امریکی سینیٹ میں آئندہ ہفتے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ چلے گا، بل پر آ ج ووٹنگ ہو گی 

  امریکی سینیٹ میں آئندہ ہفتے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ چلے گا، بل پر آ ج ...

  



واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کیلئے دو دفعات پرمشتمل جو بل کثرت رائے سے منظور کیا تھا اس کے اگلے حتمی مرحلے میں آئندہ ہفتے  سینیٹ میں مواخذے کا باقاعدہ مقدمہ چلے گا۔ مخالف ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان نے اپنی اکثریت کے بل بوتے  پر گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ کے مواخذے کا بل منظور  کیا تھا جس کے بعد سپیکر  نینسی پلوسی  نے اپنی حکمت عملی کے تحت اسے روک رکھا تھا اور جب تک وہ اسے سینیٹ بھیجنے کیلئے مناسب اقدامات نہیں کرتیں سینیٹ میں مواخذے کا مقدمہ شروع نہیں ہوسکتا۔ اب بالآخر انہوں نے خاموشی توڑی ہے اور کیپٹل ہل میں اپنے ڈیموکریٹک کا  ساتھیوں سے بھی صلاح مشورہ کرنے کے بعد منگل کے روز یہ اعلان کیا ہے کہ بدھ کے روز ضابطے کے مطابق اس بل کو سینیٹ بھجوانے کیلئے ووٹنگ کی جائے اور ساتھ ہی وہاں چلنے والے مقدمے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسی پر عملدرآمد کرنے کیلئے منیجرز کا پینل بھی مقرر کردیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں نتائج کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کے لئے اپنی انتخابی ٹیم کی روس سے ملی بھگت کی تفتیش میں ثبوت فراہم ہونے کے باوجود اس بناء پر مواخذے کے مقدمے سے بچ گئے تھے۔ تاہم چند ماہ قبل انٹیلی جنس افسروں نے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرائن کے اپنے ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت میں ملکی آئین اور قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس شکایت پر امریکی کانگریس میں مواخذے کی تحریک پیش ہوئی اور ایوان نمائندگان نے دو دفعات پر مشتمل مواخذے کا بل منظور کرلیا۔ ایک الزام یہ تھا کہ انہوں نے یوکرائن کے صدرپر اپنے مخالف صدارتی امیدوارسابق نائب صدر جوبیڈن کو کرپشن کے مقدمے میں پھنسانے  پر دباؤ ڈالا اور اس کے بدلے میں ان کی فوجی امداد بحال کرنے کا مبینہ وعدہ کیا۔ دوسری دفعہ کے مطابق جب بعد میں کانگرس نے اس معاملے کی تفتیش شروع کی تو صدر نے کانگریس کے اس کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ بدھ کے روز ایوان نمائندگان کی طرف سے پہلے سے منظور شدہ مواخذے کے بل کو سینیٹ بھیجنے کیلئے ووٹنگ ہونے کے بعد آئندہ  ہفتے وہاں مواخذے کا باقاعدہ مقدمہ شروع ہو جائے گا۔ اس طرح صدر ٹرمپ امریکی تاریخ میں تیسرے صدر بن جائیں گے جن کے خلاف مواخذے کا مقدمہ چلے گا۔ یہ مقدمہ 2020ء کے صدارتی انتخاب کے سال کے آغاز پر چلے گا جس کا نتیجہ جو ہو لیکن صدر ٹرمپ اس میں مواخذے کے دھبے کے ساتھ شرکت کریں گے۔ اس طرح یہ مقدمہ پوری قوم کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کرکے انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ صدرٹرمپ سرکاری ری پبلکن پارٹی کے سینیٹ کے ارکان کواس بات پرمائل  کرتے رہے ہیں کہ جونہی سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی شروع ہو تو فوری طور پر ایک بل منظور کرکے ایوان نمائندگان کے مواخذے کے بل کو یکسر مسترد کر دیاجائے۔ تاہم ان کی کوششیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ متعدد ری پبلکن سینیٹرز کھل کر بتا چکے ہیں کہ وہ مواخذے کے بل کو یکسر مسترد کرنا نہیں چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ اس پر بحث ہو اور مزید شہادتیں بھی پیش ہوں۔ اس کے بعد دونوں اطراف کا موقف سامنے آئے ہر وہ میرٹ پرمواخذے کے بل کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیں گے۔

 صدرٹرمپ 

مزید : صفحہ اول


loading...