مشرف کیس، ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرینگے، سید امجد شاہ، اعظم نذیر تارڑ

        مشرف کیس، ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرینگے، سید امجد شاہ، اعظم نذیر ...

  



لاہور(کامران مغل)سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل،اس کی کارروائی اورجنرل (ر) پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کے حکم کوکالعدم کرنے کے لاہورہائی کورٹ کے فل بنچ کے فیصلے کو پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین سید امجد شاہ نے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان بارکونسل کی طرف سے لاہورہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کاجائزہ لیاجارہاہے،اس ایشوکوپاکستان بارکونسل کے ایجنڈا میں شامل کرلیا گیاہے،جس پر16جنوری کے اجلاس میں غور کیاجائے گا،انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا،پرویز مشرف کے پاس خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کاحق موجود ہے،سب جانتے ہیں قانون کیاہے، لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہونے اور حکومت کی طرف سے اس کی مخالفت نہ کرنے سے یہ بات آشکار ہوگئی ہے کہ پردہ کے پیچھے کیا ہورہاہے،انہوں نے کہا کہ یہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ افسوس ناک ہے،اس کیس کے حوالے سے سینئر قانون دان اعظم نذیر تارڑنے کہا کہ اس کیس میں حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار پر سوال ہی نہیں اٹھایا،یہ سرکار اور ملزم کے باہمی گٹھ جوڑ کا کیس ہے،جب حکومت اور ملزم ایک ہی پیج پر ہوں تو پھر ایسے ہی فیصلوں کی توقع رکھی جانی چاہیے،پاکستان بارکونسل کے رکن محمد احسن بھون نے فیصلے پر ہنستے ہوئے کہا ”نوکمنٹس“اس سلسلے میں سینئر قانون دان نعیم چودھری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "دی کریمینل لاء امینڈمنٹ (سپیشل کورٹ)ایکٹ "مجریہ 1976ء کے سیکشن 6(1)کے تحت خصوصی عدالت کوٹرائل کے حوالے سے ہائیکورٹ کے اختیارات حاصل ہیں،اسی قانون کے سیکشن 12(1)میں کہاگیاہے کہ کوئی عدالت اس خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتی،اسی طرح خصوصی عدالت کے احکامات،فیصلے اور سنائی گئی سزاؤں کا کوئی عدالت یا کوئی دوسری اتھارٹی جائزہ نہیں لے سکتی،"دی کریمینل لاء امینڈمنٹ (سپیشل کورٹ)ایکٹ " مجریہ 1976ء کے سیکشن 12(3)کے مطابق خصوصی عدالت کے حتمی فیصلے کے خلاف 30دن کے اندرسپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔لاہورہائی کورٹ کو خصوصی عدالت کے معاملے میں مداخلت کااختیار تھااور نہ ہی لاہورہائی کورٹ اپیلٹ کورٹ کے اختیار ات استعمال کرسکتی تھی،جنرل (ر) پرویز مشرف کو خصوصی عدالت کے فیصلے پر جوتحفظات تھے وہ انہیں سپریم کورٹ میں اٹھاتے،انہوں نے کہا کہ جو حکومت پرویز مشرف کو بچانے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خود درخواست دائر کرسکتی ہے اس سے لاہور ہائی کورٹ میں قانون کے مطابق بحث کی توقع کیسے کی جاسکتی تھی۔سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری آفتاب باجواہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آئین کے عین مطابق ہے،شفاف ٹرائل ہر ملزم کا حق ہے،کسی قانون کاماضی سے اطلاق نہیں ہوسکتا،پرویز مشرف کے 2007ء کے اقدام کو 2010ء میں آئینی ترمیم کے ذریعے جرم بنایاگیا، انہوں نے مزید کہا کہ 2007ء کے وزیرقانون زاہد حامد اور وزیراعظم شوکت عزیز کو اس کیس میں ملزم نامزد نہ کرنا حکومت کی بدنیتی تھی، اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کامقصدصرف پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرنا تھا،آفتاب باجوہ نے کہا کہ وہ خصوصی عدالت کے سربراہ مسٹر جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف فوجداری کارروائی کے لئے عدالت سے رجوع کررہے ہیں،ایک دو روز میں ان کے خلاف اندراج مقدمہ کے لئے 22اے اور 22بی کی درخواست دائر کی جائے گی،جسٹس وقار احمد سیٹھ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی نعش گھسیٹنے اور اسے پھانسی دینے کی جوبات کی ہے وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ297کے تحت جرم ہے۔

وکلاء

مزید : صفحہ آخر