بے آبرو بیانئے

بے آبرو بیانئے
بے آبرو بیانئے

  



سابق وزیر اعظم نواز شریف کا علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانا حکومت کے لئے دردِ سر بنا ہوا ہے کیونکہ جب لوگوں کو ٹی وی سکرینوں پر نواز شریف ہشاس بشاش نظر آتے ہیں، وزیراعظم عمران خان کا کرپشن کے خلاف بیانیہ بے آبرو ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل جب نواز شریف نے لاہور ایئرپورٹ سے اڑان بھری تھی تو عمران خان سمیت ان کے حامی اس بات پر جز بز ہو رہے تھے کہ اتنی خراب طبیعت کے ساتھ نواز شریف کیونکر چل کر ایئرکرافٹ میں داخل ہوئے ہیں اور پھر ایئر ایمبولینس کے اندر کے ماحول کی تصویر نے تو جیسے تن بدن میں آگ لگادی تھی اور وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت اور اپنے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے ڈاکٹروں کی نیت پر شک کرتے پائے گئے تھے۔ اب بھی جب نواز شریف کی لندن میں ایک ریستوران میں تصویر وائرل ہوئی ہے، تب سے حکومت کو چین نہیں ہے اور ڈاکٹر یاسمین راشد چاہتی ہیں کہ کسی طرح لندن کے ڈاکٹروں سے رپورٹ مل جائے کہ نواز شریف کی طبیعت واقعی خراب ہے اور وہ بہانے سے ملک سے باہر نہیں گئے ہیں۔ 

ایسا لگتا ہے کہ حکومت کرپشن کے خلاف اپنے بیانئے کی ساکھ بچانے کے لئے تگ ودو کررہی ہے۔ اس بات کو ان کے سیاسی مخالفین بھی سمجھتے ہیں اور شاید اسی لئے نواز شریف کی ریستوران والی تصویر وائرل ہوئی ہے (یا کروائی گئی ہے) تاکہ پی ٹی آئی کے بیانئے کی گت بنائی جائے۔ ایسے میں حکومت کے اتحادیوں کی پریس کانفرنسوں کو سونے پر سہاگہ ہی کہا جاسکتا ہے۔

ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بل کی حمایت کرکے خود نون لیگ کا بیانیہ بھی بے آبرو ہوچکا ہے اور لوگ کھلے بندوں پوچھتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو کے بیانئے کا کیا بنا؟ گویا کہ ان دنوں بیانیوں کے بے آبرو ہونے کی ہوا چل رہی ہے جسے چیئرمین نیب نے ہواؤں کا رخ بدلنے سے تعبیرکیا تھا۔ جس انداز میں پی ٹی آئی، نون لیگ اور پیپلز پارٹی بیانیوں کا دلیہ بنایا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ آئندہ کے سیٹ اپ میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے شیروشکر رہیں گی اور پانچ سال بعد جس دیئے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا کے مصداق وہی دو پارٹیاں آمنے سامنے ہوں گی جن کو عوامی پذیرائی حاصل ہوگی۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ملک میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی ہونے والی ہے؟ پی ٹی آئی میں گھس بیٹھیوں سے بات کرو تو وہ تو برملا کہتے پائے جاتے ہیں کہ یونہی تو نہیں نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے مدت ملازمت میں توسیع کے بل پر دستخط کرکے اسے قانونی شکل دے دی۔ ان حلقوں کے نزدیک اگر حکومت کی فوری تبدیلی نہیں ہورہی تو بھی اپوزیشن کو یقین دہانی کروادی گئی ہے کہ ان کے خلاف کرپشن سمیت دیگر مقدمات ختم کردیئے جائیں گے اور ان کے زیر عتاب رہنے کے دن جلد ختم ہو جائیں گے۔ ادھر شہباز شریف کو لندن میں پاکستانی میڈیا مبارکبادیں دے رہا ہے کہ وہ جلد ہی وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر براجمان ہونے والے ہیں اور بیچاے شہباز شریف اس سوال سے یوں بچتے پھر رہے ہیں کہ اگر قبل از وقت لوگوں کو پتہ چل گیا تو ان سے ایک مرتبہ پھر یہ گاڑی چھوٹ جائے گی۔ اسی لئے انہوں نے ازراہ مذاق کہا ہے کہ ان کو یہ یقین دہانی تو گزشتہ بیس برسوں سے کروائی جا رہی ہے۔ اس پر جب رپورٹر نے کہا کہ نہیں اس بار بات سنجیدہ لگتی ہے  تو انہوں نے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا کہ ذرا پیچھے ہٹ جایئے، گاڑی کا دروازہ بند کرنے دیجئے!

جس وقت نواز شریف کو اقتدار سے ہٹایا جارہا تھااور انتخابات میں ان کی ہار کو یقینی بنانے کا اہتمام کیا جارہا تھا تب عوا م خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی، آج بھی جب پی ٹی آئی کے کرپشن کے خلاف بیانئے کی گت بنائی جارہی ہے اور ایم کیو ایم اور بی این پی مینگل گروپ حکومت کو ٹف ٹائم دے رہا ہے تو بھی عوام خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ تب عوام ووٹ کو عزت دو کے بیانئے کو سچ مان رہی تھی اور انتخابات کے بعد کرپشن کے خلاف عمران خان کے بیانئے کو سچ مان بیٹھی تھی۔ مگر ڈیڑھ سال کے اندر ہی نہ ووٹ کو عزت مل سکی اور نہ ہی کرپشن کا خاتمہ ہوسکا۔ دوسرے لفظوں میں عوام کی امید کا جنازہ نکل گیا اور لوگوں کے پاس کہنے سننے کو کچھ نہیں بچا ہے، اوپر سے عدلیہ کے فیصلے علیحدہ سے عوام کا منہ چڑ ا رہے ہیں۔ ایک ایسی بے یقینی ہے کہ کاروبار بھی ٹھپ پڑے ہیں، اللہ پاکستان پر رحم فرمائے!

مزید : رائے /کالم


loading...