مسلم لیگ (ق) بھی حکومت سے ناراض، کابینہ اجلاس کا بائیکاٹ پیرٹ، پگاڑ ا کا بھی اظہار ناراضی، ترین اور خٹک اتحادیوں کو منانے کیلئے متحرک

      مسلم لیگ (ق) بھی حکومت سے ناراض، کابینہ اجلاس کا بائیکاٹ پیرٹ، پگاڑ ا کا ...

  



اسلام آباد، کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)وفاقی حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور گرینڈ ڈیموکریٹک الا ئنس (جی ڈی اے) کے بعد مسلم لیگ (ق) بھی ناراض ہوگئی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس  تحادیوں کے تحفظات پر چہمیگوئیاں جاری رہیں ذ ر ائع کے مطابق کابینہ ارکان نے وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ حکومتی اتحادی اکثر و بیشتر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے رہے ہیں، ان سے کیے گئے وعدے ہر صورت پورے کر نے چاہئیں۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے کہاکہ ایم کیو ایم سمیت تمام اتحادی بہترین دوست ہیں، اتحادیوں کو ناراض نہیں کرسکتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ کی غیر موجودگی کا بھی نوٹس لیا اور پھر وزیر دفاع پرویز خٹک کو اتحادیوں کو منانے کا ٹا سک دیدیا۔دوری طرف پیرپگارا صدرالدین شاہ نے بھی وعدے پورے نہ کرنے پر وفاقی حکومت سے تحفظات کا اظہار کر تے ہوئے کہا پی ٹی آئی نے وعدے پورے نہیں کیے، صرف ایم کیو ایم ہی نہیں ہم بھی اتحادی ہیں، ہم نے وزارت کی شکایت نہیں کی حالانکہ ہمیں غیر اہم وزارت دی گئی، ہمارے لوگوں کو جھوٹے مقدمات کا سامنا ہے، سند ھ میں کرپشن اور اقرباپروری عروج پر ہے احتساب کہاں گیا۔ منگل کو گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کراچی میں سربراہ پاکستان مسلم لیگ  (ف)پیرپگارا صدرالدین شاہ سے ملاقا ت کی، ذرائع کے مطابق پیرپگارا نے گورنر سندھ کے سامنے جی ڈی اے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سرکار نے جووعدے کیے وہ پورے نہیں کیے گئے، صو بائی حکومت تو پیپلزپارٹی کی ہے پر وفاق میں تو آپ کی حکومت ہے، بجلی اور گیس کے محکمے تو وفاقی ہیں وہ کیوں نہیں سنتے۔پیرپگارا نے کہا کہ جہانگیرترین کے ساتھ بھی آپ آئے تھے لیکن وعدے پورے نہیں کیے گئے، آپ کراچی کو بھی دیں لیکن ہمیں بھی ترقیاتی کام چاہئیں، صرف ایم کیوایم ہی نہیں ہم بھی اتحادی ہیں، ہم نے وزارت کی شکایت نہیں کی حالانکہ ہمیں غیر اہم وزارت دی گئی۔ دوسری طرف اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے حکومت متحرک ہو گئی، اتحادیوں کے ساتھ ملاقاتیں اور رابطوں میں تیزی آگئی۔ حکو مت نے جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کو اتحادی جماعتوں کو منانے کا ٹاسک دے دیا ہے جس کے بعد دونوں رہنماء   سیاسی محاذ پر سرگرم ہوگئے ہیں  اور اتحادی جماعتوں کو منانے کیلئے ملاقاتیں کریں گے۔وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر جی ڈی اے، بلوچستان عوامی پارٹی سے ملاقات کریں گے، دونوں رہنما آج بروز بدھ کو (ق)لیگ، بی این پی قیاد ت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق  ق لیگ سے ملاقات میں وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار بھی ہمراہ ہوں گے، جمعرات کے روز بی این پی مینگل کے سربراہ سے ملاقات طے ہوئی ہے۔ جس میں لاپتہ افراد سمیت مینگل پارٹی کی جانب سے دیئے گئے دیگر نکات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور بی این پی مینگل کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ملاقاتوں کے دوران  جہانگیر ترین، پرویز خٹک اتحادیوں کو مطالبات پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔جبکہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی خبروں پر ترجمان متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم)پاکستان نے کہا ہے کہ اب متحدہ کا کوئی بھی رکن وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے نہیں جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ ہم سے حکومتی وزرا نے ملاقات کیلئے رابطہ کیا تھا تاہم جس کو ملاقات کرنی ہے وہ ایم کیو ایم کے مرکز آجائے، ہمارے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں۔واضح رہے کہ دو روز قبل وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے اچانک وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

اتحادی ناراض

مزید : صفحہ اول