سکول وکالج کے طلباء میں ڈپریشن کامرض تیزی سے بڑھنے کاانکشاف

  سکول وکالج کے طلباء میں ڈپریشن کامرض تیزی سے بڑھنے کاانکشاف

  



ملتان (اے پی پی)معروف ماہر نفسیات مریم رزاق نے کہاہے کہ نفسیاتی مسائل کا شکار افراد کے خیالات،عادات، عمل، ردعمل،حتٰی کہ روز مرہ معاملات میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 45کروڑ سے زیادہ افراد کسی نہ کسی نفسیاتی مرض کا شکار ہیں۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تعداد صرف ان افراد کی ہے جن کا ریکارڈ موجود ہے(بقیہ نمبر7صفحہ12پر)

۔ جبکہ بہت بڑی تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جن کا علاج کیا ہی نہیں جاتا۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر چار میں سے ایک شخص کسی نہ کسی حد تک دماغی یا نفسیاتی مرض کا شکار ہوتا ہے۔جس کے لیے اسے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔نفسیاتی مسائل یوں تو کئی ہیں لیکن ڈپریشن عام ہے۔ طبی اصطلاح میں افسردہ موڈ کو ڈپریشن کہا جاتا ہے جس کی حالت کم از کم 2ہفتہ رہتی ہے۔ڈپریشن کسی بھی عمر کے افراد کو ہو سکتا ہے۔آج کل سکول وکالج کے طلباء میں ڈپریشن کا مرض بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر ڈپریشن کی کیفیت 8ہفتے سے زیادہ جاری رہے تو مریض کو سائیکو تھراپی کے علاوہ ادویات دینے کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔نفسیاتی مسائل کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات کو اچانک بند نہیں کیا جا سکتا بلکہ انہیں بند کرنے کے لیے کچھ ہفتوں یا ماہ میں مقدار کو بتدریج کم کیا جاتا ہے۔اور پھر بالکل معمولی مقدار کے چند ہفتے بعد اسے بند کیا جاتا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...