قومی اسمبلی، رانا ثنا ء اللہ شہر یار آفریدی میں سخت جملوں کا تبادلہ 

    قومی اسمبلی، رانا ثنا ء اللہ شہر یار آفریدی میں سخت جملوں کا تبادلہ 

  



اسلام آباد(نیوزایجنسیاں)قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس کے آغاز میں رکن اسمبلی انجینئر صابر حسین قائم خانی نے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ایسا کوئی نوٹیفکیشن حکومت کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا ہے کہ حیدر آباد ڈرائی پورٹ کو بند کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کراچی کے بعد سندھ کا دیگر اضلاع کا واحد ڈرائی پورٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدر آباد ڈرائی پورٹس سے گزشتہ ایک سال کے دوران 84 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈرائی پورٹ پر کچھ مسائل سامنے آئے ہیں تاہم اب یہ بہتری کی جانب گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کسی طور اس کو بند نہیں کرے گی۔انجینئر صاحبر حسین قائم خانی نے کہا کہ حیدر آباد کسی زمانے میں بہت بڑی انڈسٹری تھی اور اس وقت وہاں پرنئی انڈسٹری کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت کی یقین دہانی پر یقین ہے۔رکن اسمبلی صلاح الدین نے کہا کہ حیدر آباد ڈرائی پورٹ کی بندش کی خبروں سے حیدرآباد کے تاجروں میں جو بے چینی پیدا ہوئی ہے حکومت کی یقین دہانی سے یہ بے چینی دور ہوجائے گی۔اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رکن اسمبلی جنید اکبر نے آئین کے آرٹیکل 223 میں مزید ترمیم کا بل پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بل پیش کرنے کا مقصد کسی بھی امیدوار کیلئے ایک سے زائد حلقوں سے انتخاب لڑنے پر قدغن لگانا ہے اور اگر کوئی امیدوار انتخابات لڑنا چاہئے تو وہ تمام اخراجات خود ادا کرے۔ایوان نے بل پیش ہونے کی منظوری کے بعد متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔رکن اسمبلی ساجدہ بیگم نے تنظیم ہائے تجارت ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانون میں سُقم ہے اور ایک سال کی مقررہ مدت میں آدھا سال انتخابات کی تیاریوں میں گزر جاتا ہے۔وزارت تجارت کی پارلیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ کی جانب سے مخالفت کے بعد سپیکر نے بل مؤخر کردیا ہے۔رکن اسمبلی جنید اکبر خان نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل51 میں مزید ترمیم کا بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر بہت سے علاقوں کی نمائندگی نہیں ہے اور ایسے گھرانوں کی خواتین منتخب ہو جاتی ہیں جو حقدار نہیں ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح اقلیتوں کی نمائندگی میں بھی اقلیتی جماعتوں کو نظر انداز کرکے مخصوص افراد سامنے آتے ہیں،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کی مخصوص اور اقلیتوں کی نشتوں پر انتخابات کرائے جائیں۔اس موقع پر سپیکر نے بل پیش کرنے پر ایوان کے رائے طلب کی تو ایوان نے اس کو متفقہ طور پر پیش کرنے کی منظوری دیدی جس پر سپیکر نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی ہدایت کی۔ایوان میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی امجد علی خان اور ریاض فتیانہ کی جانب سے غیر ملکی زرمبادلہ ایکٹ1972ء میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا گیا جس کی تحریک انصاف اور اپوزیشن  اراکین نے مخالفت کی۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے بھی ایوان کی تین بار رائے طلب کی تاہم ہر بار بل کی مخالفت میں زیادہ آوازیں آنے پر سپیکر نے بل مسترد کردیا۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے رکن اسمبلی ریاض فتیانہ اور امجد علی خان کو تمام بل ایک ساتھ پیش کرنے کی ہدایت کی۔