فلم انڈسٹری لاہور یا کراچی کی نہیں پاکستان کی ہے: شوبز شخصیات

      فلم انڈسٹری لاہور یا کراچی کی نہیں پاکستان کی ہے: شوبز شخصیات

  



 لاہور (فلم رپورٹر)نامور گلوکارہ فرحت خان نے کہا کہ جس طرح کسی عمارت کو بنانے کے لئے پہلے نقشہ اور منصوبہ بندی کے ساتھ لاگت کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اسی طرح انسانی زندگی بھی ہے کہ جب لوگ کسی کام کا پختہ عزم کر لیں اور اس کے لئے بھرپور جدوجہد کریں تو ہمیشہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔ فرحت خان نے کہا کہ پاکستان ہر اعتبار سے ایک ایسا ملک ہے جہاں قدرت نے بے پناہ وسائل دے رکھے ہیں ان کو کس طرح اپنے حصول میں لانا ہے یہ کام بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔اگر حکومت صرف سیاحت کی طرف توجہ دینا شروع کر دے تو اربوں ڈالر اس مد میں بھی زرمبادلہ کی صورت میں ہمارے پاس آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہر انسان کو آسان زندگی گزارنے کیلئے بنیادی مقصد کا تعین کر لینا چاہیے کیونکہ اپنے مقصد کا تعین کر لینے والے زندگی میں ہمیشہ کامیابیاں سمیٹتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 80فیصد لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے حوالے سے کبھی منصوبہ بندی ہی نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے کوئی منزل طے کی ہوتی ہے جس معمول سے زندگی بسر ہو رہی ہوتی ہے وہ بھی اسی طرح اپنی زندگی کا سارا حصہ گزار دیتے ہیں لیکن جو لوگ شروع سے ہی اپنے مقصد کا تعین کر لیتے ہیں وہ ہمیشہ زندگی میں کامیابیاں سمیٹتے ہیں۔

لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ فلم کراچی یا لاہور کی نہیں ہوتی وہ صرف اور صرف پاکستان کی ہوتی ہے۔ فلم کو لاہور اور کراچی میں تقسیم کرنے سے تعصب کو ہوا ملتی ہے جو لوگ اس طرح کی بات کرتے ہیں ان کو کسی بھی صورت میں محب وطن کہنا مناسب نہیں ہے پاکستان فلم انڈسٹری اس وقت ایک بار پھر ترقی کی جانب گامزن ہے۔ ہر فلم بین کی خواہش ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر ماضی کی طرح اعلیٰ اور معیاری فلمیں بنیں۔دوسری جانب ڈرامہ انڈسٹری میں بھی لاہور اور کراچی کے حوالے سے واضح تقسیم نظر آرہی ہے لاہور کے بعد کراچی میں ڈرامہ انڈسٹری لابی ازم کا شکار ہوکر بحران کی جانب گامزن ہے۔ خرم شیراز ریاض،شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم، نجیبہ بی جی ندا یاسر،جویریہ عباسی،ثناء،فرزانہ تھیم،صاحبہ،جویریہ سعود،روبی انعم،اظہر بٹ،عروج،عینی رباب،حمیرا اورماریہ واسطی نے کہا کہ چینلز کی جانب سے پروڈکشن ہاؤسز کو بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ڈرامہ انڈسٹری بھی شدید بحران سے دوچار ہے۔تمام ٹی وی چینلز نے گزشتہ دو سالوں کے دوران پروڈکشن ہاؤسز کو نہ ہونے کے برابر ادائیگی کی ہے جس کی وجہ سے ہر آنے والے دن میں پریشانی میں اضافہ ہورہا ہے۔

جن پروڈکشن ہاؤسز میں ایک وقت میں چھ ڈرامے بنانے جاتے تھے وہاں پر صرف دو ڈرامے بن رہے ہیں اور جن میں دو بن رہے تھے ان میں اکثریت کام نہیں کررہی ہے پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاری نقصان کے سوا کچھ نہیں اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو شاید فلم کی طرح ڈرامہ انڈسٹری بھی تباہ و برباد ہوجائے گی کام کم ہونے کی وجہ سے چھوٹے فنکار اور تکنیک کار پریشانی کا شکار ہیں۔

مزید : کلچر


loading...