مریم کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری، نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ مسترد، نئی طلب

  مریم کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری، نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر  مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری دیدی۔وزیرا عظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی مجموعی صورتحال سمیت خطے کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستانی مؤقف پر کابینہ ارکان کو اعتماد میں لیا۔  کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے ای سی ایل نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی جس کی کابینہ نے منظوری دیدی۔واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کے بعد مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ای سی ایل سے نام نکلوانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔لاہور ہائیکورٹ مریم نواز کا پاسپورٹ واپس کرنے اور نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست 15 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر بھی کرچکی ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا  کہ نواز شریف لندن میں علاج کیلئے گئے اب وہاں دل بہلانے میں مصروف ہیں، پنجاب حکومت نے نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس طلب کی ہیں، نواز شریف لندن میں بیٹھ کر ووٹ کو عزت دے رہے ہیں، اتحادی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، تمام اتحادی جماعتیں ملکی ترقی کیلئے حکومت کیساتھ متفق ہیں، جمہوری نظام میں اختلاف رائے ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی،سعودی عرب کی جیلوں سے رہا پاکستانیوں کے اہلخانہ کی سہولت کیلئے ڈیٹا بیس بنایا جائے گا، موسم سے متعلق معلومات کی فراہمی کیلئے تمام ٹی وی چینلز کچھ وقت مقرر کریں،وزارت توانائی عوام کی آگاہی کیلئے اشتہاری مہم شروع کر رہی ہے، گمشدہ بچوں کی بازیابی کیلئے میرا بچہ ایپ متعارف کرائی گئی ہے، پی آئی اے سے متعلق شکایات و تجاویز کیلئے ای سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے، تحصیل کی سطح پر احساس پروگرام کے دفاتر کھولے جا رہے ہیں، ہیلتھ کارڈ کے تحت فراہم سہولتوں کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کی گئی ہیڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ نے ایجنڈے میں شامل 16میں سے 15 نکات کی منظوری دی، کابینہ اجلاس میں عوامی فلاح و بہبود کیلئے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے، کابینہ نے موٹرویز پر معذور افراد کیلئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا،دیہی خواتین کے شناختی کارڈز کیلئے ملک بھر میں جمعہ کا دن مختص کر دیا گیا ہے، خواتین کی شکایات کے تدارک کیلئے ٹول فری نمبر پر آگاہ جائے گا، موسمیاتی تغیرات سے متعلق معلومات کیلئے ایپ متعارف کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کیلئے مسائل ایپ متعارف کرائی جا رہی ہے، سعودی عرب کی جیلوں سے رہا پاکستانیوں کے اہلخانہ کی سہولت کیلئے ڈیٹا بیس بنایا جائے گا، موسم سے متعلق معلومات کی فراہمی کیلئے تمام ٹی وی چینلز کچھ وقت مقرر کریں،وزارت توانائی عوام کی آگاہی کیلئے اشتہاری مہم شروع کر رہی ہے، گمشدہ بچوں کی بازیابی کیلئے میرا بچہ ایپ متعارف کرائی گئی ہے، پی آئی اے سے متعلق شکایات و تجاویز کیلئے ای سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے، تحصیل کی سطح پر احساس پروگرام کے دفاتر کھولے جا رہے ہیں، ہیلتھ کارڈ کے تحت فراہم سہولتوں کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مختلف وزارتوں میں ایک لاکھ 6 ہزار343ملازمتوں کے کیسز زیر التواء ہیں، وفاقی حکومت کے مختلف اداروں میں ایک لاکھ 29 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں، متعلقہ ادارے خالی آسامیوں کا بجٹ لے رہے ہیں لیکن بھرتیاں نہیں کی جا رہی ہیں،  کابینہ اجلاس میں وزیراعظم ڈیلیوری یونٹ کی کارکردگی کو سراہا گیا،   معاون خصوصی نے کہا کہ متعلقہ وزارتوں کے ملازمین کے زیر التواء معاملات حل کرنے کیلئے 45دن کا وقت دیا گیا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ترمیم شدہ ایئر لائن معاہدے کی منظوری دی گئی، تین سرکاری املاک نیا پاکستان ہاؤسنگ کو دینے کی منظوری دی گئی، کابینہ نے میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی میں ڈی جی کی تعیناتی اور سردار عبدالحمید خان کو وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ریجن کراچی کا ممبر تعینات کرنے کی منظوری بھی  دی، کامعاون خصوصی نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ  ایئر پورٹس کے نزدیک اونچی عمارتوں کی تعمیر کیلئے بین الاقوامی اصولوں سے رہنمائی لی جائے گی، وزارت صحت میں مجوزہ اصلاحات کی منظوری دی گئی، وزارت صحت کی تشکیل نو کی منظوری دی گئی ہے، 5ہومیوپیتھک میڈیکل کالجز پر شکایات کی انکوائری کا حکم دیا گیا ہیاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیراعظم عمران خان نے کہا  کہ حکومت اتحادی جماعتوں کے تمام تحفظات کو دور کرے گی اور انھیں ہمیشہ ساتھ لے کر چلے گی۔۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے تحفظات پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا  ا تحا دی جماعتوں نے ہر مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا، انھیں ساتھ لے کر چلیں گے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں کے تحفظات ختم کرنے کیلئے حکومتی کمیٹی بنائی جس کا ان کے ساتھ رابطہ ہے۔ ہم اپنے اتحادیوں کے تحفظات دور کریں گے۔

