33 لاکھ 73ہزار ٹن گندم ذخائر کم ہونیکا انکشاف، بحران کاخدشہ

33 لاکھ 73ہزار ٹن گندم ذخائر کم ہونیکا انکشاف، بحران کاخدشہ

  



ٹبہ سلطان پور(نمائندہ پاکستان) ملک میں گندم بحران پیدا ہونے کاخدشہ گذشتہ سال کی نسبت 33لاکھ73ہزار ٹن گندم کے ذخائر کم ہو نے کا انکشاف ہوا ہے، گندم کے ذخائر کم ہو نے کی وجہ سے گذشتہ گندم سیزن میں حکو مت کی جانب سے پاسکو مراکز اور فوڈ مراکز میں گندم کی کم خریداری ہے ذخائر کم ہو نے کے باعث گندم اور آٹے کے نرخ بڑھنا شروع ہوگئے گندم2ہزار روپے فی من (بقیہ نمبر38صفحہ12پر)

تک جا پہنچی تفصیل کے مطا بق حکومت کی جانب سے گذشتہ گندم سیزن میں سرکاری سطح پر گندم کی خریداری میں عدم دلچسپی کے باعث پنجاب سمیت ملک میں گندم کے ذخائر گذشتہ سال کی نسبت 33لاکھ73ہزار ٹن سے بھی زائد کم ہونیکا انکشاف سامنے آیاہے گندم کے ذخائر میں گذشتہ سال کی نسبت کمی کی وجہ اوپن خریداری بھی بتائی گئی ہے جس کی وجہ سے کاشتکار وں نے اپنی گندم سرکاری پاسکو اور فوڈ مراکز پر فروخت کر نے کی بجائے برائے راست مل انتظامیہ کو فروخت کرنا ہے جس کی وجہ سے ابھی ہی سے پاسکو اور فوڈ مراکز گندم اسٹاک نہ ہونے کے باعث ویران ہوچکے ہیں گندم میں کمی کی وجہ سے نئی آنے والی گندم کی فصل سے قبل آٹے اور گندم کا فی من ریٹ بڑھنا شروع ہو گیا ہے ذرائع کے مطا بق گندم کی فی من2آہزار روپے اور23سو روپے تک جاپہنچا ہے جس کی وجہ سے غریب عوام گندم اور آٹے کے نرخ بڑھنے کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلاہوچکے ہیں عوام کا کہنا ہے کہ غریب دیہاڑی دار شخص تین ٹائم روٹی کھا نے کے لئے صرف آٹا ہی خرید سکتا ہے گھی،چینی، مرچیں، دالیں اور روز مرہ کی دوسری ضروریات کہا سے پوری کی جائیں موجود ہ حکو مت نے عوام کو جیتے جی مار دیا ہے عوام نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے گندم اور آٹے کے بڑھتے ہوئے نرخوں کوکنٹرول کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی کر نے والوں کے خلاف کاروائی کر نے کا مطا لبہ کیاہے۔

بحران خدشہ

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...