دو عالمی جنگوں کے بعد مسلمانوں کا واحد کارنامہ تخلیق پاکستان ہے: جاوید جبار

دو عالمی جنگوں کے بعد مسلمانوں کا واحد کارنامہ تخلیق پاکستان ہے: جاوید جبار

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)معروف دانشور، مصنف اور سابق وفاقی وزیر جاوید جبار نے کہا ہے کہ دو عالمی جنگوں کے بعد مسلمانوں کا صرف ایک کارنامہ ہے اور وہ ہے تشکیل پاکستان لیکن اس کے بعد اندھیرا ہے وجہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں فروغ علم سے توجہ ہٹا لی گئی اسی لیے شہید حکیم محمد سعید یہ پیغام دیتے رہے کہ نئے علم کو مسلم معاشروں میں نافذ کرنے کے لیے اجتہاد کرو اور عقل کو استعمال کرو۔ وہ گزشتہ روز بطور مہمان خصوصی ”جو چمن سجا کے چلے گئے“ کے موضوع پر ہمدرد نونہال اسمبلی کراچی کے اجلاس سے بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینتہ الحکمہ، کراچی میں خطاب کر رہے تھے۔ یہ اجلاس حکیم محمد سعید کے 100 ویں یوم ولادت 9۔ جنوری2020 کو انہیں تین نسلوں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ جاوید جبار نے مزید کہا کہ تعلیم اور عقل و دانش کو پھیلائے بغیر مسلم معاشروں کو ترقی یافتہ اور خوشحال نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کیوں اکیسویں صدی میں کوئی حکیم صاحب جیسا ”مجسمہ انسانیت“ دکھائی نہیں دے رہا ہے اور مسلم اْمہ کیوں نیچے اور نیچے جا رہی ہے، اگر ہمیں ایک ملت بننا ہے تو ہمیں ماضی کے کچھ تلخ حصوں کو بھول جانا ہوگا اورمسلم معاشرے کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لیے اعتدال پسندی، روشن خیالی اور اجتہاد سے کام لینا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ بھی ہمیں اجتہاد کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کو ایک بڑا خطرہ جدید ادویہ سے بھی ہے، حکیم صاحب نے اس ضمن میں عالمی سوچ کو بدلنے کی کوشش کی اور عالمی ادارہئ صحت سے متبادل طریقہئ علاج کو تسلیم کرایا۔ وہ پکے پاکستانی تھے اور ان کی وطن پرستی لازوال ہے اور اس وطن پرستی ہی میں ہماری بقا، سلامتی اور خوشحالی کا راز پنہاں ہے۔ مہمانِ اعزازی اور سندھ کے سابق سیکریٹری داخلہ شفیق الرحمن پراچہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید نے اس راز کو پا لیا تھا کہ خدا کے بندوں کی خدمت سے ہی خدا کی خوشنودی کا راستہ ملتا ہے۔ وہ معاشرہ ساز پکے، کھرے اور سچے مسلمان تھے اور ان کی بلند نگاہی ماضی، حال اور مستقبل کو دیکھ سکتی تھی، ان کی زندگی غیرمعمولی تھی اور وہ ہجرت پرمجبور نہیں بلکہ مامور کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی کردار سازی اور قوم سازی کے لیے ہمیں حکیم محمد سعید جیسے اور بھی لوگ درکار ہیں۔ وہ سرسید، اقبال اور قائد اعظم کا تسلسل تھے۔ انہوں نے کہا کہ انسان جب چیزوں کی قدر و قیمت بڑھاتا ہے تو وہ دھات سے آئینہ اور پانی سے آب حیات بنا لیتا ہے حکیم صاحب نے ایک ویرانے کو مدینتہ الحکمہ کی شکل میں گل و گلزار اور علم و تعلیم کا شہر بنا دیا، غربت اختیار کرو، پاکستان سے محبت کرو، پاکستان کی تعمیر کرو جیسے زریں اقوال دیئے اور بادشاہی میں فقیری کی۔ انہوں نے نونہالوں اور نوجوانوں سے محبت کی اور انہیں حب الوطنی اور تعمیر وطن کا جذبہ دیا، وہ زندہ اور تابندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ ڈاکٹر بابر خان، جو اسسٹنٹ اکا?نٹینٹ جنرل، حکومت سندھ ہیں اور ہمدرد پبلک اسکول کے طالب علم رہے ہیں، نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید کے قائم کردہ ہمدرد پبلک اسکول کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے کہ وہ آج ایک اہم سرکاری عہدے پر فائز ہیں۔ حکیم صاحب نے جو بڑے کام کیے ان کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں، وہ جو باتیں کرتے تھے ان میں وزن ہوتا تھا، وہ ایک عظیم و لاجواب انسان تھے۔ ڈاکٹر مریم اکبر، جو ہمدرد نونہال اسمبلی کی اسپیکر رہی ہیں، نے کہا کہ وہ اپنے کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ وہ ہمدرد نونہال اسمبلی سے منسلک رہی ہیں، جہاں ان کی صلاحیتوں کو صیقل کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکیم صاحب استاد، طبیب، معالج، ادیب و مفکر سبھی کچھ تھے، ان کا لگایا ہو پودا ”ہمدرد پاکستان“ ایک درخت بن کر سب کو پھل، پھول اور سایہ دے رہا ہے۔ ان کے سینے میں اللہ کا کلام تھا، انہوں نے اربوں کا سرمایہ قوم کے نام کر دیا، برسوں انہیں گلشن کی فضا یاد کرے گی۔ افسوس یہ ہے کہ قوم کا ایسا بڑا محسن و مسیحا نہ رہا۔ ان کے قاتل نہیں جانتے تھے کہ لہو بولتا بھی ہے، شہید پاکستان زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ ایسا شخص تھا جو ملک کی تقدیر بدل رہا تھا۔ 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...