سینیٹ، نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل منظور

  سینیٹ، نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل منظور

  



اسلام آباد (نیوزایجنسیاں) قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی نیاپاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کا بل منظور کر لیا، جبکہ" زینب الرٹ، رد عمل اور بحالی بل2020 "سمیت قومی اسمبلی سے منظور شدہ7بل سینیٹ میں پیش کر دیئے گئے،جن میں آئی سی ٹی میں معذور افراد کے حقوق کا بل،وراثت کی اسناد اور انصرام کے خطوط کا بل، لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل،خواتین جائیداد حقوق کے نفاذ کا بل، اعلیٰ عدالتوں (عدالتی لباس اور خطاب کا طریقہ) احکامات(تنسیخ)بلاور مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بلزکوچیئرمین سینیٹ نے مزید غور کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے۔دوسری طرف سینٹ کو بتایاگیا ہے کہ پاکستان نے اپنی فضائی حدود کبھی افغانستان کے لیے بند نہیں کی،پاک بھارت حالیہ سیاسی بحران کے دوران پاکستان نے بھارت کو جانے والی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت دے رکھی ہے۔ منگل کو سینیٹ کے وقفہ سوالات میں وزارت خارجہ نے تحریری جواب میں بتایاکہ پاکستان نے اپنی فضائی حدود کبھی افغانستان کے لیے بند نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ پاک بھارت حالیہ  سیاسی بحران کے دوران پاکستان نے بھارت کو جانے والی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت دے رکھی ہے۔تمام ہمسائیہ ممالک کیساتھ بہترین تعلقات رکھنا حکومت کی پالیسی ہے تاہم پاکستان اور بھارت کے تعلقات اچھے نہیں ہیں، بھارت نے بات چیت کا عمل یکطرفہ طورپر معطل کر رکھا ہے،بھارت ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں مشغول ہے۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں بھارت کیساتھ بات چیت ممکن نہیں ہے،ایران نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تناو کم کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے امریکہ طالبان امن مذاکرات کو سہولت دی،بھارت کا مخماصمانہ رویہ علاقائی امن اور سلامتی کیلئے خطرہ ہے،مسلح افواج کسی بھی جارحیت پر کارروائی کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ سعودی ولی عہد کے اعلان کے مطابق اب تک 2080 قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے،سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد 3 ہزار ہے۔وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایاکہ بلوچستان کے 34 اضلاع میں سے 15 اضلاع میں یونیورسٹی یا اسکا کیمپس ہے،اس وقت 19 ضلاع ایسے ہیں جن میں کوئی اعلی تعلیمی ادارے موجود نہیں۔ وزارت ہیلتھ سروسز نے تحریری جواب میں بتایاکہ اسلام آباد میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 15 ہزار 668 ڈینگی کیسز سامنے آئے،گزشتہ سال اسلام آباد میں 11ہزار 738 افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے،جولائی سے اکتوبر کے دوران ڈینگی بخار سے اسلام آباد میں 19 اموات ہوئیں۔شفقت محمود نے بتایاکہ پاکستان کے 26 مقامات کو عالمی ورثہ  مقامات  میں شامل کیا گیا ہے،عالمی ورثہ فنڈ کی جانب سے  ان مقامات کی دیکھ بھال کے لئے کسی بھی قسم کی امداد یا منڈز نہیں مل رہے ہیں،اٹھارویں ترمیم کے بعد ان مقامات کی دیکھ بھال صوبائی حکومتوں کی زمہ داری ہے۔وزارت تعلیم نے بتایا کہ گزشتہ 10 سال کیدوران بیرون ملک ڈاکٹریٹ کیلئے2780 اسکالرشپ دی گئیں۔بتایاگیا کہ گزشتہ 10سال میں اسکالرشپ لینیوالے 172 اسکالر واپس پاکستان نہیں آئے۔ 

سینیٹ

مزید : صفحہ اول