تاہم اپوزیشن اراکین کی جانب سے اس کی شدید مخالفت کی گئی۔اس موقع پر پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان نے اپوزیشن اراکین سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔جس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے تمام بلز علیحدہ علیحدہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران نکتہ اعتراض پربات کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں وزیر مملکت انسداد منشیات شہریار آفریدی اور لیگی رہنما رانا ثناء آمنے سامنے آگئے،راناء ثنا اللہ نے شہریار آفریدی کو منشیات کیس میں قران پاک پر قسم اٹھانے کا چیلنج دیدیا جس پر وزیر مملکت نے  رانا ثناء کے ہاتھ سے قرآن پاک لیکر حلف دینا چاہا تو چیئرمین سید فخر امام نے اجلاس10منٹ کیلئے ملتوی کر دیا اور کہا کہ دونوں اطراف سے صفائی دی جا چکی، معاملہ ختم کریں،اب عدالت  کیس کا فیصلہ کرے گی یہاں قرآن پر فیصلہ نہیں ہوگا، ایم ایم اے کے مولانا صلاح الدین ایوبی نے شہریار آفریدی کے ہاتھ سے قرآن پاک لے لیا، شہریار آفریدی اور رانا ثناء اللہ کے درمیان جملوں کا تبادلہ بھی ہوا مگردیگر ارکان نے  دونوں کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور بات مزید بگڑنے نہ دی۔بعد ازاں شہریار آفریدی نے ایوان میں کھڑے ہوکر کہا کہ آگر رانا ثناء اللہ کیخلاف میں نے یا وزیر اعظم عمران خان نے  سازش کی ہو تو ہمارے اوپر اللہ کا عذاب اور قہر نازل ہو،رانا ثناء اللہ ہر جگہ قرآن لے کر پھر رہے ہیں اس پر عمل کریں، مرد کی طرح عدالت میں مقابلہ کریں، اے این ایف کی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، رانا ثناء اللہ اعلان کریں کہ 18تاریخ کو عدالت کیس کا ٹرائل شروع کرے رکاؤٹ نہیں بنیں گے، حق  اور سچ سامنے آجائیگا،انکے   2013سے2018 تک ایک ہزار ملین سے زیادہ کے اثاثے بڑھے  ،کیس کو منطقی انجامتک  پہنچائیں گے، ٹرائل شروع کریں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔لیگی رہنمارانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ  پچھلے ڈیڑھ سال سے  یہ لوگ حکومت  میں ہیں،اگر  ماڈل ٹاؤن کیس میں مزید تحقیقات کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں، ٹرائل سے پہلے تفتیش ہوتی ہے، اگر یہ ایوان میں کھڑے ہو کر کہہ دیں کہ اس کیس میں تفتیش کی گئی  یا میرا ریمارنڈ لیا ہے تو  میں اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہوں،میرے اوپر منشیات سمگلنگ گروہ کا الزام لگایا گیا، چھ ماہ گرفتار رہا ہوں کیا وزیر موصوف بتائیں گے کہ اس گروہ کے مزید تین چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے، اگر گرفتار کیا ہے تو ان سے میرا تعلق ثابت کریں، شہریار آفریدی  میرے مقدمے سے متعلق سب حقائق جانتے ہیں لیکن ادھر ادھر کی ہانک رہے ہیں،قسم کھائیں اور قر آن پر ہاتھ رکھ کر مجھ پر لگائے گئے الزامات دہرائیں،اس کے بعد میرے اور شہر یار آفریدی کے درمیان فیصلہ اللہ تعالیٰ کی ذات کر دیگی۔منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ذاتی وضاحت پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مملکت انسداد منشیات شہریارآفریدی نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ رانا ثناء اللہ ایوان میں موجود ہوتے، اے این ایف کا دوحہ میں کل ایک اہم اجلاس ہے میں وہاں جا رہا ہوں، اسلئے آج جواب دینا چاہتا ہوں، آئین اور قانون کی پاسداری پہلی ترجیح ہے، رانا ثناء اللہ قرآن پاک لیکر پریس کانفرنس کرتے ہیں اور ایوان میں بیان کرتے ہیں، معاملہ عدالتی ہے، ایوان کی اورارکان کی حفاظت ہماری ترجیح ہے، ماڈل ٹاؤن کے متاثرین ہاتھ میں قرآن پاک اٹھا کر سب سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ قرآن پر آکر ماڈل واقعہ پر بات کریں، رانا ثناء اللہ سی این سی سسٹم پر بات کرتے ہیں، یہ انہوں نے ہی پاس کیا تھا، ان کو احساس ہونا چاہیے 

