ون ”جن کے لہجوں میں بانکپن تھا“ َ۔۔۔فواد حسن فواد ریٹائر ہو گئے 

ون ”جن کے لہجوں میں بانکپن تھا“ َ۔۔۔فواد حسن فواد ریٹائر ہو گئے 
ون ”جن کے لہجوں میں بانکپن تھا“ َ۔۔۔فواد حسن فواد ریٹائر ہو گئے 

  

محسن گورایہ

وفاقی سروس کے پندرھویں کامن کے روشن ستارے،انتہائی اپ رائٹ اور اعلیٰ پائے کے پروفیشنل  بیوروکریٹ فواد حسن فواد گزشتہ روز ریٹائر ہوگئے۔ انکی ریٹائرمنٹ پر انکو تمغہ ا متیا ز یا ایوارڈ دینے کی بجائے جیل کی سلاخوں سے سجا ہوا ہار پہنایا گیا ہے۔ ایک دوسرے بہترین افسر احد خان چیمہ کے ہمراہ وہ نیب کی شائد طویل ترین ایسی قید کا ریکارڈ قائم کر ر ہے ہیں، جس کا جرم  ان سے سر زد ہوا نہ نیب  آج تک کوئی الزام ثابت کر  سکا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں  آج تک ضمانت  پر رہا کرنا بھی کسی عدالت  کیلئے شائد بہت محال ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل یا انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بھی یہ ظلم نظر  نہیں آ رہا۔کہا جا رہا تھا کہ انکی ریٹائرمنٹ  جیل کے اندر کرائی جائے گی تاکہ کام کرنے والے افسر آئیندہ کام کرنے سے ہاتھ کھینچ لیں  اور یہی ہوا۔جن کے کاموں یا ان کے ساتھ کام کرنے کی سزا  انہیں دی جا رہی ہے  وہ ولائیتی ریستورانوں میں کھانے کھا رہے ہیں آزاد ہواوں میں اپنے عزیز پیاروں کیساتھ مزے کر رہے ہیں،مرے تھے جن کیلئے وہ رہے وضو کرتے کے مصداق آج فواد اور احد چیمہ کے بیوی بچے کسی بڑے لیڈر کو یاد نہیں۔ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران،ان کے نو رتنوں میں شائد ان کا پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد وہ اکیلا ہوتا تھا جو انہیں اداروں کیساتھ محاذ آرائی سے روکتا تھا۔فواد اپنے بیج میٹس میں  شار پ مائینڈڈ تھا،فوری فیصلے کرنیوالا،نائینٹی ایٹ میں اسے لاہور جیسے شہر کا ڈپٹی کمشنر لگایا گیا تو وہ ابھی گریڈ اٹھارہ میں تھا۔مجھے یاد ہے اس وقت اے زیڈ کے شیر دل چیف سیکرٹری تھے مگر ان سے زیادہ فواد کی تعریف پرویز مسعود کر رہے تھے جن کو شیردل صاحب نے ری پلیس کیا تھا۔ان کا کیرئر شاندا ر اور بے داغ رہا۔میاں صاحبان کے ادوار حکومت میں واحد افسر تھے جو سیاسی و حکومتی عہدے د اروں یہاں تک کے بڑے چھوٹے میاں صاحب یعنی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے بھی اختلاف کی جرات کر لیتے تھے حالانکہ اس وقت بڑے بڑے نامی گرامی بیوروکریٹ میاں صاحبان کو قائد محترم کر پکارتے اور قائد اعظم ثانی کا درجہ دے کر خوشامد کی آخری حدیں بھی پار کر جا تے تھے فواد بھی انسان ہیں ان کیساتھ انسانی ہمدردی کیوں نہیں ہو سکی؟ ان کا قصور تو صرف اتنا تھا نواز شریف اور شہباز شریف کیساتھ کام کیا کیونکہ یہ بہترین افسر تھے اور انہیں اپنے کام پر دسترس حاصل تھی۔ یہ بھی سیاسی لیڈر ہوتے تو  ان کے حق میں بھی مظاہرے ہوتے۔ ان  کے خلاف تو  نیب نے ریفرنس دائر کئے   جس کے بعد   ہر پیشی پر ایک نئی تاریخ ملتی ہے اور  وہ سالوں سے  جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی بسر کر رہے ہیں، راقم ذاتی طور پر جانتا ہے کہ وہ  بھی  کئی امراض کا شکار ہیں مگر نہ ان کے علاج پر توجہ ہے نہ ان کے خلاف کچھ ثابت کیا جا سکا ہے۔اس کے باوجود وہ  پامردی اور ہمت سے جیل کاٹ رہے ہیں۔نہ جھکے نہ گواہ بنے  پونے دو سال پہلے انہیں آ شیا نہ ہاوسنگ سکیم کے کیس میں گرفتار کیا گیا عدالتوں کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کی مگر ضمانت ملی نہ رہائی۔جیل نے انکی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی ہے۔اچھی شاعری ان پر وارد ہو رہی ہے۔امید ہے دوست احباب جلد ان کا کلام انہیں سامنے بٹھا کر سنیں گے۔ان کا یہ شعر قابل غور ہے 

فواد میرے وطن کی تاریخ،ایک  جملے میں ہے فروزاں  

وہ جن کے لہجوں میں بانکپن تھا،انہی کے سینوں میں تیر ٹھہرے

محسن گورایا

مزید :

تجزیہ -رائے -