رویوں میں تبدیلی یقینی بنائیں، کالی بھیڑوں کی محکمے میں گنجائش نہیں، آئی جی پنجاب 

        رویوں میں تبدیلی یقینی بنائیں، کالی بھیڑوں کی محکمے میں گنجائش نہیں، ...

  



لاہور(کرائم رپورٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر کی صدارت میں سنٹرل پولیس آفس میں ویڈیولنک کرائم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبے کے تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز نے بذریعہ ویڈیولنک شرکت کی۔ اجلاس میں 2019 میں صوبے کے مجموعی کرائم گراف اور پولیس کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جبکہ2020کے لئے اہداف کا تعین بھی کیا گیا۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ ماڈرن پولیسنگ اور سمارٹ ورکنگ کے حوالے سے شروع کئے تمام پراجیکٹس کی کامیابی شہریوں کے ساتھ شائستہ رویے،فرائض منصبی کی بہترین ادائیگی اور عوام کو فوری رسپانس سے مشروط ہے لہذا تمام افسران قانون کے یکساں نفاذ کو یقینی بناتے ہوئے سروس ڈلیوری میں بہتری اور پولیس رویوں میں تبدیلی کیلئے تھانوں اور دفاتر کے اچانک دوروں کو شعار بنائیں اور فرنٹ ڈیسک، آپریشنزاور انویسٹی گیشنزکے شعبوں میں متعین سٹاف کی ورکنگ کا بغور جائزہ لیتے ہوئے سنٹرل پولیس آفس کے جاری کردہ ایس اوپیز کے مطابق فرائض کی انجام دہی کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی کار گذاریوں کو بڑھا کر دکھانے یا چھپانے کا وقت گذر گیا کیونکہ حکومت، میڈیا اور عوام کی نظریں ہمہ وقت ہم پر ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ سنگین جرائم میں ملوث ڈکیت گینگز کے مفرور ملزمان اور ساتھیوں کی گرفتاری پر بطور خاص فوکس کیا جائے جبکہ پولیس حراست سے فرار سمیت تمام پیشہ ورانہ خلاف ورزیوں پرافسران و اہلکاروں کو ڈسپلن میٹرکس کے تحت سزائیں دی جائیں۔انہوں نے مزید کہاکہ شہریوں کے ساتھ بہتر رویہ، میرٹ کی پاسداری اور پبلک سروس ڈلیوری کو بہتر بنا کر ہی پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا مزید بہتر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ بچوں اور خواتین کے ساتھ بداخلاقی کے واقعات میں ڈی پی اوز خود لازمی موقع پر پہنچیں اور ایسے کیسز کی تفتیش ایس ڈی پی او یا ایس ایچ او پر نہ چھوڑی جائے بلکہ ہر صورت ڈی پی اوز اپنی نگرانی میں مقدمات کی تفتیش مکمل کروائیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ صوبے بھر میں خطرناک اشتہاری ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ قتل، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے جدیدٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔انہوں نے مزیدکہاکہ تعلیمی اداروں کے گردونواح میں منشیات فروشی میں ملوث عناصر کو پابند سلاسل کرنے کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی لائی جائے۔ آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ ملزمان کو غیر قانونی حراست میں رکھنے والے افسران واہلکاروں کسی رعائیت کے مستحق نہیں کیونکہ انہی کالی بھیڑوں کی وجہ سے پوری فورس کو تنفید کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہذا تمام افسران پولیس حراست میں تشدد سے ہلاکت کے ذمہ داران کے خلاف محکمانہ اور قانونی کاروائی میں ہر گز تاخیر نہ کریں بصورت دیگر انہیں بھی جواب دہ ہونا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں غیر قانونی اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لائی جائے اور دھاتی وکیمیکل ڈوراور پتنگوں کی تیاری میں ملوث افراد کے خلاف کاروائیاں نظر آنی چاہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزسنٹرل پولیس آفس میں پہلی ویڈیو لنک کرائم میٹنگ کی صدارت کے دوران صوبے کے تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ دیگر اضلاع میں پولیس ٹیمیں بھی اسی طرز پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لائیں اور جرائم میں ملوث بڑے مگر مچھوں کے خلاف ایکشن میں ہرگز تاخیر نہ کی جائے۔میٹنگ میں ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان، ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی اظہر حمیدکھو کھر، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز انعام غنی، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس راؤ سردار، ایڈیشنل آئی جی ایلیٹ فورس شاہد حنیف،کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری ایڈیشنل آئی جی کنور شاہ رخ، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ بی اے ناصر، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد طاہر رائے، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ زعیم اقبال شیخ، ڈی آئی جی ایس پی یو عمر شیخ، ڈی آئی جی آئی ٹی غلام محمود ڈوگر، ڈی آئی جی ٹریننگ سلیمان سلطان رانا، ڈی آئی جی لاجسٹکس کیپٹن (ر) فیصل علی رانا، ڈی آئی جی ویلفیئر شارق کمال صدیقی،ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب ریاض نذیر گاڑا، ڈی آئی جی ٹیلی اینڈ ٹرانسپورٹ شاہد جاویدموجود تھے جبکہ صوبے کے تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوزنے بذریعہ یڈیولنک شرکت کی۔ 

آئی جی پنجاب

مزید : علاقائی