کہ عدالت کا فیصلہ عدالت میں ہوگا، 63،62پر جب بحث ہوئی تو عمران خان نے کہا کہ احتساب مجھ سے شروع کریں اور کہا کہ منی ٹریل فراہم کی، رانا ثناء اللہ حساب نہیں دے رہے،ان کا خیال ہے کہ ان کے خلاف سازش ہے،اس کا فیصلہ پارلیمنٹ اور میڈیا نے نہیں کرنا عدالت نے کرنا ہے، آپ سات ماہ سے ٹرائل سے کیوں بھاگ رہے ہیں،کیوں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، تمام ثبوت ابھی عدالت میں پیش کر نے ہیں،ایان کیس،رانا مشہود اور ماڈل ٹاؤن کے واقعہ میں ویڈیو دستیاب ہیں، پھر سزا کیوں نہ ملی، ویڈیو کا سب سے زیادہ مقامات پر تجربہ کیا، میں نے کسی جگہ قسم نہیں اٹھائی،میں نے اور عمران خان نے کوئی ان کے خلاف سازش نہیں کی، آج کل وہ ہر جگہ قرآن لے کر پھر رہے ہیں، اس پر عمل کریں، مرد کی طرح عدالت میں مقابلہ کریں، اس موقع پر رانا ثناء اللہ ایوان میں داخل ہوئے، (ن) لیگ کے ارکان نے ڈیسک بجا کر اورشیر کے نعرے لگا کر انکا استقبال کیا۔ شہریارآفریدی نے کہا کہ آج آپ قرآن پاک لے کر نہیں آئے، آج معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں، آخری حد تک جائیں گے، حقیقت سامنے لائیں گے، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، اے این ایف کی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم نے دو نہیں ایک قانون کی بات کی تھی، رانا ثناء اللہ اعلان کریں کہ 18تاریخ ٹرائل شروع کریں، حق سامنے آئے گا، اللہ ہمیں حق کا ساتھ دینے کی توفیق دے۔ رانا ثناء اللہ نے میرے اوپر بات کی، میں یہاں اپنی ذاتی وضاحت کیلئے بات کر رہا ہوں، رانا ثناء اللہ کے 2013سے2018 تک ایک ہزار ملین سے زیادہ کے اثاثے بڑھے، ایوان کا تقدس بڑھے گا، وہ کہہ دیں کہ 18تاریخ کو ٹرائل شروع کریں،ظالم کے آگے ڈٹ جانا ہماری روایت ہے، گھبرانا نہیں ہے ،کیفر کردارتک کیس پہنچائیں گے، ٹرائل شروع کریں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ اس موقع پر چیئرمین سید فخر مام نے رانا ثناء اللہ کو مائیک دیا تو حکومتی ارکان نے ماڈل ٹاؤن کے نعرے لگائے۔ سید فخر امام نے کہا کہ کوشش کریں کہ ایک دوسرے کی بات سننے کی ہمت پیدا کریں۔ وزیر مملکت شہریار آفریدی کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن)پنجاب کے صدررانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیر موصوف ماڈل ٹاؤن کیس کے حوالے سے بے چینی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ ماڈل ٹاؤن کا کیس انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ عدالت میں 126 لوگوں کا ٹرائل ہو رہا ہے،کیس میں جن 15 سیاستدانوں کے نام ہیں عدالت نے ان 15 سیاستدانوں کو طلب نہیں کیا۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے یہ لوگ حکومت میں ہیں،اگر اس کیس میں مزید تحقیقات کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں ہم اس کیلئے بھی تیار ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے قسم سے متعلق طریقہ کار وضع کیا ہے۔ اگر کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے تو صرف اللہ کی قسم اٹھاتا ہے،میں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ اگر میں غلط ہوں یامیں نے زندگی میں کسی ہیروئن فروش سے تعلق رکھا ہو، کسی کی سفارش کی ہو تو اللہ کاقہر اور عذاب مجھ پر نازل ہو، جس دن اے این ایف نے گرفتار کیا مجھے تھانے میں 16 گھنٹے رکھا۔ تھانے میں مجھ سے برآمدگی تو دور کی بات ہے مجھ سے تفتیشی نے بات تک نہیں کی۔ اگر یہ تفتیشی کی مجھ سے بات چیت دکھا دیں تو پھر بھی اللہ کا قہر اور غضب مجھ پر نازل ہو۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس وقت پتا چلا کہ مجھ سے ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔ اے این ایف حکام سے بھی میری بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اوپر سے آرڈر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائل سے پہلے تفتیش ہوتی ہے، اگر یہ ایوان میں کھڑے ہو کر کہہ دیں کہ اس کیس میں پوری تفتیش کی گئی ہے یا میرا ریمارنڈ لیا ہے تو پھر بھی میں اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میرے اوپر الزام ہے کہ ایک گروہ جو افغانستان سے منشیات لا کر مجھے فیصل آباد میں دیتا ہے پھر میں فیصل آباد سے منشیات لاہور پہنچاتا ہوں جس کے بعد منشیات دنیا بھر میں جاتی ہے۔ میں چھ ماہ گرفتار رہا ہوں کیا وزیر موصوف بتائیں گے کہ اس گروہ کے مزید تین چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے، اگر گرفتار کیا ہے تو ان سے میرا تعلق ثابت کریں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ شہریار آفریدی بھی میرے مقدمے سے متعلق سب حقائق جانتے ہیں لیکن ادھر ادھر کی ہانک رہے ہیں، ان سے کہتا ہوں کہ قسم کھائیں اور قر آن پر ہاتھ رکھ کر مجھ پر لگائے گئے الزامات دہرائیں۔یہ یہاں کھڑے ہو کر قسم کھائیں کہ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر میں یہ کہتا ہوں کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو اللہ کا عذاب اور قہر مجھ پر نازل ہو۔اس کے بعد میرے اور شہر یار آفریدی کے درمیان فیصلہ اللہ تعالیٰ کی ذات کر دیگی۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے اسمبلی سٹاف سے کہہ کر قرآن پاک منگوا لیا اور رانا ثناء اللہ کے ہاتھ میں تھما دیا اس دوران چیئرمین سید فخر امام نے رانا ثناء اللہ کا مائیک بند کر دیا اور کہا کہ بات اس جانب بڑھ رہی ہے جس میں فیصلہ نہیں ہو سکے گا رولز کے مطابق دونوں اطراف سے صفائی دی جا چکی ہے۔ اب معاملہ ختم کریں اب عدالت اس کا فیصلہ کرے گی یہاں قرآن پر فیصلہ نہیں ہوگا۔ اس دوران وزیر مملکت انسداد منشیات شہریار آفریدی اپنی نشست سے اٹھے اور رانا ثناء اللہ کے پاس چلے گئے اور ان کے ہاتھ سے قرآن پاک لے لیا اور اپنی نشست پر آگئے۔شہریار آفریدی نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر بات کرنا چاہی تو چیئرمین سید فخر امام نے اجلاس کی کارروائی دس منٹ کیلئے ملتوی کردی۔ ایم ایم اے کے مولانا صلاح الدین ایوبی نے شہریار آفریدی کے ہاتھ سے قرآن پاک لے لیا۔ اس موقع پر شہریار آفریدی اور رانا ثناء اللہ کے درمیان جملوں کا تبادلہ بھی ہوا مگردیگر ارکان نے رانا ثناء اللہ اور شہریار آفریدی کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور بات مزید بگڑنے نہ دی۔ شہریار آفریدی اپنی نشست سے اٹھ کر وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کے پاس چلے گئے اور مشاورت کرتے رہے۔ بعد ازاں شہریار آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر ارکان سپیکر آفس میں چلے گئے۔بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہو اتو چیئرمین سید فخر امام نے شہریارآفریدی کو وضاحت کیلئے مائیک دیا،شہریارآفریدی نے اصرار کیا کہ وہ قرآن پاک اٹھا کر بیان دینا چاہتے ہیں۔ فخر امام نے کہا کہ رکن نے قرآن پاک اٹھا کر بات کرنے کی روایت ڈالی۔ شہریارآفریدی کو بات کرنے دیں، آئندہ ایسی روایت ڈالنی نہیں چاہیے۔ شہریارآفریدی نے کہا کہ اللہ کو حاضر ناظر رکھ کر کہتا ہوں رانا ثناء اللہ کے خلاف نہ میں نے اور نہ وزیراعظم نے کوئی سازش کی، اگر کی ہوتو اللہ کا قہر نازل ہو۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق،شہریارآفریدی، امین گنڈا پورکے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ سعد رفیق نے کہا کہ آپ براہ راست بات کریں، حکومت اوراپوزیشن ارکان کے درمیان شورشرابے کی وجہ سے ہوا اور ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر