدی میں اس میں ایک انقلابی تبدیلی آ چکی ہے۔ دنیا اب روائتی جنگ کے کلچر سے غیر روائتی جنگ کی طرف جا رہی ہے اور غیر روائتی جنگ سے مراد جوہری جنگ نہیں،ہائی برڈ وار فیئر ہے۔ جنگ کا یہ مزاج شائد دنیا کے جوہری ترکش کو خالی کرکے اسے غیر جوہری ہتھیاروں سے بھر دے!

مزید : رائے /کالم


loading...