وفاقی کابینہ

لاہور(جنرل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پنجاب حکومت نے نوازشریف کی پہلی میڈیکل رپورٹ مسترد کر دی، پنجاب حکومت نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ پر کئی اعتراضات ہیں۔تاہم اب محکمہ داخلہ پنجاب نے نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس فوری طور پر بھیجوانے کا حکم جاری کیا ہے۔ دوسری طرف میڈیکل رپورٹس پر پنجاب حکومت اور شریف فیملی کی جانب سے خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ خواجہ حارث، حکومت اور ڈاکٹرعدنان کے درمیان 4 خطوط کا تبادلہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا  کہ 6 ہفتے میں نواز شریف کا کوئی علاج نہیں ہوا، علاج سے متعلق کوئی نئی رپورٹ نہیں بھیجی گئی، سابق وزیراعظم سزایافتہ ہیں، عدالت نے علاج کیلئے ریلیف دیا ہے، کس بنیاد پر مزید وقت دیا جائے۔اس امر کا اظہار صوبائی وزیر صحت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیاانھوں نے کہا کہ نواز شریف کی تصویر پر بہت سے خدشات ہیں، ان کو علاج کیلئے 6 ہفتے کی ضمانت دی گئی، نواز شریف کو دی گئی رعایت 25 دسمبر کو ختم ہوگئی، 27 دسمبر کو نواز شریف کے وکیل نے میڈیکل رپورٹ بھجوائی، رپورٹ کی بنیاد پر میڈیکل بورڈ کا اجلاس طلب کیا گیا، فیصلہ ہوا میڈیکل رپورٹ نامکمل ہے اور کوئی نئی بات نہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا نواز شریف کے معالج کی جانب سے خط لکھا گیا، خط میں نواز شریف کی پرانی بیماریوں کی تفصیلات بتائی گئیں، رپورٹس میں جن بیماریوں کا ذکر ہے ہم پہلے سے جانتے ہیں، تصویر دیکھنے کے بعد ڈاکٹر عدنان کو فون کیا، ان سے پوچھا کیا نواز شریف کا گھومنا ان کے علاج کا حصہ ہے؟ ہمیں نواز شریف کے علاج سے متعلق کوئی اطلاع نہیں۔دوسری طرف سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اور وزارت داخلہ کی جانب سے مانگی گئی تازہ میڈیکل رپورٹس جمع کرادی گئی ہے    میاں نواز شریف کی  طبیعت بدستور خراب ہے  اور ان کی صحت کے حوالے سے منفی بیانات سے گریز کرنا چاہئے۔ منگل کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے صوبائی وزیر صحت پنجا ب ڈاکٹر یاسمین راشد کی پریس کانفرنس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی تمام میڈیکل رپورٹس پنجاب کے متعلقہ حکام سے شیئر کرادی گئی ہیں اور نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ رپورٹس منگل کے روز پنجاب حکومت  اور وزارت داخلہ کو بھجوا دی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی  طبیعت بدستور خراب ہے  اور ان کی صحت کے حوالے سے منفی بیانات سے گریز کرنا چاہئے، میاں نواز شریف کو ڈاکٹرز کی ہدایات پر چہل قدمی اور ورزش کرائی جا رہی ہے۔محکمہ داخلہ پنجا ب نے  بھی سابق وزیراعظم نو از شریف سمیت ڈاکٹر عدنان اور عطاتارڑ کو خط لکھ دیا  جس میں کہا گیا ہے کہ 48گھنٹوں میں نئی رپو رٹس بھیجی جا ئیں اس کی روشنی میں نو از شریف کے قیا م میں توسیع کی اجازت دی جا ئے گی مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کے دباؤ پر کی گئی پریس کانفرنس قابل افسوس ہے، وزیر صحت کی سربراہی میں بورڈ نے نواز شریف کا بیرون ملک علاج تجویز کیا تھا۔ترجمان پاکستان مسلم لیگ نون مریم اورنگزیب نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا عمران خان کی حکومت پر اب ترس ا?تا ہے، نواز شریف کا آج بھی ریبیوڈیم پی ای ٹی سکین ہوا، نواز شریف کی رپورٹ موجود ہونے کے باجود سیاسی تماشا کیا گیا۔

رپورٹ مسترد

مزید : صفحہ اول